تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حزب اللہ کے سربراہ کی لبنانی شہریوں سے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: اتوار 21 جمادی الثانی 1441هـ - 16 فروری 2020م KSA 22:11 - GMT 19:11
حزب اللہ کے سربراہ کی لبنانی شہریوں سے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل
حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی تقریرلبنان کے شہر النبطیہ میں ایک بڑی اسکرین کے ذریعے دکھائی جارہی ہے۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے ملک کے شہریوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ اوسط منصوبہ کے خلاف جنگ کے حصے کے طور پر امریکی اشیاء اور مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔

حسن نصراللہ نے اتوار کو ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ’’ہم امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیوں نہیں کررہے ہیں؟ یہ جنگ کا حصہ ہے۔اگر ہم تمام اشیاء کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہم بعض کمپنیوں کا انتخاب کرسکتے ہیں اور یہ بھی محاذ آرائی کی ایک قسم ہے۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ اسرائیلی موت سے خوف زدہ ہے جبکہ کسی امریکی کی کمزوری اس کی معیشت اور سلامتی ہے۔‘‘

عراقی ، لبنان کالم نگار حسین عبدالحسین نے حسن نصراللہ کی امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان سے لگتا ہے کہ انھیں زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور اس کی ملیشیائیں کس قدر خطرناک حد تک التباس کا شکار ہیں۔یہاں حزب اللہ کے حسن نصراللہ لبنان سے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کررہے ہیں لیکن وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لبنان ایسی لڑکھڑاتی معیشت کسی پر بائیکاٹ کے لیے دباؤ نہیں ڈال سکتی ہے۔امریکا تو رہا ایک طرف ۔‘‘

حسن نصراللہ نے اپنی اس تقریر میں خبردار کیا ہے کہ اگر نئی حکومت بھی ناکام رہتی ہے تو پھر لبنان اپنی بقا برقرار نہیں رکھ سکے گا۔انھوں نے ملک کے تقسیم کا شکار سیاست دانوں پر زوردیا ہے کہ وہ مالی اور اقتصادی بحران سے نکنے کے لیے نئی کابینہ کے کام میں روڑے نہ اٹکائیں۔

حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ’’حکومت کی حمایت ایک قومی فریضہ ہے۔یہ کسی جماعت کا معاملہ نہیں ہے۔ اگر یہ نئی حکومت ناکام ہوجاتی ہے تو پھر یہ معلوم نہیں کہ یہ ملک کسی کی سفید گھوڑے کی طرح سواری کے لیے بچے گا یا نہیں اور کوئی نئی حکومت بنا سکے گا۔‘‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سیاست دانوں کو ملک کو درپیش معاشی بحران پر ایک دوسرے کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔

ان کا اشارہ سابق وزیراعظم سعد الحریری کے ایک بیان کی جانب تھا۔انھوں نے گذشتہ جمعہ کو ایک بیان میں اپنے حریف سیاست دانوں کو ملک کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے کا الزام عاید کیا تھا۔سعد الحریری گذشتہ سال اکتوبر میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

دارالحکومت بیروت اور دوسرے شہروں میں لبنانی شہری حکمراں اشرافیہ کی بدعنوانیوں ، بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف گذشتہ ساڑھے چارماہ سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند