تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شاہ سلمان کا عمران خان سے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
امن و سلامتی مشن پر وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب پہنچ گئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 15 صفر 1441هـ - 15 اکتوبر 2019م KSA 21:36 - GMT 18:36
شاہ سلمان کا عمران خان سے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
امن و سلامتی مشن پر وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب پہنچ گئے
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

وزیر اعظم عمران خان خطے میں امن وسلامتی کے لیے ایران کے دورے کے بعد سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے جہاں انھوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی اور خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

شاہ خالد ایئرپورٹ کے رائل ٹرمینل پر گورنر ریاض فيصل بن بندر بن عبد العزيز السعود اور وزیر مملکت اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔

سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز، سعودی حکام اور سفارت خانے کے دیگر افسران بھی وزیر اعظم کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار بخاری بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل ایران کا بھی ایک روزہ دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ہم برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین تنازع نہیں چاہتے، تصادم کی صورت میں خطے میں غربت اور تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا اور اس کے پیچھے مفاد پرست خوب فائدہ اٹھائیں گے۔

انہوں نے ایرانی صدر کو مخاطب کرکے کہا کہ ’ہم خطے میں تصادم نہیں چاہتے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے گزشتہ 15 برس میں 70 ہزار انسانی جانوں کی قربانی دی، افغانستان تاحال مسائل سے دوچار ہے جبکہ شام میں بدترین صورتحال ہے، ہم دنیا کے اس خطے میں مزید تصادم نہیں چاہتے‘۔

وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ ’سعودی عرب ہمارا قربی دوست ہے، ریاض نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی، ہم موجودہ صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھتے ہیں، لیکن ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے‘۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ریاض اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند