تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 22 محرم 1441هـ - 22 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 28 محرم 1440هـ - 9 اکتوبر 2018م KSA 15:01 - GMT 12:01
پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات

پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور پاکستان کے اسلامی دنیا میں عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی مثال ملنا مشکل نظر آتی ہے۔ پاکستان کی کوئی بھی حکومت ہو، کوئی بھی حکمران ہو، عرب دنیا نے ہمیشہ پاکستان کو عزیز جانا اور ہر قسم کے تعصبات سے بالا تر ہو کر پاکستان کی ہر سطح پر معاونت کی لیکن میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری پیدا ہونا شروع ہوئی اور اس کے نتیجے میں بہت ساری آوازیں عرب دنیا سے پاکستان اور عرب ممالک کے تعلقات کے حوالے سے اٹھنا شروع ہوئیں۔ اگرچہ عرب ممالک پر تنقید کرنے والے بعض مبصرین نے تعلقات کی اس خرابی کا سبب یمن کے حالات کو قرار دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے کبھی بھی پاکستان سے یمن کی جنگ کیلئے افواج نہیں مانگیں جو یمن کے اندر جا کر حوثی باغیوں کے خلاف لڑیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک چاہتے یہ تھے کہ سعودی عرب پر حملہ آور ہونے والے حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف پاکستان واضح مؤقف اپنائے اور ہر اس سازش اور کوشش کو ناکام بنانے میں عرب اتحاد کا معاون ہو جس سے عرب ممالک کے اندر عدم استحکام پیدا کیا جائے ۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ماضی کی حکومت نے معاملات کو درست انداز میں پیش نہیں کیا اور پھر پارلیمنٹ کے اندر جس انداز میں عرب ممالک کو نشانہ بنایا گیا وہ لمحہ فکریہ تھا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی تقریروں کو جس انداز میں عربی میں ترجمہ کر کے پوری دنیا میں پھیلایا گیا اس سے پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان ایک خلیج پیدا ہونے لگی، لیکن پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوری طور پر عرب ممالک کا دورہ کیا اور ہندوستانی وزیر اعظم مودی جو زہر پاکستان کے خلاف عرب ممالک میں پھیلا رہے تھے اس کو کافی حد تک ناکام بنایا۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بعض عرب ممالک کے پاکستان کی بے وفائی کے حوالے سے سخت مؤقف کے سامنے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے جو مؤقف رکھا اس سے پاکستان اور اہل پاکستان کو تقویت ملی۔

انتہائی معتبر ذرائع بتاتے ہیں کہ جب پاکستان کے قریب ترین ایک عرب ملک نے ناراضگی کی بنیاد پر سعودی عرب کو ہندوستان سے تعلقات مزید مستحکم کرنے اور یمن کے معاملے میں ہندوستان سے فوجی تعاون لینے کا کہا تو شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان نہ صرف اس کو مستر د کیا بلکہ ان دوستوں کو بھی اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان سے عرب ممالک کے تعلقات افراد کی وجہ سے نہیں بلکہ دو قوموں اور عقیدے کی وجہ سے ہیں، لہذا اگر پاکستان کا کوئی حکمران غلطی بھی کرے یا عرب ممالک کے مؤقف سے اختلاف بھی رکھے اس کے باوجود عرب ممالک کو پاکستان کے ساتھ تعاون ختم نہیں کرنا چاہیے۔ اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے میں عرب ممالک نے بالخصوص سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات نے جو کردار ادا کیا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ خالد بن عبد العزیز اور متحدہ عرب امارات کے سربراہ الشیخ زید النہیان ذوالفقار علی بھٹو شہید کو ہر طرح سے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے یہ بات کہی تھی کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بننے میں جو بھی تعاون درکار ہو گا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ا س میں کوئی کمی نہیں کریں گے اور یہاں پر اگر معمر قذافی کا ذکر نہ کریں تو خیانت ہو گی۔ معمر قذافی نے بھی ابتدائی طور پر پاکستان کے ایٹمی قوت بننے میں جو تعاون کیا وہ بھی تاریخ کے اوراق میں نقش ہے۔

پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد دنیا پاکستان پر پابندیاں لگا رہی تھی لیکن سعودی عرب وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کا نہ صرف پٹرول کی مد میں تعاون کیا بلکہ پاکستان کو اقتصادی اور معاشی طور پر بھی کھڑا رکھنے میں بھرپور مدد کی۔ میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں عرب ممالک اور پاکستان کے درمیان جو خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ، اسے ناکام بنانے میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آج جبکہ پاکستان میں ایک نئی حکومت ہے اور پاکستان اقتصادی اور معاشی طور پر ایک بار پھر بحران کا شکار ہے، ان حالات میں سعودی عرب نے پاکستان کی طرف ایک بار پھر تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے۔

سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد امیر محمد بن سلمان دنیا کے سامنے پاکستان کی اہمیت اور تعلق کو واضح کرتے ہوئے ہمیشہ یہ بات کہتے ہیں کہ پاکستان میرے دل میں بستا ہے اور ہم پاکستان کو مضبوط اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان سے محبت کے حوالے سے سعودی عرب کے موجودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے خود راقم الحروف کو ایک ملاقات میں کہا کہ میرے دل کا ڈاکٹر بھی پاکستانی ہے، میں نے تو اپنا دل پاکستان کو دے رکھا ہے، اس ساری صورتحال میں ایک بار پھر پاکستان کو معاشی اور اقتصادی بحران سے نکالنے کیلئے سعودی عرب کا کردار روز و شب روز روشن کی طرح واضح ہو رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو جذبات کی بجائے حقیقت کی دنیا میں دیکھا جائے اور پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کو از سر نو مرتب کیا جائے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا جس انداز میں استقبال کیا اور اور جو پذیرائی عمران خان کو ان ممالک کے دوروں کے درمیان میسر آئی ہے اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا تعلق افراد سے نہیں پاکستانی قوم سے ہے اور اس تعلق کو کوئی قوت بھی کمزور نہیں کر سکتی اور اس کی مثال سعودی عرب کے 88 ویں قومی دن کی تقریب کی موقع پر بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ جب پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی کی دعوت پر شریک ہوئے اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اگر گذشتہ سالوں کے حوالے سے اس سال کی سعودی عرب کی قومی دن کی تقریب کو دیکھا جائے تو یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت نے حالات اور وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سعودی عرب کے سفیر کی دعوت پر جمع ہو کر پاکستان اور سعودی عرب دشمن قوتوں کو بھی پیغام دیا ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں ، پاکستان اور سعودی عرب ایک ہیں اور ایک دوسرے کو مشکلات اور مصائب سے نکالنے کیلئے متحد اور یکجا ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اعتدال پر مبنی ہو اور اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ پاکستان کے مفادات کا محافظ کون ہے اور پاکستان دشمن قوتوں کا دوست کون ہے؟ سعودی عرب کی طرف سے سی پیک میں بطور تیسرے ساتھی کے شمولیت کا اعلان بھی پاکستان کیلئے انتہائی فائدہ مند ہے، سعودی عرب اور چین پاکستان کے آسانیوں اور مشکلات کے دوست ہیں اور اگر سی پیک میں سعودی عرب اور چین پاکستان کے ساتھ مزید آگے بڑھتے ہیں تو اس سے پاکستان کی معاشی اور اقتصادی صورتحال بہتر ہو گی اور پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑے ہونے میں مدد ملے گی ۔ موجودہ عمران خان کی حکومت نے خارجہ پالیسی کو دوست ممالک کے ساتھ جس سمت میں بڑھانے کی کوشش کی ہے وہ درست سمت ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ جذباتی انداز اختیار کیے بغیر انتہائی غور وفکر کے بعد خارجہ اور داخلہ پالیسی تشکیل دی جائے تا کہ پاکستان اور پاکستانیوں کا مستقبل دوست ممالک کے ساتھ بہتر ہو۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند