تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شامی شہر خان شيخون سے اپوزیشن گروپوں کا انخلاء
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 18 ذوالحجہ 1440هـ - 20 اگست 2019م KSA 14:24 - GMT 11:24
شامی شہر خان شيخون سے اپوزیشن گروپوں کا انخلاء
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق شامی حکومت کی فورسز کے ساتھ گھمسان کی لڑائی کے بعد منگل کو علی الصبح خان شیخون شہر اور حماہ کے شمالی دیہی علاقے سے شامی اپوزیشن کے مسلح گروپوں کا انخلاء دیکھنے میں آیا۔

المرصد کے ڈائریکٹر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ شامی حکومت کی فورسز اس وقت خان شیخون کو کلیئر کرا رہی ہیں جب کہ شامی قصبے مورک میں نگرانی کی غرض سے ترکی کی چیک پوائنٹ محصور ہو چکی ہے۔ اس طرح اس چیک پوائنٹ کے عناصر کے پاس شامی حکومتی فوج کے زیر کنٹرول راستوں کے ذریعے انخلاء کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں۔

المرصد کے مطابق جنگجو گروپوں نے ادلب کے جنوبی دیہی علاقے میں خان شیخون شہر سے مکمل طور پر نکل جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی طرح خان شیخون کے جنوب میں واقع قصبوں اور دیہاتوں سے بھی انخلا عمل میں آ رہا ہے۔ البتہ مورک میں نگرانی کی غرض سے قائم ترکی کی چیک پوائنٹ کا انجام ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا جہاں اپوزیشن کے گروپ اس وقت اکٹھا ہیں۔

معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ انخلاء مکمل طور پر محصور ہو جانے کے اندیشے کے بعد عمل میں آیا ہے۔

ادھر ترکی کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ شام میں ترکی کے ایک قافلے پر فضائی بم باری کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے۔ بم باری کا نشانہ بننے کے وقت یہ قافلہ ادلب صوبے میں نگرانی کے ایک ٹھکانے کی جانب جا رہا تھا۔ شام میں داخل ہونے والا ترکی کا سپورٹ یافتہ عسکری قافلہ جنوبی دیہی علاقے میں خان شیخون کے اطراف ایک چیک پوائنٹ بنانے پر کام کر رہا ہے۔

ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق مذکورہ قافلے کو نشانہ بنانا ،،، روس کے ساتھ تعاون کے سمجھوتوں کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب المرصد نے منگل کی صبح بتایا کہ شامی فورسز اور اس کے حلیفوں کی جانب سے خان شیخون پر دھاوے کے بعد یہ شہر آبادی سے تقریبا خالی ہو چکا ہے۔ پیر اور منگل کی درمیانی شب یہاں شامی اپوزیشن کے گروپوں اور بشار کی فوج کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ 2014 میں خان شیخون سے ہاتھ دھونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شامی حکومت کی فورسز اس شہر میں داخل ہوئی ہیں۔ شمال مغربی سمت سے داخل ہونے کے بعد شامی فورسز نے کئی عمارتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ شامی فورسز کئی روز سے خان شیخون کی جانب پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھیں۔ یہ ادلب کے جنوبی دیہی علاقے کا سب سے بڑا شہر ہے۔

دوسری جانب فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں نے شام کے علاقے ادلب پر بم باری کے حوالے سے "انتہائی تشویش" کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب سے کہا کہ علاقے میں فائر بندی کی پاسداری وقت کی فوری ضرورت ہے۔

جنوبی فرانس میں اپنی قیام گاہ پر روسی صدر پوتین سے گفتگو میں ماکروں نے کہا کہ ادلب کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے .. مقامی آبادی بم باری کی زد میں ہے اور بچے مارے جا رہے ہیں .. یہ انتہائی اشد ضرورت ہے کہ اُس فائر بندی پر عمل درامد کیا جائے جس پر سوچی میں اتفاق رائے ہوا تھا۔

ادھر شام کے سرکاری میڈیا نے ترکی کے فوجی قافلے کے داخلے کو ایک "دشمنانہ عمل "قرار دیا۔

یاد رہے کہ روس اور ترکی کے بیچ بات چیت کے ذریعے اس علاقے میں جنگ بندی کے حوالے سے طے پانے والے سمجھوتے ادلب میں لڑائی کا سلسلہ ختم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ یہاں انقرہ کے زیر انتظام 12 عسکری ٹھکانے موجود ہیں۔

شام کے شمال مغربی حصہ بشار الاسد کے مخالفین کا آخری بڑا گڑھ شمار ہوتا ہے۔ بشار کی فورسز اپریل سے یہاں حملے کر رہی ہے۔ اس دوران اسے روس کی معاونت حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اعلان کے مطابق اس علاقے میں جارحیت کے سبب کم از کم 500 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد نقل مکانی کے لیے کوچ کر چکے ہیں۔


 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند