تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا داعش نے شامی کرد فورسز کے زیرِ حراست اپنی عورتوں کو رہا کرالیا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 17 صفر 1441هـ - 17 اکتوبر 2019م KSA 19:50 - GMT 16:50
کیا داعش نے شامی کرد فورسز کے زیرِ حراست اپنی عورتوں کو رہا کرالیا؟
شام کی شمال مشرقی گورنری الحسکہ میں واقع الہول کیمپ میں زیرحراست ایک فرانسیسی خاتون اپنے بچوں کے ساتھ ۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترکی کی فوجی کارروائی کے بعد کرد فورسز کے زیر انتظام حراستی مرکز،کیمپوں اور جیلوں سے داعش کے جنگجوؤں اور ان کی خواتین کے فرار کی نئی نئی خبریں سامنے آرہی ہیں اور اب خود داعش  نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے شامی کردوں کی حراست سے اپنی بعض خواتین کو ’’آزادی‘‘ دلا دی ہے۔

داعش گروپ نے جمعرات کو ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے الرقہ میں ایک سکیورٹی ہیڈکوارٹر پر بدھ کو دھاوا بولا تھا اور وہاں زیر حراست مسلم خواتین کو رہا کرالیاہے۔داعش کے بہ قول ان خواتین کو کردوں کے زیر قیادت فورسز نے اغوا کر لیا تھا۔

اس نے بیان میں رہاکرائی گئی ان خواتین کی تعداد نہیں بتائی ہے اور نہ یہ وضاحت کی ہے کہ آیا یہ خواتین داعش کی ارکان ہیں یا انتہا پسندوں کی بیویاں ہیں ۔

فرانسیسی وزیر خارجہ وائی ویس لی دریان نے بدھ کو پیرس میں ایک بیان میں شام کے شمال مغرب میں کرد فورسز کے زیر انتظام ایک کیمپ سے نو فرانسیسی خواتین کے فرار کی تصدیق کی تھی۔

کردوں کے زیر انتظام کیمپ سے فرار ہونے والی تین فرانسیسی عورتوں کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ داعش کے ہتھے چڑھ گئی ہیں اور انھوں نے اپنے وکیل کو اس سلسلے میں پیغامات کے ذریعے مطلع کردیا ہے۔

دو روز پہلےشمالی شام میں کرد انتظامیہ نے یہ اطلاع دی تھی کہ شمالی قصبے عین عیسیٰ میں واقع کیمپ کے نزدیک ترک فوج کی بمباری کے نتیجے میں داعش کے ارکان کے 785 رشتے دار فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ان میں داعش کی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

کرد ذرائع کے مطابق شام کے شمال مشرقی علاقے میں واقع جیلوں میں داعش کے قریباً 12 ہزار جنگجو قید ہیں۔ ان میں ڈھائی سے تین ہزار غیر ملکی ہیں۔ان کے علاوہ ان کے خاندانوں کے 12 ہزار افراد کیمپوں میں زیر حراست ہیں۔یہ بھی تمام غیر ملکی ہیں اور ان میں آٹھ ہزار بچے اور چار ہزار خواتین ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند