تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جمعیت علماء اسلام [ف] کا 'پلان بی،' ملک بھر میں دھرنے اور سڑکیں بند کرنے کا اعلان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 15 ربیع الاول 1441هـ - 13 نومبر 2019م KSA 18:13 - GMT 15:13
جمعیت علماء اسلام [ف] کا 'پلان بی،' ملک بھر میں دھرنے اور سڑکیں بند کرنے کا اعلان
ایجنسیاں

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں آزادی مارچ  اور تیرہ روزہ دھرنا ختم کر کے سڑکوں پر آنے کا اعلان کر دیا تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھا کر اسے استعفا دینے پر مجبور کیا جا سکے۔

اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک نئے محاذ پر جانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ دو ہفتوں سے ایک قومی سطح کا اجتماع تسلسل کے ساتھ ہوا۔ ہماری قوت یہاں پر جمع ہیں جب کہ ہمارے دیگر کارکنان یہاں دھرنے میں شریک افراد کے تعاون کے منتظر ہوں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سڑکوں پر موجود اپنے ساتھیوں کے پاس جائیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ دیوار ہل چکی ہے اس کو ایک دھکا دینے کی ضرورت ہیں۔ ہم اگلے مرحلے میں اس دیوار کو گرا دیں گے۔ اب ہم شہروں کے اندر نہیں بلکہ باہر شاہراہوں پر بیٹھیں گے، جس طرح ہم یہاں پر امن تھے اگلے محاز پر بھی پرامن رہیں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے جاری رہے گا۔ ہم آج ہی یہاں سے روانہ ہوں گے۔ دنیا نے تسلیم کیا کہ آپ کتنے منظم ہیں۔ دوسرے محاذ پر بھی ہمیں پرامن رہنا ہے۔ جس طرح مجھے اپنے کارکن کی زندگی عزیز ہے، اسی طرح مجھے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کا خون بھی عزیز ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں لیکن عام شہری کی زندگی متاثر نہیں کریں گے بلکہ شاہراہوں پر بیٹھیں گے۔ کسی ایمبیولینس کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے اس فیصلے کی تائید اور حمایت کریں۔ ہم کسی ذات کی نہیں، سب کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم نے ملک کا نقصان نہیں کرنا۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ یہ تحریک چلے گی، حکومت استعفیٰ دے کر نئے انتخابات کرائے۔ ہم اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کوئی سرمایہ کاری اور امداد نہیں دے رہا۔ سارے ماحول میں پاکستان کی معیشت تنہا ہے۔ بھارت، بنگلا دیش، ایران، چین اور سری لنکا کی معیشت اوپر جا رہی ہے۔

اس سے قبل خطاب کرتے ہوئے مولانا عطاء الرحمان نے اگلے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پلان بی پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اہم شاہراہوں کو بلاک کیا چکا ہے جبکہ بلوچستان میں چمن کوئٹہ شاہراہ پردھرنا دیا گیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند