تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2021

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
گندم میں خود کفیل شام کے عوام روٹی کے لیے خوار، بشار حکومت گونگی بن گئی!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 24 رجب 1442هـ - 8 مارچ 2021م
آخری اشاعت: اتوار 3 جمادی الثانی 1442هـ - 17 جنوری 2021م KSA 13:39 - GMT 10:39
گندم میں خود کفیل شام کے عوام روٹی کے لیے خوار، بشار حکومت گونگی بن گئی!
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

شام میں بحرانات کا سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آ رہا تاہم مصائب سے دوچار نہتّے شہریوں دبی دبی چیخیں وقتا فوقتا اعلانیہ طور پر بلند ہوتی رہتی ہیں۔ کئی ہفتوں سے روٹی اور ایندھن کا مسئلہ سرفہرست بنا ہوا ہے تاہم اب تک اس کا کوئی قابل ذکر حل سامنے نہیں آیا ہے۔

ان بحرانات نے شہریوں کو بھاری بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ یہ لوگ روزانہ روٹی حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں تندوروں کے سامنے قطاروں میں کھڑے رہنے کی اذیت جھیل رہے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے معروف نگراں گروپ المرصد نے اس سلسلے میں بتایا ہے کہ القامشلی میں "البعث خود کار تندو" کے دروازوں کے سامنے لوگوں کی بھیڑ لگی ہوتی ہے۔ مقامی آبادی کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو روٹی حاصل کرنے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہے۔

ایک شامی شہری کا کہنا ہے کہ "ہمارا ملک گندم میں خود کفیل ہے مگر ہم لوگ پیٹ بھر روٹی نہیں حاصل کر سکتے۔ ہم کوئی ملازمت یا کام نہیں کر سکتے، ہمارا سارا وقت تندوروں پر انتظار میں گزر جاتا ہے، یہ صرف میرے دل کی نہیں بلکہ سارے عوام کی آواز ہے"۔

المرصد کے مطابق روٹی کا بحران القامشلی تک محدود نہیں بلکہ شامی ساحلی علاقوں میں بھی عوام چراغ پا ہے۔ لوگوں کے احتجاجی مظاہروں میں نعروں اورپلے کارڈز کے ذریعے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ "ہمیں پرانے دن واپس لوٹا دو ، ہم پتھروں کے زمانے کی طرح کھانا پکانے اور گرمی حاصل کرنے کے لیے لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں"۔

شام میں طویل عرصے سے گاڑیوں اور گھریلو استعمال کے لیے ایندھن کی قلت ہے۔ علاوہ ازیں روٹی کے بحران نے صورت حال مزید سنگین کر دی۔ عوام روز مرہ کی بنیادی اشیاء کے حصول کے لیے ترس گئے ہیں۔

واضح رہے کہ بشار حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں حالیہ عرصے کے دوران اقتصادی بحرانات کافی سنگین ہو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عوام کے اندر غم و غصہ اور بحرانات کے حل تلاش کرنے کے مطالبات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان میں روٹی، ایندھن، پانی، بجلی اور غذائی اشیاء کے بحرانات نمایاں ترین ہیں۔

روٹی کے تندوروں اور بھٹیوں کے ساتھ ساتھ ایندھن کے اسٹیشنوں پر بھی عوام کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔

شام کی منڈیوں میں بعض غذائی اشیاء کی قیمتوں میں نیا اضافہ سامنے آیا ہے۔ ان اشیاء میں چینی، چائے، تیل، چاول اور دیگر مواد شامل ہے۔

یاد رہے کہ شام میں ایندھن اور روٹی کے بحران نے گذشتہ برس ستمبر کے اوائل سے سنگین صورت اختیار کرنا شروع کی تھی۔ اس کے نتیجے میں بشار حکومت نے گھرانے کے افراد کی تعداد کے لحاظ سے ہر خاندان کے لیے روٹی کی تعداد کم کر دی تھی۔ دوسری جانب پٹرول کے لیے اسمارٹ کارڈز کا سہارا لیا گیا۔

نقطہ نظر

مزید