تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امیر قطر نے دورہ ایران کے دوران ایرانی قیادت کو کیا پیش کش کی تھی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 شعبان 1441هـ - 7 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م KSA 07:01 - GMT 04:01
امیر قطر نے دورہ ایران کے دوران ایرانی قیادت کو کیا پیش کش کی تھی؟
حسن روحانی اور تمیم بن حمد
ویانا ۔ ضیاء ناصر

چند روز پیشتر امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی ایران کے سرکاری دورے پر تہران پہنچے۔ انہوں نے اپنے اس دورے کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی اور ملک کی دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ایک طرف ایران کی امریکا کےساتھ کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور دوسری طرف یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرائے جانے کے بعد ایران عالمی سطح پر سخت دبائو کا سامنا کر رہا تھا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق رکن اور تجزیہ نگار حسن عباسی نے امیر قطر کے دورے کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ قطری امیر نے ایرانی صدر کو درخواست کی تھی کہ ایران پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے امریکی فوج کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد کوئی جوابی کارروائی نہ کرے۔ قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ نہ لینے کے عوض قطر ایران کو تین ارب ڈالر کی رقم ادا کرے گا۔

سخت گیر اور اصلاحات کے مخالف حسن عباسی نے ان خیالات کا اظہار شمالی شہر بوشہر میں 17 جنوری کو اپنے خطاب میں کیا۔ حسن عباسی "یقین" انسٹی ٹیوٹ کے نام سے ایک تھینک ٹینک بھی چلاتے ہیں۔

عباسی نے قطر کے امیر کے تہران کے سفر کے معاملے کو چیھڑا اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امیر قطرہمیں سلیمانی کا بدلہ نہ لینے کے لیے تین ارب ڈالر دینے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قطری امیر ہمارے ہاں کیوں آئے تھے؟ وہ اس لیے آئے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے انہیں جو میزائل (امریکا کی طرف سے) فروخت کیے گئے ہیں وہ بے کار ہیں۔

اپنی تقریر میں انہوں نے شام سے عراق جانے کے بعد بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب 3 جنوری کی شب ایک ڈرون کے ذریعے ہلاک ہونے والے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور پاپولر موبلائزیشن کونسل 'الحشد' کے نائب ابو مہدی المہندس اور متعدد سینیر اہلکاروں کی ہلاکت کا حوالہ دیا۔ مسٹر عباسی نے کہا کہ ایران کو قاسم سلیمانی اور دیگر کمانڈروں کے قتل کا ہرصورت میں بدلہ لینا ہے۔ اس کے لیے کسی ملک کی طرف سے لالچ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

حسن عباسی نے مزید کہا کہ چونکہ خطے میں امریکی فوج کی کمان قطر میں ہے اور اس کی قیادت فور اسٹار جنرل میکنزی کررہا ہے۔ وہ دوحا میں بیٹھ کر قاسم سلیمانی کے خلاف آپریشن کی کمان کررہا تھا۔ قطر کو اندازہ ہے کہ اگر ایران نے قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کی ٹھانی تو دوحا کے لیے بڑی تباہی آئے گی۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ الجھن کا شکار ہوکر معذرت کے لیے آئے تھے۔ کیونکہ سلیمانی کو قتل کرنے والا طیارہ قطری علاقے سے بھیجا گیا تھا۔ اس معذرت کے ساتھ قطر نے ایران کو پیش کش کہ وہ یوکرینی ہوائی جہاز کے حادثے میں مارے جانے والے لوگوں کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے کی مدد ایران کو تین ارب ڈالر ادا کرنے کو تیار ہیں۔

امیر قطر نےکہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں کیونکہ امریکا نے ہمارے پاس جو میزائل رکھے ہیں یا ہمیں فروخت کیے ہیں وہ بے کار ہیں۔

پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر نے قطر کے امیر کے دورے کو ایک "درخواست" قرار دیا اور شیخ تمیم کے حوالے سے کہا کہ "خدا کی قسم ہم اگلے سال اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں۔ ہم نے بہت پیسہ خرچ کیا۔ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ ہم کرنے کو تیار ہیں"۔

مسٹر عباسی نے انکشاف کیا کہ امیر قطر نے ایرانی قیادت کو پیش کش کی کہ ان کی حکومت یوکرین کے مسافر طیارے کی انشورنس کے اخراجات اور مسافروں کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے کے لیے تین ارب ڈالر کی رقم ادا کرنے کو تیار ہیں۔

خیال رہے کہ یوکرین کا ایک مسافربردار جہاز 8 جنوری کوتہران میں گر کرتباہ ہوگیا تھا۔ بعد ازاں ایران نے تسلیم کیا تھا کہ یہ جہاز انسانی غلطی سے چلنے والے میزائل کے نتیجے میں حادثے کاشکار ہوا۔اس میں عملے سمیت 176 افراد سوار تھے جو سب لقمہ اجل بن گئے تھے۔ یہ حادثہ ٹھیک اسی روز ہوا جب ایران نے عراق میں امریکی فوج کے دو اڈوں کو میزائل حملوں سے نشانہ بنایا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند