تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کشمیر پر عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو دو ایٹمی ممالک آمنے سامنے ہوں گے: عمران خان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 27 محرم 1441هـ - 27 ستمبر 2019م KSA 21:03 - GMT 18:03
کشمیر پر عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو دو ایٹمی ممالک آمنے سامنے ہوں گے: عمران خان
اقوام متحدہ کی آزمائش ہے کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلائے: وزیر اعظم پاکستان عمران خان
ایجنسیاں

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ بھارت، کشمیر میں قتل عام کے لیے پر تول رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو کسی ایٹمی طاقت کی طرف سے آخر تک لڑی جانے والی جنگ کے نتائج سے بھی خبردار کیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے کے 74 ویں سالانہ اجلاس ميں پاکستانی وزيراعظم عمران خان نے اپنے جذباتی خطاب ميں اسلاموفوبيا، ماحولیاتی تبدیلی، عالمی سطح پر دہشت گردی، افغان جنگ اور کشمير ميں بھارتی اقدامات سميت کئی اہم عالمی امور پر گفتگو کی۔

عمران خان نے جنرل اسمبلی سے اپنی تقرير ميں بالخصوص اسلاموفوبيا اور مسئلہ کشمير پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپيل کی کہ اقوام متحدہ کا قيام اس ليے عمل ميں آيا تھا کہ اگر دو ملکوں کے مابين کسی معاملے پر تنازع ہو، تو يہ عالمی تنظيم اس کا حل تلاش کرنے ميں معاونت فراہم کرے۔ اپنی تقرير ميں عمران خان نے بھارتی وزيراعظم نريندر مودی اور ان کے اقدامات پر کڑی تنقيد کی۔

عمران خان نے کہا، ''کشمير ميں نا انصافی صرف مسلمانوں کے ساتھ ہو رہی ہے، کشميری ہندوؤں کے ساتھ نہيں۔‘‘ پاکستانی وزير اعظم نے بھارتی ہندو قوم پرست تنظيم 'آر ايس ايس‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ يہ تنظيم مسلمانوں کی نسل کشی چاہتی ہے۔ عمران خان نے نئی دہلی حکومت کے کشمير ميں اقدامات کو اسی ذہنيت سے جوڑا اور کہا کہ وہاں مسلمانوں کو ہدف بنايا جا رہا ہے۔ وزير اعظم نے عالمی رہنماؤں سے مخاطب ہو کر کہا کہ حاليہ اقدامات سے بھارت کے 180 ملين مسلمان مايوس ہوں گے اور ممکن ہے کہ چند ايک انتہا پسندی کی طرف بھی راغب ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ کوئی کارروائی کر بيٹھيں۔ انہوں نے خبردار کيا، ''پھر اس کا الزام ہم پر لگا ديا جائے گا۔‘‘

مسئلہ کشمير کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی وزيراعظم نے مزيد کہا کہ اس وقت دنيا بھر ميں مسلمان نا انصافی کا شکار ہيں۔ عمران خان نے روہنگيا مسلمانوں کی حالت زار کا بھی تذکرہ کيا اور عالمی رہنماؤں سے کہا کہ ايسے اقدامات لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکيلتے ہيں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، مقبوضہ وادی میں اضافی فوجی نفری تعینات کی اور کرفیو لگاکر 80 لاکھ لوگوں کو گھروں میں محصور کردیا۔

اختتام ميں عمران خان نے بھارت سے مطالبہ کيا کہ کشمير ميں پچپن ايام سے نافذ کرفيو ہٹايا جائے۔ انہوں نے خبردار کيا کہ اگر دونوں ملکوں کے مابين جنگ ہو جاتی ہے، تو جوہری قوت کی حامل دو قوتوں کے مابين جنگ کے اثرات پوری دنيا پر مرتب ہو سکتے ہيں۔ عمران خان نے کہا کہ ''يہ دھمکی نہيں، فکر ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہيں۔‘‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں 'قتل عام‘ کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کا بھارتی فورسز کے ذریعے کشمیر میں سکیورٹی لاک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیر میں کرفیو فوراﹰ ختم کیا جائے، جہاں بھارت نے اپنے نو لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم نے کہا، ''کشمیری عوام سڑکوں پر نکلیں گے، تو پھر یہ فوجی کیا کریں گے؟ وہ انہیں گولیوں سے نشانہ بنائیں گے۔‘‘

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم سے متعلق کہا کہ مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں جو ہٹلر اور مسولینی کی پیروکار تنظیم ہے۔ آر ایس ایس کے نفرت انگیز نظریے کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا۔ آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے اور یہ ہٹلر سے متاثر ہو کر بنی۔ آر ایس ایس بھارت سے مسلمانوں اور عیسائیوں سے نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ اسی نظریے کے تحت مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا ً 2 ماہ سے کرفیو نافذ ہے،جس کے اٹھتے ہی بھارت خونریزی کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح آج 80 لاکھ کشمیری مسلمان محصور ہیں ،اس طرح صرف 8 لاکھ یہودی قید ہوتے تو کیا اقوام عالم یوں ہی خاموش رہتا ؟کیا مسلمان دیگر اقوام سے کمتر ہیں؟

عمران خان نے منی لانڈرنگ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غریب ملکوں کو وہاں کا اشرافیہ طبقہ لوٹ رہا ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر غریب ملکوں سے ترقی یافتہ ملکوں میں چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امیر افراد اربوں ڈالر غیر قانونی طریقے سے یورپ کے بنکوں میں منتقل کردیتے ہیں۔ ہمارے ملک کا قرضہ 10 برس میں 4 گنا بڑھا ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس کی آدھی رقم قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ہم نے مغربی دارالحکومتوں میں کرپشن سے لی گئی جائیدادوں کا پتا چلایا۔ امیر ممالک میں ایسے قانون ہیں جو مجرموں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے غریبوں کی زندگی بدلنے پر دولت خرچ نہیں ہوتی۔ ہمیں مغربی ملکوں میں بھیجی گئی رقم واپس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ حکمرانوں کو لوٹی گئی رقم بیرون ممالک بنکوں میں رکھنے سے روکا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے اسلاموفوبیا پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے بعد سے اسلاموفوبیا میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ بعض ملکوں میں مسلم خواتین کا حجاب پہننا مشکل بنادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیاد پرست اسلام یا دہشت گرد اسلام کچھ نہیں ہوتا۔ اسلام صرف ایک ہے جو حضرت محمد ﷺ نے ہمیں سکھایا ہے۔ مغرب کو سمجھنا ہو گا کہ مسلمان اپنے آخری نبیﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ مغرب میں کچھ لوگ جان بوجھ کر مسلمانوں کو تکلیف دینے کے نفرت انگیز بات کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ کوئی مذہب بنیاد پرستی نہیں سکھاتا۔ افسوس کی بات ہے بعض سربراہان اسلامی دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے مسلم ملکوں کے سربراہوں نے اس بارے میں توجہ نہیں دی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند