تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کا مقابلہ، امریکا کا مشرق وسطیٰ میں مزید 14 ہزار فوجی تعینات کرنے پرغور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م KSA 15:00 - GMT 12:00
ایران کا مقابلہ، امریکا کا مشرق وسطیٰ میں مزید 14 ہزار فوجی تعینات کرنے پرغور
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے بدھ کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ واشنگٹن ایرانی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں مزید 14 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔

اخبار نے لکھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ایرانی خطرے سے نمٹنے کے لیے درجنوں جہازوں کی تعیناتی پر غور کر رہے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فوج بھیجنے کے منصوبے کا مقصد امریکی پابندیوں پر کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو روکنا ہے۔

ایرانی عوام کی حمایت کا منصوبہ

'پولیٹیکو میگزین' نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کئی طریقوں سے ایرانی عوام کے احتجاج کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انٹرنیٹ پابندی ختم کرنے اور ایرانی عوام کی حمایت میں میڈیا مہم کو تیز کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

میگزین کے مطابق ٹرمپ کے معاونین انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ایرانی عہدیداروں کے خلاف نئی پابندیوں کے نفاذ پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کے پاس ایران میں موجود محاصرے کا شکار مظاہرین کی طف سے بھیجی گئی 36 ہزار تصاویر، ویڈیوز اور دیگر دستاویزی ثبوت ہیں جنہیں ایران کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس منصوبے سے واقف عہدیداروں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ تہران میں حکومت کے ذریعہ ایرانیوں کو انٹرنیٹ سنسرشپ سے بچانے میں مدد کے لیے بھی نئے طریقے ڈھونڈ رہی ہے۔

مہم میں تیزی

امریکی عہدیداروں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ آنے والے دنوں میں انتظامیہ ایران کے خلاف اپنی میڈیا مہم تیز کرے گی۔ اس مہم میں ایران میں حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے بارے میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کی تقریر بھی شامل ہے۔

اس رپورٹ میں دلیل دی گئی ہے کہ ٹرمپ ٹیم کا خیال ہے کہ ایرانی مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ ایران کے خلاف "انتہائی دباؤ" مہم کامیاب ہوگئی ہے۔ اس مہم کامقصد یہ تھا کہ ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف کیا جائےتاکہ ایرانی لیڈر شپ پر اندرون اور بیرون ملک سے دبائو میں اضافہ ہو۔۔

اب یہ بحث اس مرکز پر مرکوز نظر آتی ہے کہ اس لابنگ مہم کی وسعت اور رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس لمحے سے قطعیت کس طرح فائدہ اٹھایا جائے۔

تہران رجیم کیا جواب دے گا؟

اس تناظرمیں رپورٹ میں غور کیا گیا ہے کہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر معاشی دباؤ بڑھ جاتا ہے تو ایرانی حکومت کس طرح کا ردعمل ظاہر کرے گی؟

امریکی انتظامیہ کے مقرب ایک تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی کے چیف ایگزیکٹو مارک ڈوبوٹز کا کہنا ہے کہ ایران میں احتجاج کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ امریکی حکام اور ایرانی عوام مل کرایرانی رجیم پر دبائو ڈالنے کی حکمت عملی کو ترجیح دیں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار جس نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ تاثر عام ہے کہ حالیہ ایام میں ایران میں احتجاجی مظاہرے ماضی کے احتجاج سے مختلف ہیں۔آنے والے دونوں میں اس میں مزید شدت آئے گی۔

ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ مزید ویڈیوز کو ملاحظہ کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ 21 نومبر کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک غیر معمولی پیغام میں ایرانی عوام سے کہا تھا کہ وہ ریاستی تشدد کے واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر بھیجیں تاکہ عالمی سطح پر ایرانی رجیم کو بے نقاب کیا جاسکے۔ ان کی اس فارسی ٹویٹ کے بعد ٹیلی فرام سروس کے ذریعے ایسے 20 ہزار واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر امریکی حکام کو موصول ہوئی تھیں۔ مجموعی طور پر اب تک اس نوعیت کی شکایات کی تعداد 36 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند