تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اسلام آباد میں بارش کے باعث سردی، دھرنے کے شرکا کو مشکلات کا سامنا
وزیراعظم کا بارش کے باعث دھرنے کے شرکاء کی مشکلات کا نوٹس، سی ڈی اے چیئرمین کو سائٹ وزٹ کی ہدایت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 8 ربیع الاول 1441هـ - 6 نومبر 2019م KSA 11:13 - GMT 08:13
اسلام آباد میں بارش کے باعث سردی، دھرنے کے شرکا کو مشکلات کا سامنا
وزیراعظم کا بارش کے باعث دھرنے کے شرکاء کی مشکلات کا نوٹس، سی ڈی اے چیئرمین کو سائٹ وزٹ کی ہدایت
اسلام آباد ۔ ایجنسیاں

وفاقی دارالحکومت میں بارش کے باعث سردی بڑھ گئی جس کے نتیجے میں اپوزیشن کے دھرنے کے شرکاء کو مشکلات کا سامنا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے دارلحکومت کے ترقیاتی ادارے کے سربراہ کو ہدایت کی ہے وہ دھرنا کے مقام کا جائزہ لیں اور جاننے کی کوشش کریں کہ شرکاء کو کس قسم کی مدد کی ضرورت ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے حالات دیکھ کر بتائیں کہ دھرنا شرکاء کو کیا ریلیف یا مدد مہیا کی جا سکتی ہے۔

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کا دھرنا 7 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے اور اپوزیشن کو حکومت کے ساتھ ساتھ موسمی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ رات گئے گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی جس کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ تیز ہوائیں چلنے سے متعدد خیمے اکھڑ گئے جس کے نتیجے میں کچھ لوگوں نے پولیس کے کنٹینرز میں پناہ لی تو بعض شرکا کو رات میٹرو بس اسٹیشن میں گزارنی پڑی۔

بارش کے بعد جلسہ گاہ میں ہر طرف کیچڑ ہوگئی جس نے آزادی مارچ کے مظاہرین کو مشکلات میں ڈالے رکھا۔ ادھر شہر کے تمام اہم علاقوں میں شاہراؤں پر کنٹینر رکھ کر سنگل لائن کردی گئی ہے تاہم کسی بھی کنٹینر پر ریفلیکٹرز نہیں لگائے گئے جس سے حادثات کا خدشہ ہے۔

رات گئے مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں چودھری براداران کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانافضل الرحمن نے مزاح میں کہا کہ آج ہم چوہدری صاحب سے حلوہ کھانے کے لئے آئے ہیں، اللہ کرے مگھڈی حلوہ اچھا بنا ہو اور شوگر فری ہو۔

مولانا فضل الرحمن کی چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزالہی سے ملاقات میں صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر بھی شریک ہوئے۔ چوہدری پرویز الہی نے مولانا فضل الرحمان کو وزیراعظم کا پیغام پہنچایا اور چوہدری شجاعت حسین نے معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کا مشورہ دیا۔ چوہدری برادران نے فضل الرحمان کو وزیراعظم کے استعفی کے مطالبے سے دستبردار کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند