تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
البغدادی داعش کی خواتین ارکان کے لیے فکر مند ، مرد ارکان کے حوصلوں میں کمی پر چراغ پا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 17 محرم 1441هـ - 17 ستمبر 2019م KSA 12:26 - GMT 09:26
البغدادی داعش کی خواتین ارکان کے لیے فکر مند ، مرد ارکان کے حوصلوں میں کمی پر چراغ پا
عراق - نصير العجيلی

داعش تنظیم کے میڈیا ونگ الفرقان فاؤنڈیشن کی جانب سے پیر کے روز تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی سے منسوب ایک نیا صوتی پیغام جاری کیا گیا ہے۔ پیغام میں البغدادی نے عراق اور شام کی جیلوں میں قید ان خواتین کی رہائی پر زور دیا ہے جن کو داعش تنظیم سے تعلق کے سبب پابند سلاسل کیا گیا۔

اس سے قبل آخری مرتبہ البغدادی پانچ ماہ قبل منظر عام پر آیا تھا جب رواں سال اپریل میں اس کی ایک وڈیو جاری کی گئی۔

داعش کے سربراہ نے نئے صوتی پیغام میں کہا کہ تنظیم نے کئی علاقوں میں کارروائیاں کی ہیں جن میں مالی اور بلاد الشام شامل ہیں۔ تاہم البغدادی نے کارروائیوں کے وقت کا تعین نہیں کیا۔

نظروں سے اوجھل البغدادی کے خطاب کے حوالے سے مسلح جماعتوں کے امور کے عراقی ماہر اور محقق فاضل ابو رغیف کا کہنا ہے کہ داعش کے سربراہ نے اپنے پیغام میں ان منافقین کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے جو لڑائی میں شامل ہونے سے پیچھے ہٹ گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ابو رغیف نے کہا کہ البغدادی کا یہ قول "جتنا بھی وقت لگے ،،، سست پڑ جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے" ... گویا اس کا مقصد اپنے حامیوں اور ارکان کی سستی اور ڈھیلے پن کو زجر و توبیخ کا نشانہ بنانا تھا۔

ابو رغیف کے مطابق صوتی پیغام میں البغدادی کی جانب سے کی گئی سنگین ترین بات دین اور اس کے ماننے والوں کی اجنبیت کے بارے میں موقف ہے ... گویا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کی جانب توجہ دلا رہا تھا جس میں کہا گیا کہ "دین ایک بار پھر اجنبی ہو جائے گا تو اجنبیوں کو مبارک ہو"۔ اس طرح البغدادی تنظیم کے سفینے میں سوار نہ ہونے والے ہر شخص کی بالواسطہ تکفیر کر رہا تھا۔

ابو رغیف کے نزدیک البغدادی اس وقت پریشان کن صورت حال کا شکار ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ صبر کی پرُ زور تلقین کرتا رہا ... اس نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ تفرقے کا شکار نہ ہوں اور اہل سنت کے ساتھ جڑ کر رہیں۔ ابو رغیف کے مطابق البغدادی کے پیغام میں خطر ناک ترین پہلو جیلوں کو توڑ کر وہاں موجود قیدیوں کو چھڑانے اور تحقیق کاروں اور ججوں کو نشانہ بنانے پر زور دینا تھا۔

دوسری جانب مسلح جماعتوں کے امور کے محقق اور سیکورٹی امور کے ماہر ہشام الہاشمی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ البغدادی نے اپنے خطاب میں 4 زاویوں سے شکست کھانے کا اعتراف کرنے کے بعد ایک نئے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ ابو بکر البغدادی کا نیا پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب شام اور عراق میں ہزیمت کا شکار داعش تنظیم کے عناصر دور دراز علاقوں میں سیکورٹی اور فوجی چیک پوسٹوں پر چھپ کر حملوں اور گھات لگا کر کارروائیوں کا طریقہ کار اپنا رہے ہیں۔ اس کے مقابل خود کش حملوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے کیوں کہ تنظیم کو مالی رقوم اور خود کش بم باروں کی کمی کا سامنا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند