تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عُمان کے فرمانروا سلطان قابوس چل بسے، ملک میں تین روزہ سوگ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 12 صفر 1442هـ - 30 ستمبر 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 15 جمادی الاول 1441هـ - 11 جنوری 2020م KSA 07:45 - GMT 04:45
عُمان کے فرمانروا سلطان قابوس چل بسے، ملک میں تین روزہ سوگ
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

خلیجی ریاست سلطنت آف عُمان کے فرمانروا سلطان قابوس بن سعید آج ہفتے کے روز انتقال کرگئے۔ مرحوم کچھ عرصے سے صاحب فراش تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلطنت عُمان کے صدر دفتر سے جاری ایک بیان میں ہفتے کو علی الصباح سلطان بن قابوس بن سعید کی وفات کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد عُمان کی سرکاری نیوز ایجنسی اور سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر بھی ان کی وفات کی خبر نشر کی گئی ہے۔

سلطان قابوس بن سعید کی وفات کے بعد ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ آئندہ 40 دن تک سلطان کے سانحہ ارتحال پر ملک کا پرچم سرنگوں رہے گا۔

شاہی دیوان کی طرف سے جاری بیان میں مرحوم سلطان قابوس کی ملک وقوم کے لیے شاندار خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سلطان قابوس نے 50 سال تک ملک کی خدمت کی اور اسے ترقی کی معراج تک پہنچایا۔ وہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب خالق حقیقی سے جا ملے۔

سلطان قابوس کون تھے؟

سلطان قابوس بن سعید سلطنت عُمان کے آل ابو سعید خاندان کے آٹھویں فرمانروا تھے۔ آل سعید خاندان نے سنہ 1741ء کو امام احمد بن سعید کے دور میں سلطنت قائم کی۔ سلطان قابوس اس سلسلے کی آٹھویں کڑی سمجھے جاتے تھے۔

سلطان قابوس 18 نومبر 1940ء کو ظفار گونری کے صلالہ شہر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اومان ہی سے حاصل کی۔ سنہ 1960ء کو انہوں نے برطابوی شاہی ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد مغربی جرمنی میں برطانوی پیادہ فوج میں کچھ عرصہ تربیت حاصل کی۔

سنہ 1964ء میں وطن واپسی کے بعد انہوں نے اسلامی شرعی علوم، اسلامی تہذیب اور سلطنت کی تاریخ کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔

سلطان قابوس نے 23 جولائی 1970ء کو اقتدار سنبھالا۔ اس دوران انہوں نے ملک میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کیں۔ ان کی سیاسی، اقتصادی، عسکری، سماجی اور ثقافتی اصلاحات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

سماجی بہبود اور امن کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر ان کی خدمات پر انہیں کئی ایوارڈز بھی دئے گئے۔ سنہ 2007ء میں انہیں عالمی مفاہمتی مساعی کے اعتراف میں جواہر لعل نہرو ایوارڈ بھی دیا گیا جب کہ اس سے قبل سنہ 1998ء میں انہیں روسی بین الاقوامی اسمبلی کی طرف سے عالمی امن ایوارڈ جاری کیا تھا۔

انہیں سنہ 1971ء کو سعودی عرب کی طرف سے شاہ عبدالعزیز آل سعود ایوارڈ اور 2009ء میں کویت کے مبارک الکبیر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند