تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی کا امریکا پر "سیف زون" سے متعلق سمجھوتے کی پاسداری پر زور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م KSA 10:36 - GMT 07:36
ترکی کا امریکا پر "سیف زون" سے متعلق سمجھوتے کی پاسداری پر زور
ترکی میں قید کرد رہ نما عبداللہ اوجلان
العربیہ ڈاٹ نیٹ ـ جوان سوز

شمال مشرقی شام میں ترکی کو مطلوب مجوزہ "سیف زون" تقریبا دو ہفتوں سے امریکا اور ترکی کے درمیان بات چیت کا محور ہے۔ اگرچہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن دریائے فرات کے مشرق میں واقع علاقوں میں کرد جنگجوؤں پر زمینی حملے کی دھمکی دے چکے ہیں تاہم اس بات چیت کے سبب وہ اپنے ارادے پر عمل سے رک گئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے واشنگٹن اور انقرہ کی جانب سے ایک مشترکہ آپریشنز سینٹر کے قیام پر آمادگی کے باوجود ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکا اور ترکی کے نقطہ ہائے نظر میں ابھی تک بڑا اختلاف موجود ہے۔

انقرہ کی شرط ہے کہ مجوزہ "سیف زون" شام کی سرحد کے اندر 30 سے 40 کلومیٹر تک ہو۔ تاہم واشنگٹن کی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز اس امر کو مسترد کرتی ہیں۔ ان فورسز میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس تنظیم نمایاں ترین ہے۔

اس سیف زون کے قیام سے انقرہ کی غرض آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا ہے تا کہ کرد اکثریت والے علاقوں کو ایک دوسرے سے علاحدہ کیا جا سکے۔ اسی طرح ترکی اپنے اور کرد جنگجوؤں (جن کو وہ دہشت گرد شمار کرتا ہے) کے درمیان ایک فاصلاتی حد قائم کرنا چاہتا ہے۔

انقرہ کا زور ہے کہ شام کے شہر تل ابيض کو اس "سیف زون" میں شامل کیا جائے جب کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی شرط ہے کہ یہ "سیف زون" گنجان آباد شہروں میں نہیں بلکہ صحرائی اراضی کے بیچ ہونا چاہیے۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) واقعتا ترکی کی سرحد کے نزدیک اپنے تمام زیر کنٹرول علاقوں میں 5 سے 14 کلو میٹر کے درمیان ایک سیف زون کے قیام پر آمادہ ہو چکی ہے۔ اس رضامندی کا مقصد خود کو ترکی کے کسی بھی ممکنہ حملے سے محفوظ رکھنا ہے۔

ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آکار نے جمعے کے روز بتایا کہ ترکی اور امریکا کے درمیان فضائی میدان میں نگرانی اور رابطہ کاری کے علاوہ اس سلسلے میں کئی امور پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ مرکز آئندہ ہفتے اپنی پوری گنجائش کے ساتھ کام شروع کر دے گا۔

دوسری جانب ترکی میں قید کرد رہ نما عبداللہ اوجلان کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی شام کے "مسئلے" کو "جمہوری" طریقے سے حل کیا جائے۔ اوجلان سے ملاقات کرنے والے اُن کے بھائی محمد نے جمعے کے روز بتایا کہ 1999 سے جزیرہ ایمرالی میں قید کرد رہ نما کا کہنا ہے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اوجلان نے غالب گمان ظاہر کیا کہ شامی سرزمین پر ترکی کی کسی بھی قسم کی مداخلت سے مزید نقصان پہنچے گا اور یہ انقرہ کے لحاظ سے بھی کوئی حل نہ ہو گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند