تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عمران خان کے ’سیاسی کزن‘ طاہر القادری سیاست کو خیرباد کہہ گئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 14 محرم 1441هـ - 14 ستمبر 2019م KSA 19:57 - GMT 16:57
عمران خان کے ’سیاسی کزن‘ طاہر القادری سیاست کو خیرباد کہہ گئے
ڈاکٹر طاہر القادری ادارہ منہاج القرآن کے سر پرست اعلیٰ کے طور پر کام جاری رکھیں گے
لاہور ۔ ایجنسیاں

پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے عملی سیاست کو خیرباد کہتے ہوئے عوامی تحریک کے چیئرمین کا عہدہ بھی چھوڑ دیا ہے۔

لاہور میں عوامی تحریک کے مرکزی سیکریٹریٹ میں بذریعہ ویڈیو لنک نیوز کانفرنس کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ وہ چیئرمین کا عہدہ اپنے صاحبزادے کو منتقل کرنے کے بجائے عوامی تحریک کی سپریم کونسل کو فیصلے کا اختیار دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ وہ تصنیف و تالیف کے کام کی طرف زیادہ توجہ دینا چاہتے ہیں۔ جب کہ ان کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی جاری رکھ سکیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کو انصاف دلوانے کے لیے قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔ ان کے بقول یہ سیاست کا نہیں بلکہ ایمان کا معاملہ ہے۔

23 جون 2018ء کو پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی کوئی کارکن اور عہدیدار الیکشن 2018ء میں حصہ نہیں لے گا۔ الیکشن کے بعد قوم میں مایوسی پھیلنے والی ہے، لہٰذا الیکشن میں حصہ لینا ہماری جدوجہد کی موت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک اس ملک میں کرپشن کے خلاف جنگ نہیں ہوئی، ملک میں پہلے سے زیادہ مایوس کن صورت حال پیدا کی گئی۔

خیال رہے کہ 17 جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کے معاملے پر عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ مبینہ طور پر تصادم کے نتیجے میں پاکستان عوامی تحریک کے 14 کارکن جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے ان ہلاکتوں کا ذمہ دار اس وقت کی پنجاب حکومت، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو ٹھہرایا تھا۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے 2014 میں عمران خان کے ساتھ مل کر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا تھا جسے انقلاب مارچ کا نام دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے دو ماہ تک پاکستان کی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا بھی دیا تھا۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو "سیاسی کزن" قرار دیا تھا۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے واضح کیا ہے کہ وہ ادارہ منہاج القرآن کے سر پرست اعلیٰ کے طور پر کام جاری رکھیں گے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے رفاعی اور علمی سرگرمیوں کے لیے ادارہ منہاج القرآن کی بنیاد 1981 میں رکھی تھی۔ جب کہ سیاسی محاذ پر پاکستان عوامی تحریک کے نام سے جماعت 1989 میں بنائی گئی تھی۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند