تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان میں ایکسن موبائل کی واپسی سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 22 محرم 1441هـ - 22 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 25 صفر 1440هـ - 5 نومبر 2018م KSA 20:05 - GMT 17:05
پاکستان میں ایکسن موبائل کی واپسی سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات

امریکا کی کثیر قومی تیل اور گیس کارپوریشن ایکسن موبائل نے اس سال پاکستان میں تیل کے آف شور کنووں کی ڈرلنگ کے لیے 25 فی صد حصص حاصل کیے ہیں۔ اس کو ملک میں توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے کیونکہ ایکسن موبائل کی پاکستان میں کوئی 33 سال کے بعد واپسی ہوئی ہے۔

ایکسن موبائل کی آمد سے پاکستان میں تیل اور گیس کی دریافت اور انھیں نکالنے کا کام تیز رفتار ہوسکے گا کیونکہ وہ اپنے ساتھ زمین اور پانی کی گہرائی میں ڈرلنگ ( کھدائی) کا وسیع تر تجربہ بھی لا رہی ہے۔

ایکسن موبائل نے آف شور ڈرلنگ کے شعبے میں اس نئی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر امریکا میں تیل اور گیس کی مارکیٹ میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے۔اگر اس جدید ٹیکنالوجی کو پاکستان میں بھی تیل اور گیس کی دریافت اور انھیں نکالنے کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے تو اس سے مالیاتی بحران سے دوچار پاکستان کی اقتصادی قسمت یکسر تبدیل ہوسکتی ہے۔

اب تک آئیل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی ( او جی ڈی سی) ، پاکستان پٹرولیم لیمٹڈ ( پی پی ایل) اور اٹلی کی توانائی فرم ای این آئی نے پاکستان میں آف شور تیل اور گیس کی دریافت اور نکالنے کا زیادہ تر کام کیا ہے اور اس شعبے میں ان میں ہر کمپنی کا حصہ 33 فی صد تھا۔اب ایکسن موبائل کے پاکستان میں داخلے کے بعد سمجھوتے کے تحت ہر کمپنی کی شراکت داری 25 فی صد ہوگئی ہے۔

پاکستان میں جولائی میں منعقدہ عام انتخابات سے چندے قبل ہی ایکسن موبائل ، پی پی ایل ، ای این آئی ، او جی ڈی سی اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لیمٹڈ ( جی ایچ پی ایل) کے درمیان ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے بعد ان کمپنیوں نے تیل اور گیس کی دریافت کے لیے بعض علاقوں کی اسٹڈی کی ہے اور ڈرلنگ کے لیے ممکنہ علاقوں کی نشان دہی کر لی ہے۔یہ چاروں کمپنیاں مشترکہ طور پر سات کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کریں گی اور انھوں نے سندھ (انڈس) کے آف شور جی بلاک میں کیکرا-1 کے نام سے کنویں میں سب سے پہلے کھدائی کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈس جی بلاک کا علاقہ قریباً 7500 مربع کلومیٹر پر محیط ہے ۔پاکستان کے گہرے پانیوں میں آف شور علاقے میں تیل کی دریافت کے حوالے سے یہ سب سے زیادہ امید افزا بلاکوں میں سے ایک ہے۔حالیہ برسوں کے دوران میں اس بلاک میں صرف ای این آئی ہی تیل کی دریافت کا کام کرتی رہی ہے۔ اب اس کو جنوری 2019ء سے پہلی دریافت پر ڈرلنگ کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔

گذشتہ پانچ عشروں کے دوران میں پاکستان میں توانائی کا تجارتی اعتبار سے کوئی قابل عمل آف شور ذخیرہ دریافت نہیں ہوسکا ہے۔اس کام کا 1963ء میں آغاز ہوا تھا اور ایک امریکی کمپنی نے پہلی مرتبہ پاکستان کے ساحلی علاقے کے نزدیک تین کنووں کی کھدائی کی تھی لیکن وہاں سے تیل اور گیس میں کچھ بھی دریافت نہیں ہوسکا تھا۔اس کے بعد بھی آف شور دریافت اور ڈرلنگ کے لیے کی گئی تمام کوششوں کے منفی نتائج ہی برآمد ہوتے رہے تھے۔حتیٰ کہ ای این آئی اور پی پی ایل کے کھودے گئے آخری آف شور کنویں شارک -1 سے بھی کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ اگر آف شور تیل اور گیس کے کسی بڑ ے ذخیرے کی دریافت ہو بھی جاتی ہے تو وہاں مناسب انفرا اسٹرکچر کی تنصیب اور پیداوار کے آغاز میں برسوں لگ سکتے ہیں۔اس مرتبہ یو ایس ایڈ نے 1611 کنووں سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد اسٹڈی کی ہے اور اس کی ایک حوصلہ افزا جائزہ رپورٹ جاری کی ہے۔امریکا کی توانائی اطلاعاتی انتظامیہ ( ای آئی اے) نے پاکستان سے متعلق اپنے 2011ء اور 2013ء کے تخمینوں میں مثبت اشاریے دیے تھے۔

اس کے پیش نظر اب آف شور ڈرلنگ کے حوالے سے بلند توقعات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ای این آئی نے ڈرلنگ کے لیے ایک جہاز ٹھیکے پر لیا ہے ۔اس فرم نے اس مقصد کے لیے ڈرلنگ کا کام کرنے والی اٹلی ہی کی ایک کمپنی سائی پیم کی خدمات حاصل کی ہیں اور توقع ہے کہ یکم دسمبر سے ڈرلنگ کا کام شروع ہوجائے گا۔اس بلاک میں واقع کنویں کیکرا -1 میں جنوری 2019ء سے کام کا آغاز ہوجائے گا۔سائی پیم کے ترجمان نے ای این آئی کے ساتھ ڈرلنگ کے اس سمجھوتے کی تصدیق کی ہے۔

کیکرا-1 کی جگہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے قریباً 280 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔یہاں پر ڈرلنگ کا سب سے مناسب وقت دسمبر سے اپریل تک بتایا گیا ہے اور ڈرلنگ کے آپریشنز کے لیے کراچی کی بندرگاہ کو استعمال کیا جارہا ہے۔اس علاقے میں کیے گئے حالیہ سروے کے مطابق اس آف شور ڈرلنگ کے کامیاب ہونے کے روشن امکانات ہیں ۔

او جی ڈی سی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر زاہد میر اس منصوبے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’’ اس بلاک سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور یہاں سے پیداوار کے بہت روشن امکانات ہیں۔ کیکرا-1 کی خطے کے لیے بھی ایک بڑی تزویراتی اہمیت ہے اور ہم اس بلاک سے اربوں مکعب فٹ گیس کا ذخیرہ دریافت ہونے کی توقع کررہے ہیں۔اگر ہمیں یہاں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو یہ ایک طرح سے ملک کے علاوہ پورے خطے کے لیے ہی کھیل کو تبدیل کردے گی‘‘۔

یہ بھی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر پاکستان میں بڑی تیل کمپنیوں کی آف شور دریافت اور ڈرلنگ کے منصوبوں میں دلچسپی میں اضافہ ہوگا اور یوں ملک میں توانائی کے شعبے میں وسیع تر غیرملکی سرمایہ کاری کی را ہ بھی ہموار ہوگی ۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند