تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان اور بھارت چاہیں تو تنازع کشمیر پر ثالثی کے لیے تیار ہوں : صدر ٹرمپ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م KSA 21:25 - GMT 18:25
پاکستان اور بھارت چاہیں تو تنازع کشمیر پر ثالثی کے لیے تیار ہوں : صدر ٹرمپ
وزیراعظم عمران خان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے دیرینہ تنازع کے حل کے لیے ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیش کش کی ہے۔

وہ سوموارکو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل مشترکہ نیوز کانفرنس میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا:’’ اگر میں مدد کرسکتا ہوں تو میں یقینی طور پر مدد کروں گا۔اگر دونوں ممالک ( پاکستان اور بھارت) چاہتے ہیں تو میں ایسا کرنے کو تیار ہوں۔‘‘

انھوں نے وزیراعظم عمران خان سے اس ملاقات سے قبل ہوسٹن میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اتوار کو ایک ریلی میں شرکت کی تھی اور اس میں دونوں لیڈروں نے ایک دوسرے پر تعریف وتوصیف کے ڈونگرے برسائے تھے۔

امریکی صدر اور عمران خان کے درمیان اس سے پہلے جولائی میں اوول آفس ، وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی تھی اور یہ دونوں لیڈروں کے درمیان پہلی ملاقات کی تھی۔اس میں بھی صدرٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ بہتر سال سے جاری کشمیر کے دیرینہ تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی پیش کش کی تھی لیکن بھارت نے ان کی اس پیش کش کو ٹھکرا دیا تھا۔

ان کے کشمیر کے بارے میں حالیہ بیانات کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی گئی ہیں کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوسکتے ہیں اور امریکا اس کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے لیے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ان کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے ساتھ ملاقات کی تصدیق کے بعد سفارتی مبصرین نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ امریکی صدر ان سے کشمیر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت نے پانچ اگست کو متنازع ریاست جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی تھی اور ایک صدارتی آرڈی ننس کے تحت اس کو حاصل خود مختاری بھی ختم کردی تھی۔ اس اقدام کے تحت اس ریاست میں بھارت کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی جائیدادیں خرید کرسکتے ہیں۔اس اقدام کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جموں وکشمیر کو ملک کے باقی علاقوں سے مربوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے لیکن پاکستان اور کشمیریوں نے اس اقدام کو مسترد کردیا ہے۔ اہل کشمیر تب سے اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔بھارتی حکام نے ان کے احتجاج کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ پر گذشتہ پچاس روز سے پابندی عاید کررکھی ہے۔

اس دوران میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے چار ہزار سے زیادہ افراد کو احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کیا ہے۔ ان میں دو سو سے زیادہ سیاست دان اور تین سابق وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے مختلف کشمیری گروپوں اور تنظیموں پر مشتمل کل جماعتی حریت کانفرنس کے ایک سو سے زیادہ لیڈروں اور سرکردہ کارکنان کو گرفتار کیا ہے۔

پاکستان بھارت کے اس اقدام اور مقبوضہ ریاست میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں کی سخت مخالفت کررہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے خود کو کشمیریوں کا سفیر قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں اس دیرینہ تنازع کو اٹھائیں گے۔ وہ عالمی برادری کے سامنے مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورت حال پیش کریں گے اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کریں گے۔

انھوں نے امریکا کے سات روزہ دورے کے دوسرے روز نیویارک میں امریکی کانگریس کے ارکان ، اسکالروں ، انسانی حقوق کے علمبردار کارکنوں اور میڈیا کے نمایندوں سے گفتگو کی ہے اور انھیں ریاست جموں وکشمیر کو ضم کرنے کے لیے بھارتی اقدام کے مضمرات سے آگاہ کیا ہے۔ وہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چوہترھویں سالانہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند