تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شاہ محمود قریشی کا سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر سے ٹیلی فونک رابطہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 9 ربیع الاول 1442هـ - 26 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: پیر 26 محرم 1442هـ - 14 ستمبر 2020م KSA 22:37 - GMT 19:37
شاہ محمود قریشی کا سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر سے ٹیلی فونک رابطہ
دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا اور را بطے تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایجنسیاں

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے پیر کو پاکستان، متحدہ عرب امارات، بحرین اور یمن کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عادل الجبیر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کی اہیمت اجاگر کرتے ہوئے سٹریٹجک تعلقات کو مزید فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا اور را بطے تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادرے ’’ایس پی اے‘‘ کے مطابق عادل الجبیر نے امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان، بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الذیانی اور یمنی وزیر خارجہ محمد الحضرمی سے بھی ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ جناب الجبیر نے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطوں کے دوران برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا جبکہ باہمی دلچسپی کے علاقائی حالات حاضرہ خصوصا یمنی بحران پر تبادلہ خیال کیا۔

یاد رہے کہ الجبیر نے اس سے قبل کہا تھا کہ ریاض معاہدے پر عمل درآمد میں تیزی لانے کا مجوزہ طریقہ کار یمنی عوام کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ اس سے ریاستی ادارے موثر ہوں گے۔ یمن کے مختلف فریق متحد ہوں گے۔ یمنی عوام کی معاشی ضروریات پوری ہوں گی۔

الجبیر نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ طریقہ کار یمنی بحران کے مکمل سیاسی حل تک رسائی کے لیے اقوام متحدہ کی کاوشوں کو تقویت پہنچائے گا۔  سعودی عہدیدار نے بتایا کہ مملکت نے ریاض معاہدے پر عمل درآمد میں تیزی لانے کے لیے طریقہ کار، یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے حوالے کردیا ہے۔

علاوہ ازیں عادل الجبیر نے پیر کو جیبوتی کے ہم منصب محمود علی یوسف سے بھی ٹیلیفونک رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور جیبوتی کے تعلقات کا جائزہ لیا۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند