تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی کی شام میں فوجی کارروائی کے مضمرات، آنے والے بحران اور ایرانی خطرات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م KSA 14:59 - GMT 11:59
ترکی کی شام میں فوجی کارروائی کے مضمرات، آنے والے بحران اور ایرانی خطرات
واشنگٹن ۔ پییر غانم

شمال مشرقی شام پر ترکی کے حملے نے بہت سی سکیورٹی اور سیاسی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ صورت حال الٹ ہوگئی ہے۔ امریکا نے صدرڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں جو کچھ بھی کیا وہ وہ نہ صرف رائیگاں رہا بلکہ اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

یکم اکتوبر تک امریکی پالیسی یہ تھی کہ وہ شام سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔ امریکا کا موقف تھا کہ جب تک ایران شام میں موجود اپنی ملیشیائوں کو بے دخل نہیں کرتا اس وقت تک امریکا شام میں موجود رہے گا۔ ضرورت پڑی تو جنیوا مذاکرات کے ٹریک پر چلتے ہوئے شام میں نئی حکومت کی تشکیل تک امریکا شام سے نہیں نکلے گا۔

امریکیوں کا خیال تھا کہ مشرقی فرات کے علاقے کا حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اصل وزن ہوگا اور اس معاملے پر شامی رجیم سے بامقصد بات چیت کی جاسکے گی۔

غیر معمولی تبدیلیاں

تاہم ترک فوج کی شمال مشرقی شام کے سرحدی علاقے میں داخل ہونے سے امریکا کی اس اسکیم کو سخت دھچکا لگا۔ امریکا نے کردوں کو شامی حکومت اور روس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ کردوں نے شام کے فوجی دستوں اور دیگر روسیوں کو بھی اپنے کچھ علاقوں میں جانے کی اجازت دی۔ روس فضائیہ حسکہ اور قامیشلی میں سرکاری فوجی اڈوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی۔

اب امریکیوں کو ماسکو کے ساتھ فضائی حدود کے مسئلے سے نمٹنا ہے۔ کچھ عرصے تک مشرقی فرات کے علاقوں پر صرف امریکی فضائیہ کی اجارہ داری تھی مگراب امریکا کی مشرقی فرات پر اجارہ داری ختم ہوگئی ہے۔ اب اس علاقے میں روسی فضائیہ اور شامی رجیم کے طیارے بھی پروازیں کرتے ہیں۔

امریکا نے شام اور ترکی کی سرحد پر 32 کلو میٹر کے علاقے کو خالی کرنے کے انقرہ کے مطالبے سے اتفاق کیا ہے۔ مگر انقرہ کی پالیسی یہ ہےکہ وہ شام میں کردوں کو شام میں کہیں بھی منظم ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

ایرانی خطرہ

امریکیوں کا خیال تھا کہ شمال مشرقی شام اور مشرقی فرات کے علاقے کو کردوں کے قبضے میں رہنا چاہیے تاکہ شام میں ایرانی ملیشیائوں کے خلاف اس علاقے کو استعمال کیا جاسکے مگر ترکی کی طرف سے شام میں فوجی مداخلت کے بعد واشنگٹن کی کرد انتظامیہ کے بارے میں سوچ بدل چکی ہے۔

دوسری طرف کردوں نے بھی امریکا پر بے اعتباری کا اظہار کیا۔ اس کا ثبوت کردوں کے طرز عمل سے ہوتا ہے۔ کردوں نے بلا توقف اپنے زیرانتظام علاقے شامی اور روسی فوج کے لیے کھول دیئے۔ اب انہوں نے ایران کے خلاف لڑنے سے بھی انکار کیا ہے۔

گذشتہ کئی مہینوں سے امریکی انتظامیہ ایران کے دشمن کردوں کی بے عملی سے مایوسی کا شکار ہوگئی تھی۔ کردوں نے امریکا کے بجائے اس متبادل کے بارے میں تلاش کرنا شروع کیا۔

دیر الزور اور التنف دو ایسے مقامات ہیں جن کے ذریعے شام میں ایرانی ملیشیائوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جاسکتا ہے۔ امریکا نے برسوں سے اس علاقے کی اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور اس تک پہنچنے کے لیے کام کیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند