تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا اور خلیج نے ایرانی باسیج اور اس کے مالی سہولت کار دہشت گرد قرار دے دیے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 1 ربیع الاول 1441هـ - 30 اکتوبر 2019م KSA 21:17 - GMT 18:17
امریکا اور خلیج نے ایرانی باسیج اور اس کے مالی سہولت کار دہشت گرد قرار دے دیے
باسیج کے دستے ایران میں اپوزیشن کو کچلنے کے لئے طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں
العربیہ اردو سٹاف رپورٹ

امریکا اور چھ دوسری خلیجی ریاستوں نے بدھ کے روز سپاہ پاسداران انقلاب اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ سے وابستہ کم سے کم 25 کمپنیوں اور مالیاتی اداروں پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد دونوں تنظیموں کے مالی سوتے خشک کرنا ہے۔

پابندیوں کا فیصلہ الریاض میں قائم دہشت گردی کے لئے رقوم فراہمی کو ہدف بنانے والے مرکز نے کیا تھا۔ یہ ادارہ دو برس قبل تشکیل دیا گیا جس میں سعودی عرب سمیت بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور امریکا شامل ہیں۔

پابندیوں کا نشانہ بننے والی کمپنیاں سپاہ پاسداران انقلاب کے ذیلی ادارے باسیج مزاحمتی فورس کو مالی تعاون فراہم کرتی ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ کے مطابق باسیج ملیشیا پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے مقامی حزب اختلاف کو دباؤ میں لانے کے ساتھ ساتھ علاقائی تنازعات میں جنگجو بھیجنے کا کام سرانجام دیتی ہے۔

ٹی ایف ٹی سی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’آج کا فیصلہ گروپ میں شامل ممبران کا کثیر پہلو اقدام ہے جس کے ذریعے ایران کی جانب سے کئی بار کی جانے والی بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزیاں ہیں۔ ان میں عالمی معیشت کو گزند پہنچانے کے لئے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے بھی شامل ہیں۔‘‘

پابندیوں کی زد میں آنے والی 25 کمپنیوں اور مالیاتی اداروں میں باسیج ملیشیا کو مالی مدد وتعاون فراہم کرنے والے ایرانی ملت بنک، کان کنی ادارے اور سرمایہ کاری فرمیں شامل ہیں۔ پابندیوں نشانہ بننے والے چار افراد ایسے ہیں جو عراق میں حزب اللہ کے آپریشن چلاتے ہیں۔ تمام کی تمام پچیس کمپنیاں وہ ہیں جنہیں امریکا کی وزارت خزانہ نے 2018 میں پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹفین منوچن کے مطابق ’’ٹی ایف ٹی سی نے جس باہمی کوارڈی نیشن کے ساتھ دہشت گردی کو مالی تعاون فراہمی کی ایرانی کوششوں کو ناکام بنایا ہے وہ دراصل خلیجی ریاستوں کے اتحاد کا مظہر ہے۔‘‘

منوچن نے الریاض کے ایک بزنس فورم سے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’’یہ اقدام امریکا سمیت تمام خلیجی ریاستوں کے اس متحدہ موقف کا غماز ہے جس کے تحت ایران کو خطے میں اپنی تباہ کن سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند