تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام: ترکی کے حمایت یافتہ گروپ ادلب میں داخل، بشار اور روس کی فوج کی بم باری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 17 ذوالحجہ 1440هـ - 19 اگست 2019م KSA 17:34 - GMT 14:34
شام: ترکی کے حمایت یافتہ گروپ ادلب میں داخل، بشار اور روس کی فوج کی بم باری
ادلب۔ [فائل فوٹو]
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے پیر کے روز بتایا ہے کہ اس وقت شام کے شمال مغرب میں ترکی کی عسکری گاڑیوں کے نزدیک ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہے۔

المرصد کے مطابق ترکی کا حمایت یافتہ ایک عسکری قافلہ ادلب کے جنوبی دیہی علاقے میں خان شیخون قصبے کے اطراف ایک پوائنٹ قائم کرنے پر کام کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کی فوجی گاڑیوں کی سپورٹ کے ساتھ گروپوں کا ایک قافلہ پیر کے روز ادلب میں داخلہ ہوا تاکہ علاقے پر بشار کی فوج کے حملوں کے خلاف اپوزیشن کے جنگجوؤں کی مدد کی جا سکے۔

المرصد نے بتایا کہ بشار حکومت کی فورسز اور روس نے قافلے کو پیش قدمی سے روکنے کے لیے بم باری کی۔

اپوزیشن کے زیر انتظام میڈیا کے مطابق ترکی کی عسکری کمک جنوبی ادلب کے دیہی علاقے کا رخ رکے گی اور عسکری قافلہ خان شیخون کے اطراف ایک پوائنٹ قائم کرے گا۔

سوشل میڈیا پر جاری وڈیو کلپ میں ایک عسکری قافلے کو ادلب کے دیہی علاقے میں معرہ شہر کے نزدیک بین الاقوامی شاہراہ پر رواں دواں دیکھا گیا جو جنوب کی سمت جا رہا تھا۔ قافلے میں فوجی ٹینک اور BMB بکتر بند گاڑیاں شامل تھیں۔

معلومات سے اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ بشار کی فوج نے معرہ شہر میں ترکی کے حمایت یافتہ گروپ "فيلق الشام" کے قافلے کو نشانہ بنایا۔ شامی اپوزیشن کی نیوز ویب سائٹس کے مطابق 28 فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ معرۃ النعمان شہر کی جانب جا رہا تھا۔ قافلے میں 7 فوجی ٹینک اور گولہ بارود سے لدے 6 ٹرک بھی شامل تھے۔

شامی حکومت کے جنگی طیاروں نے "فيلق الشام" کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں گروپ کا ایک رکن جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔

دوسری جانب بشار حکومت نے پیر کے روز ادلب صوبے کے جنوب میں عسکری قافلے کے داخلے کی مذمت کی ہے۔ یہ پیش رفت خان شیخون کے شمال مغربی اطراف میں بشار کی فوج کے داخل ہونے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند