تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فضل الرحمٰن کی عمران خان کو استعفے کے لیے دو دن کی مہلت
فوج غیر جانبدار ادارہ ہے، انتشار ملک کے مفاد میں نہیں: آئی ایس پی آر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 3 ربیع الاول 1441هـ - 1 نومبر 2019م KSA 22:25 - GMT 19:25
فضل الرحمٰن کی عمران خان کو استعفے کے لیے دو دن کی مہلت
فوج غیر جانبدار ادارہ ہے، انتشار ملک کے مفاد میں نہیں: آئی ایس پی آر
جمعیت علماء اسلام [ف] کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کر رہے ہیں
اسلام آباد ۔ ایجنسیاں

جمعیت علماء اسلام ’’جے یو آئی ۔ ف‘‘ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اداروں کو 2 دن کی مہلت دتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان استعفے دے ديں ہم پرامن طريقے سے واپس چلے جائيں گے۔

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فضل الرحمان نے کارکنوں کو 2 روزتک مزيد دھرنا دينےکی ہدايت کرتے ہوئے کہا کہ استقامت کے ساتھ جمع رہنا ہے استعفے کے مطالبے پر قائم ہيں۔ عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گيا ہے فيصلہ بھی عوام نے ہی کرنا ہے،دو دن تک انتظار کرنا ہے، استعفیٰ نہ ملا تو فيصلہ عوام کو کرنا ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت کو جانا ہی جانا ہے اداروں کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں، پرامن لوگ ہيں، چاہتے ہيں۔ امن کے دائرے ميں رہيں لیکن یہ مجمع قدرت رکھتا ہے کہ وزيراعظم ہاؤس سے وزير اعظم کو گرفتار کرلے۔ ہماری بات بلاول، زرداری اور نوازشريف سب سن ليں، ہم جن کوسنانا چاہتے ہيں وہ سب بھی سن ليں، ورنہ انسانوں کا سمندر وزيراعظم کو بھی خود گرفتار کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتيں ايک جذبے کیساتھ جمع ہوئی ہيں، تمام جماعتوں کے قائدين کو خوش آمديد کہتا ہوں۔ وزيراعظم کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ ملک ميں انصاف پرمبنی نظام چاہتے ہيں، عوام کی مرضی ہے وہ جسے چاہے منتخب کريں۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے اليکشن کے نتائج ناقابل قبول ہيں۔ 25 جولائی 2018کے اليکشن کالعدم قرارديے جائيں۔ نااہل حکمران زيادہ دير ملک نہيں چلا سکتے۔ ناقص پاليسيوں کی وجہ سے ملکی معشيت تباہ ہوچکی۔ يہ قوم ظالم حکمرانوں سے آزادی چاہتی ہے، پاکستانی معیشت پر ایسے لوگ بٹھائے جائیں گے جو مغرب کو خوشحال بنائیں اور پاکستانی معیشت کو ان کا گروی بنائیں گے۔ انہوں نے پاکستانی معیشت کو غلام بنا دیا، ہم پاکستان کی غلام معیشت کو تسلیم نہیں کرتے۔

ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ فلسطینیوں کی حمایت ہے۔ آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ قائد اعظم نے فلسطینیوں کی زمین پر یہودیوں کے قبضے کی مخالفت کی تھی۔ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا پہلا بنیادی نکتہ نوزائیدہ مسلمان ریاست پاکستان کا خاتمہ تھا۔

کشمیر کے حوالے سے مولانا کا کہنا تھا کہ ظالم حکمرانوں نے کشميرکا بھی سودا کر ديا ہے۔ کشميريوں کی جنگ عوام لڑيں گے۔ ظالم حکمرانوں نے کشمير کا بھی سودا کر ديا ہے۔ کشميری عوام کبھی خود کو تنہا محسوس نہ کريں۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور مذہب کو جدا نہيں کياجاسکتا، کہا جاتا ہے ہم مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہيں، آپ کون ہوتے ہيں مغرب کو خوش کرنےوالے؟ پاکستانی آئین ہمیں مذہب کی بات کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ آپ کون ہوتے ہوئے ہمیں اسلام کی بات سے روکنے والے آپ کون ہوتے ہيں ہميں روکنےوالے؟ پاکستان ہے تو اسلام ہے، اسلام ہے تو پاکستان ہے۔

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے پہلی مرتبہ لکھی ہوئی تقریر کے بجائے فی البدیہہ اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دوران تقریر شدید جذباتی ہو گئے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان عوام کے ووٹ سے اقتدار میں نہیں آئے بلکہ سلیکٹرز کے کاندھوں پر سوار ہو کر وزیراعظم بنے۔ اس لیے اب سلیکٹڈ کو عوام کی فکر نہیں۔ صرف سلیکٹرز کو خوش رکھا جا رہا ہے جبکہ عوام پر مہنگائی اور ٹیکس کا ناقابل برداشت بوجھ ڈالا جارہا ہے۔

انہوں نے سلیکٹرز کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور میں بھی دھاندلی ہوئی۔ پرویز مشرف نے بھی دھاندلی کا سہارا لیا مگر فوج کو پولنگ اسٹیشن کے اندر نہیں گھسایا۔ یہاں تک کے 2008 اور 2013 کے انتخابات کے دوران ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی پھر بھی فوج کو انتخابی عمل میں صرف سیکیورٹی کی ڈیوٹی دی گئی مگر 2018 کے انتخابات میں نالائق کو جتوانے کے لیے فوج کو پولنگ اسٹیشن کے اندر تعینات کیا گیا اور فوجی اہلکاروں نے دوسری جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس سازش نے ہمارے عظیم اداروں کو متنازع کردیا ہے کیوں کہ یہ فوج عمران خان کی نہیں بلکہ ہم سب کی فوج ہے اور ہم اس کو متنازع نہیں بننے دیں گے۔

اس سے قبل جمعہ کی دوپہر حکومت مخالف آزادی مارچ سے خطاب میں ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ لاکھوں کا سمندر سلیکٹڈ حکمران اور حکومت کو بہا لے جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اب جو تبدیلی آئی گی وہ جھوٹ، غرور اور مغالطے کو دفن کردے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ میاں نوازشریف کی قیادت میں ہماری حکومت جلد قائم ہو گی جس کے بعد ہم صرف 6 ماہ میں معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کردیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میرا نام شہباز شریف کی جگہ عمران خان نیازی رکھ دینا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پرانا پاکستان بہتر تھا، پرانے پاکستان میں نوازشریف کی قیادت میں لوگوں کو مفت دوائیاں ملتی تھیں، مگر آج دوائیاں چھین لی گئی ہیں، بتاؤ نیا پاکستان بہتر ہے یا پرانا پاکستان بہتر تھا؟

خطاب پر فوجی ترجمان کا ردعمل

ادھر افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ’مولانا فضل الرحمان سینیئر سیاست دان ہیں۔ وہ بتائیں کہ وہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں۔ کیا وہ الیکشن کمیشن کی بات کر رہے ہیں، عدالتوں کی بات کر رہے ہیں یا ان کا اشارہ فوج کی طرف ہے۔‘ فوجی ترجمان کے بقول: ’فوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے، ہم آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، ہم نے جان اور مال کی قربانی دے کر ملک میں امن قائم کیا۔ اس وقت بھی لائن آف کنٹرول پر کشیدگی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فوج کی سپورٹ جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ ہے۔ کسی ایک پارٹی کے لیے نہیں ہے۔ حکومت کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر سپورٹ کر رہے ہیں۔  نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’فوج نے انتخابات میں اپنی آئینی وقانونی ذمہ داری پوری کی، کسی کو ملکی امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘ ’ملک کسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جمہوری مسائل جمہوری طریقے سے حل ہونے چاہئیں، سڑکوں پر آ کر الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔‘

افواج پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ ’اگر کسی جماعت کو الیکشنز کے نتائج پر تحفظات ہیں تو وہ آئین کے اندر متعلقہ فورمز سے رجوع کرے۔ ایک سال گزر گیا اپوزیشن اب بھی متعلقہ ادروں کے پاس جا سکتی ہے۔‘
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند