تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بغداد حکومت عراقی شخصیات پر امریکی پابندیاں نافذ کرنے کی پابند ہے: امریکی وزارت خزانہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 9 ربیع الثانی 1441هـ - 7 دسمبر 2019م KSA 14:15 - GMT 11:15
بغداد حکومت عراقی شخصیات پر امریکی پابندیاں نافذ کرنے کی پابند ہے: امریکی وزارت خزانہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی وزیر خزانہ کے معاون مارشل بیلنگزلی کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت امریکا کی جانب سے چار عراقی شخصیات پر عائد کی گئی پابندیاں نافذ کرنے کی پابند ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعے کے روز "العربیہ" اور "الحدث" نیوز چینلوں سے گفتگو میں کہی۔

امریکا نے جمعے کے روز تین شخصیات قيس الخزعلی، ليث الخزعلی اور حسين عزيز اللامی پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ تینوں افراد ایران کی مقرب عراقی ملیشیا الحشد الشعبی میں شامل مسلح تنظیم "عصائب اہل الحق" کے رہ نما ہیں۔ اسی طرح ایک سیاسی شخصیت خمیس العیساوی پر بھی "عراقی عوام کے کھاتے میں بدعنوانی" کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

بیلنگزلی نے توقع ظاہر کی ہے کہ عراقی حکومت مذکورہ چاروں افراد کے اثاثے منجمد کر کے ان کی املاک ضبط کر لے گی۔

بیلنگزلی نے مزید کہا کہ پابندیوں میں شامل ملیشیا رہ نماؤں کو مظاہرین کے قتل کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی، یہ پابندیاں علامتی نہیں بلکہ اس کے سنجیدہ دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ امریکی وزارت خزانہ کے معاون نے باور کرایا کہ عراقی عوام اپنے معاملات میں ایرانی مداخلت کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ان تین افراد کے خلاف فیصلہ کیا ہے جو (ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ) قاسم سليمانی سے احکامات وصول کرتے ہیں۔

امریکا نے جمعے کے روز عراقی ملیشیا کے تین رہ نماؤں پر پابندیاں عائد کر دیں جن کے ایران کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اس بات کا شبہ ہے یہ افراد عراق میں جاری عوامی احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف سیکورٹی کریک ڈاؤن میں ملوث ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ایک بیان میں یہ کہہ چکے ہیں کہ عراقی عوام اپنے ملک کو دہشت گردوں اور بدعنوان عناصر سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ پومپیو کے مطابق عراق میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے حکومت کو مخلص اصلاحات، احتساب اور قابل اعتماد قیادت کو سامنے لانا ہوگا جو عراق کے مفادات کو پہلی ترجیح دے۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراقی عوام نے اصلاحات کے حوالے سے جن قانونی مطالبات کا اظہار کیا ہے ، ایران کا ان مطالبات کو کچلنے کی کوشش کرنا خوف ناک امر ہے۔ منوچن کے مطابق امریکا بدعنوانی پر روک لگانے کی کوشش کے سلسلے میں عراقی عوام کے احتجاج کو سپورٹ کرتا ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ شنکر نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن عراقی سرکاری ذمے داران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ جمعے کے روز واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ "ہم (عراق کے) پڑوسیوں پر عدم مداخلت کے لیے زور دیتے ہیں اور چاہتے ہیں ہو ملک کے آئین کو سبوتاژ نہ کریں"۔

شنکر کے مطابق القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی بغداد میں موجودگی معمول کا امر نہیں اور یہ عراق کی خود مختاری کی بڑی خلاف ورزی ہے"۔

شنکر نے باور کرایا کہ امریکی انتظامیہ ہر اُس فریق کے ساتھ کام کرے گی جو عراقی حکومت میں سب سے پہلے عراق کے مفادات کو ترجیح دے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند