تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام میں بشار حکومت کی سفاکیت کی حمایت روک دیں : ٹرمپ کا روس سے مطالبہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 22 جمادی الثانی 1441هـ - 17 فروری 2020م KSA 10:10 - GMT 07:10
شام میں بشار حکومت کی سفاکیت کی حمایت روک دیں : ٹرمپ کا روس سے مطالبہ
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ اُس سفاکیت کی حمایت کا سلسلہ ختم کر دے جس کا ارتکاب شامی حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیر کو کیے جانے والے اعلان کے مطابق ٹرمپ نے شام کے صوبے ادلب میں پرتشدد کارروائیوں پر امریکا کی تشویش کا اظہار کیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران ٹرمپ نے ادلب میں تشدد کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور امریکا کی اس خواہش سے آگاہ کیا کہ وہ بشار حکومت کی جانب سے مرتکب سفاکیت کے لیے روسی سپورٹ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔

اس سے قبل بشار حکومت کی فوج نے اتوار کے روز شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں اپوزیشن گروپوں کے آخری گڑھ پر حملے کے دوران مزید کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ شامی حکومتی میڈیا کے مطابق بشار کی فوج نے حلب شہر کے اطراف کنٹرول حاصل کر لیا۔ ان میں کئی دیہات اور قصبے شامل ہیں۔

بشار حکومت نے گذشتہ برس دسمبر سے ادلب کے علاوہ حلب اور لاذقیہ صوبوں کے علاقوں پر اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس دوران اسے روسی فضائیہ کے طیاروں کی سپورٹ بھی حاصل ہے۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے واضح کیا ہے کہ بشار حکومت نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران 2011 کے بعد پہلی مرتبہ حلب کے اطراف 30 قصبوں اور دیہات پر مکمل طور سے کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس طرح بشار کی فوج نے حلب کے جنوبی اور مغربی دیہی علاقوں میں تقریبا 95 فی صد رقبے کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں بشار کی فوج نے روس کی سپورٹ سے ادلب صوبے اور اس کے پڑوس میں واقع علاقوں میں ایک وسیع حملہ شروع کیا تھا۔ ان علاقوں پر ہيئۃ تحرير الشام (سابقہ النصرہ فرنٹ) اور دیگر اپوزیشن گروپوں کا کنٹرول ہے۔ المرصد کے مطابق مذکورہ وسیع حملے کے نتیجے میں اب تک 380 سے زیادہ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں 8 لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی کر گئے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند