تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام کے شمال مشرقی علاقے میں کار بم دھماکا ، آٹھ افراد ہلاک
ترک وزارت دفاع کا کردملیشیا پرتل ابیض کے نزدیک واقع گاؤں میں بم حملے کا الزام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 14 ربیع الثانی 1441هـ - 12 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 12 ربیع الاول 1441هـ - 10 نومبر 2019م KSA 21:09 - GMT 18:09
شام کے شمال مشرقی علاقے میں کار بم دھماکا ، آٹھ افراد ہلاک
ترک وزارت دفاع کا کردملیشیا پرتل ابیض کے نزدیک واقع گاؤں میں بم حملے کا الزام
ترک فوج کی گاڑیوں کا قافلہ شام کے شمال مشرقی قصبے تل ابیض سے گذر رہا ہے۔ فائل تصویر
انقرہ ۔ ایجنسیاں

شام کے شمال مشرق میں واقع قصبے تل ابیض کے نزدیک ایک کار بم دھماکے میں آٹھ شہری ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔یہ قصبہ ترکی کی فوج کے کنٹرول میں ہے اور اس کی وزارت دفاع ہی نے اتوار کو اس کار بم دھماکے کی اطلاع دی ہے۔

یہ کار بم دھماکا تل ابیض سے جنوب میں واقع گاؤں سالک عتیق میں ہوا ہے۔ ترک وزارتِ دفاع نے کرد ملیشیا کے جنگجوؤں پر اس کار بم حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

ترک فوج نے گذشتہ ماہ تل ابیض سے کرد ملیشیا وائی پی جی کے زیر کمان شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) کو نکال باہر کیا تھا۔اس کے بعد ایس ڈی ایف نے شامی فوج کو مدد کے لیے بلا بھیجا تھا اور اپنے زیر قبضہ علاقے شامی حکومت کے حوالے کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

تب سے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع اس علاقے میں شامی صدر بشارالاسد کی فوج اور ترک فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ترک فوج اور اس کے حامی شامی باغی گروپوں نے نو اکتوبر کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد فورسز کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی تھی۔اس کا مقصد سرحد کے ساتھ 30 کلومیٹر کے علاقے میں ایک بفر زون کا قیام ہے۔

امریکا کی ثالثی میں ترکی اور کرد ملیشیا کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا اورکرد فورسز نے عرب اکثریتی 440 کلومیٹرطویل سرحدی علاقے کے 120کلومیٹر حصے سے انخلا سے اتفاق کیا تھا۔

لیکن اس جنگ بندی کے باوجود ان کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ترکی کا بعد میں شامی حکومت کے پشتیبان روس کے ساتھ بھی ایک سمجھوتا طے پایا تھا ۔اس کے تحت انھوں نے کردفورسز کو ترکی کے ساتھ واقع تمام سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانے سے اتفاق کیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند