تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی وزارت دفاع کا 'آرامکو' حملوں میں ایران کے ملوث ہونےکے ثبوت فراہم کرنے کا اعلان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 22 ربیع الاول 1441هـ - 20 نومبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م KSA 21:23 - GMT 18:23
سعودی وزارت دفاع کا 'آرامکو' حملوں میں ایران کے ملوث ہونےکے ثبوت فراہم کرنے کا اعلان
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے بقیق اور خریص میں آرامکو کمپنی کی تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کےناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ وزارت دفاع آج بدھ کی شام کو ایک پریس کانفرنس میں وہ ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے آرامکو تنصیبات پر دہشت گردانہ حملے میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔

اس موقع پر اس حملے میں استعمال ہونے والے ایرانی اسلحہ اور ہتھیاروں کے ٹھوس ثبوت بھی دکھائے جائیں گے۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے منگل کی شام جدہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا 'آرامکو' کی تنصیبات پر حملے سے قبل سعودی تیل کی رسد اپنی سطح پر واپس آچکی ہے۔" العربیہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے یقین دلایا کہ اوپیک کا کوئی ہنگامی اجلاس نہیں ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی آرامکو واضح جارحیت کے اثرات سے قطع نظر اپنے حصص کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے ۔اس جارحیت کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں تک پہنچے ہیں۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ "سعودی تیل کی برآمد اور رواں ماہ کے لیے ان برآمدات سے ہونے والی آمدنی حملوں سے متاثر نہیں ہوگی۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ رواں ماہ کے آخر تک سعودی عرب کی تیل کی یومیہ پیدوار 11 ملین بیرل تک پہنچ جائے گی اور نومبر میں ہم عالمی منڈی کو یومیہ 12 ملین بیرل تیل فراہم کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنے صارفین کو مایوس نہیں ہونے دے گا بلکہ تیل کی پیداوار میں کمی ذخیرہ شدہ اسٹاک سے پوری کی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اکتوبر میں تیل کی پیداوار روزانہ 9.89 ملین بیرل تک پہنچ جائے گی ۔ سعودی عرب تیل کی عالمی تیل منڈی کو محفوظ رسد کنندہ کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھے گا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ تیل تنصیبات پر جارحیت کے بعد اندرون ملک تیل کی رسد تاثر نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ کو نشانہ بنانے کی گھناؤنی کوشش ہے۔سعودی وزیر توانائی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رواں ماہ سعودی برآمدات میں کمی نہیں ہوگی لہذا آمدنی میں کمی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا ، "ہم حملوں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک بین الاقوامی ٹیم بھی تفتیش کرے گی۔‘‘

باخبر ذرائع نے العربیہ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ سعودی آرامکو نے حملے کے بعد پہلی بار ملازمین کو بقیق کمپلیکس میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند