تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عمران ،روحانی ملاقات:ایران کا پاکستان کی خطے میں امن کاوشوں کا خیرمقدم
ہم مصالحت کارنہیں،برادراسلامی ممالک ایران اور سعودی عرب میں سہولت کاری چاہتے ہیں: عمران خان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 13 صفر 1441هـ - 13 اکتوبر 2019م KSA 17:21 - GMT 14:21
عمران ،روحانی ملاقات:ایران کا پاکستان کی خطے میں امن کاوشوں کا خیرمقدم
ہم مصالحت کارنہیں،برادراسلامی ممالک ایران اور سعودی عرب میں سہولت کاری چاہتے ہیں: عمران خان
وزیراعظم عمران خان تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں گفتگو کررہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی ہے۔وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحتی کوششوں کے ضمن میں آج ایک روزہ سرکاری دورے پر تہران پہنچے تھے۔

ملاقات کے بعد صدر حسن روحانی نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا:’’ میں نے وزیراعظم عمران خان سے کہا ہے کہ ہم پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لیے کسی بھی اظہاریے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان کے اپنے ملک کے دورے کو سراہتے ہیں۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’انھوں نے ملاقات میں یمن میں جاری جنگ اور امریکا کی ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیوں سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ علاقائی امور کو علاقائی ذرائع اور مذاکرات کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔ہم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ خیر سگالی کے کسی بھی جذبے کا اسی جذبے سے اور اچھے الفاظ میں جواب دیا جانا چاہیے۔‘‘

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے جوہری سمجھوتا کیسے بحال کیا جاسکتا ہے،اس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے خبردار کیا کہ ایران کسی بھی دھمکی کا جواب دے گا اوریہ سوچنا بڑی غلطی ہے کہ وہ کوئی جواب نہیں دے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر صدر حسن روحانی کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق میں آواز اٹھانے پر شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا:’’جناب صدر!وفد کے ہمراہ میرا یہاں آنے کا بڑا مقصد یہ ہے کہ ہم خطے میں کوئی تنازع نہیں چاہتے ہیں۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گذشتہ پندرہ سال کے دوران میں ستر ہزار سے زیادہ جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔افغانستان ابھی تک مصائب سے دوچار ہے،شام میں خوف ناک تباہی ہوئی ہے۔ہم دنیا کے اس حصے میں کوئی اور تنازع نہیں چاہتے ہیں۔‘‘

انھوں نے ایرانی صدر سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’’ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔اس کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات استوار ہیں۔سعودی عرب ہمارا قریب ترین دوست ہے۔سعودی عرب نے ہمیشہ وقتِ ضرورت ہماری مدد کی ہے۔ہمارے اس دورے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان کوئی تنازع نہیں چاہتے ہیں۔‘‘

عمران خان کا کہنا تھا:’’ہمیں یہ تسلیم ہے کہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔اس کو مذاکرات کے ذریعے طے کیا جاسکتا ہے۔سعودی عرب اور ایران میں کبھی کوئی جنگ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف پورا خطہ متاثر ہوگا، دونوں برادر ممالک متاثر ہوں گے بلکہ اس سے دنیا میں غربت بڑھے گی ، تیل کی قیمتیں چڑھ جائیں گی۔اس تنازع میں بعض کے مفادات وابستہ ہوسکتے ہیں۔‘‘

انھوں نے ایران کے بعد سعودی عرب کے آیندہ دورے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کا اپنا اقدام ہے اور صدر حسن روحانی سے ملاقات کے بعد ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔میں سعودی عرب ایک مثبت ذہن کے ساتھ جاؤں گا۔ہم ایک سہولت کار کا کردار ادا کریں گے، مصالحت کار کا نہیں۔ہم دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان سہولت کاری چاہتے ہیں۔یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے لیکن اس کو حل کیا جاسکتا ہے۔‘‘

عمران خان نے بتایا کہ ’’ہم نے ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری ڈیل کی بحالی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ہم جب نیویارک میں تھے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہم سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے کہا تھا لیکن پاکستان مشکلات سے بھی آگاہ ہے۔‘‘

پاکستان کی حکمراں تحریک انصاف کے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ کے مطابق دونوں لیڈروں نے ملاقات میں وسیع تر موضوعات پر مشاورت کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔وہ خطے میں امن اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کوتیار ہے۔

دونوں لیڈروں کی ملاقات میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل سیّد ذوالفقارعباس بخاری اور دوسرے عہدے دار بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بھی ملاقات کی۔انھوں نے ہی تہران آمد پر پاکستانی وفد کا خیرمقدم کیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چودہ ستمبر کو سعودی آرامکو کی دو تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔امریکا اور سعودی عرب نے ایران پر ان حملوں کا الزام عاید کیا تھا لیکن سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سی بی ایس کے پروگرام ’’ساٹھ منٹ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند