تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
برطانوی پولیس کی الطاف حسین کے خلاف دہشت گردی کی حوصلہ افزائی پر فردِ الزام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 1 رجب 1441هـ - 25 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 10 صفر 1441هـ - 10 اکتوبر 2019م KSA 17:23 - GMT 14:23
برطانوی پولیس کی الطاف حسین کے خلاف دہشت گردی کی حوصلہ افزائی پر فردِ الزام
ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین ۔ فائل تصویر
لندن ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں

برطانوی پولیس نے پاکستان کے شہر کراچی سے تعلق رکھنی لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم) کے بانی قائد الطاف حسین کے خلاف ایک اشتعال انگیز تقریر پر دہشت گردی کی فردِ الزام عاید کی ہے۔

الطاف حسین نے 22 اگست 2016ء کو لندن سے یہ اشتعال انگیز تقریر کی تھی اور ان کے سامعین کا مجمع کراچی میں موجود تھا۔انھوں نے اپنے حامیوں کو دہشت گردی پر اکسایا تھا اور ان کی دہشت گردی کے ارتکاب کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ (لندن پولیس) نے انھیں حراست میں لے لیا ہے اور انھیں ویسٹ منسٹر میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔اس موقع پر ایم کیو ایم کے بعض کارکنان بھی ان کے ہم راہ تھے۔الطاف حسین آج اپنی ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد لندن میں ایک ساؤتھ ورک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے تھے۔ان پر میٹروپولیٹن کی کاؤنٹر ٹیررازم کمانڈ (انسدادِ دہشت گردی کمان )نے فرد الزام عاید کی ہے۔

میٹ پولیس نے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ الطاف حسین ساکن ایبے ویو ،مِل ہِل، این ڈبلیو سات پر دہشت گردی ایکٹ (ٹیکٹ) مجریہ 2006ء کی شق 1(2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

برطانوی پولیس کے عاید کردہ الزام کے مطابق الطاف حسین نے مذکورہ تاریخ کو کراچی ، پاکستان میں ایک مجمع کے سامنے (لندن سے) تقریر کی تھی۔اس میں انھوں نے اپنے سامعین کو براہِ راست اور بالواسطہ دہشت گردی کی کارروائیوں کی ترغیب دی تھی اور ان کی دہشت گردی کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی۔

پولیس نے مزید کہا ہے کہ ’’ الطاف حسین کو اس سے پہلے 11 جون کو سنگین جرائم کے ایکٹ 2007ء کی شق 44 کے منافی جرائم کی جان بوجھ کر حوصلہ افزائی یا معاونت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔پھر انھیں ان الزامات کے تحت ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

دہشت گردی ایکٹ (ٹیکٹ) مجریہ 2006ء کی شق 1(2) کے تحت کوئی بھی فرد ایک جرم کا مرتکب گردانا جائے گا اگر وہ :
الف ۔کوئی ایسا بیان شائع کرتا ہے جس پر اس شق کا اطلاق ہوتا ہے یا کسی دوسرے کی اس طرح کے بیان کی اشاعت کے لیے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

ب۔ ان بیانات کی اشاعت کا یہ مقصد ہو کہ عوام کے ارکان کی دہشت گردی یا روایتی جرائم کے ارتکاب کے لیے حوصلہ افزائی ہو اور وہ اس طرح کے بیانات کی بنا پر جرائم کا ارتکاب کریں۔

اس ایکٹ کی دفعہ 1(7) کے تحت قصور وار پائے گئے شخص کو پندرہ سال تک قید ، جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جاسکتی ہیں۔

لندن میں حکومتِ پاکستان کے وکیل ٹوبی کیڈمین نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میٹرو پولیٹن پولیس کا الطاف حسین پر فرد الزام عاید کرنے کا فیصلہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان اس کیس پر دوطرفہ تعاون کا ایک ثبوت ہے۔اگر دونوں ممالک کی حکومتیں اس طرح کے سنگین کیسوں میں ایک دوسرے سے مل کر کام کریں تو ایسے ہی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی پر دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کے جرم پر فرد الزام عاید کی گئی ہے اور یہ ایک بڑا سنگین جرم ہے۔اب الطاف حسین کو ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور وہ انھیں تحویل میں رکھنے یا ضمانت پر مرکزی فوجداری عدالت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کریں گے جہاں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

کیڈمین کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کے خلاف کراؤن پراسیکیوشن سروس کے میٹ پولیس کو مشورے کے بعد فرد الزام عاید کی گئی ہے کیونکہ اس کا کہناتھا کہ ملزم پر دہشت گردی کی فرد الزام کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند