تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تمام عربوں سے ایک دردمندانہ اپیل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م
آخری اشاعت: پیر 29 ربیع الثانی 1440هـ - 7 جنوری 2019م KSA 19:55 - GMT 16:55
تمام عربوں سے ایک دردمندانہ اپیل

گذشتہ سال اکتوبر میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے شام کی گولان کی چوٹیوں سے متعلق ایک بیان جاری کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ان کی اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے ایک تزویراتی اہمیت ہے۔اس لیے اسرائیل کے زیر قبضہ اس علاقے کی قانونی حیثیت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے بجائے انھیں اسرائیل میں ضم شدہ علاقہ قرار دیا جائے۔

دسمبر 2018ء میں امریکی سینیٹ میں ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا گیا تھا اور اس پر اب 2019ء کے آغاز ہی میں رائے شماری ہونے والی ہے۔اس میں یہ کہا گیا ہے کہ مقبوضہ گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کی جائے۔مجوزہ بل سینیٹر ٹیڈ کروز نے پیش کیا تھا۔ان صاحب نے 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کا امیدوار بننے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ابتدائی مرحلے ہی میں ہار گئے تھے لیکن ان کا نام اب بھی امریکا میں 2020ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے ممکنہ امیدواروں کی فہرست میں شامل ہے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت پر فرق پڑتا ہے اور ایسا ممکن ہے تو پھر ٹیڈ کروز کے صدارتی امیدوار بننے کے امکانات روشن ہیں۔

ایک اور سینیٹر نے بھی اس مجوزہ قرارداد پر دست خط کیے تھے جبکہ ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے مزید سینیٹروں سے بھی اس پر دستخط لینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اس کو مجوزہ قومی بل بنایا جاسکے ،اس پر وسیع تر اتفاق رائے حاصل کیا جاسکے او ر کثرت رائے سے اس کو منظور کرایا جاسکے کیونکہ ’’اسرائیل کی سکیورٹی کی ضمانت اس کو گولان کی چوٹیوں پر خود مختاری دلانے سے ہی دی جاسکتی ہے‘‘ ۔اس مجوزہ قرارداد کے مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’ اسرائیل کی سکیورٹی امریکا کی قومی سلامتی کا حصہ ہے‘‘۔

یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ امریکی حکومت کے عہدے دار اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیان کے بعد پہلے ہی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ امریکا گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کرسکتا ہے۔

اس تناظر میں ہمیں شام کے معاملے میں ایک بڑی ہی خطرناک صورت حال کا سامنا ہے۔شام کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ سے متعلق مستقبل میں کوئی بھی بات چیت جامع اور تمام پہلووں کو مد نظر رکھ کر ہونی چاہیے۔

ایران اور ترکی سے تو شام سے انخلا اور اس کی خود مختاری کے احترام کا مطالبہ کیا جارہا ہے مگر گولان کی چوٹیوں کو اس سے الگ کرنے کے منصوبوں اور اقدامات پر خاموشی اختیار کی جارہی ہے۔ یہ نہ صرف ایک سیاسی غلطی ہے جو تنازع کے کسی حل کی ساکھ کے لیے بھی ضرررساں ہوگی بلکہ اس سے شام ، خطے اور بالخصوص عرب دنیا میں ایک بڑی سیاسی افراتفری اور اتھل پتھل بھی پیدا ہوگی۔قطع نظر اس بات کہ عرب’’ جیکبوں‘‘ نے کیا رویہ اختیار کررکھا ہے کیونکہ وہ عرب دنیا کے مستقبل سے متعلق مختلف نظریات کے حامل ہیں لیکن میری رائے میں ایسے لوگ اقلیت میں ہیں اور سیاسی طور پر یہ دانش مندانہ بات نہیں ہوگی کہ انھیں خاطر میں بھی لایا جائے ۔

اس لیے میں یہ توقع کرتا ہوں کہ اس مجوزہ قرارداد کو پیش کرنے والوں کے دلائل اس یقین دہانی پر مبنی ہوں گے کہ کوئی بھی ممالک متاثر یا پریشان نہیں ہوں گے کیونکہ ’’عرب دنیا جمود ‘‘ کا شکار ہے اور یہ کہ انھوں نے یہ یقین دہانی حاصل کر لی ہے کہ یہاں یا وہاں سے ، کہیں سے کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوگی اور نہ جوابی سفارتی اقدامات کیے جائیں گے بلکہ صرف خالی خولی محض خانہ پر ی کے لیے بیانات جاری کیے جائیں گے۔

میری رائے میں اب وقت آگیا ہے کہ کوئی لب کشائی کی جائے یا کم سے کم کوئی ٹھوس مؤقف اختیار کیا جائے۔دراصل اس معاملے میں ہم پہلے ہی بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہم نے بالکل بلا جواز پسپائی اختیار کر رکھی ہے۔

میں سب سے پہلے شامی حکومت سے اس کے مشکل حالات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس کو اس سنگین چیلنج کے پیش نظر اپنی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے کوشش کرتے ہوئے کسی خوف کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرنا چاہیے اور گولان کی چوٹیوں کے ایک مقبوضہ علاقہ ہونے کے ضمن میں اس کی حمایت کی درخواست کرنی چاہیے۔یہ بھی ملحوظ رہے کہ اسرائیل سے گولان کی چوٹیوں سے انخلا کا مطالبہ نہیں کیا جارہا ہے بلکہ اس کی ایک مقبوضہ علاقہ ہونے کی موجودہ قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کی بات کی جارہی ہے اور سلامتی کونسل کی سابقہ قرار دادوں میں بھی گولان سے متعلق یہی کچھ کہا گیا ہے۔

میں عرب ریاستوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ شام کی حمایت کریں بلکہ و ہ سلامتی کونسل میں ایک متحدہ ومشترکہ عرب مؤقف کے ذریعے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔اس سلسلے میں شام کا کوئی اقدام اس کی عرب لیگ میں واپسی سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ اس کی واپسی کا ایک مضبوط تعارف ہوگا۔میں تمام عرب ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنی اجتماعی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کوششوں کا عمل تیز کریں۔ان تمام عرب ممالک کے واشنگٹن میں اعلیٰ سطح کے سفارت خانے موجود ہیں۔ وہ سینیٹ کے ارکان اور اس کے ماہرین کے ساتھ بات چیت کریں اور شام کی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ایک مضبوط لابی قائم کریں۔اس سے عرب ممالک کی اپنے میزبان ممالک میں سیاسی مؤقف کی ساکھ کو بحال کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ امریکی اقدام بالکل غیر قانونی ہے اور اس کا کوئی بھی قابل قبول جواز ایسا نہیں ہے کہ ہم اس پر بدستور خاموشی اختیار کیے رکھیں۔

جن عرب ممالک کی واشنگٹن میں لابی ایجنسیاں ہیں، میں ان سے بالخصوص یہ بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کریں اور عرب سفارت خانوں کی مدد کریں ۔گولان کی چوٹیوں کو اپنے پاس برقرار رکھنا عرب دنیا کے تزویراتی مفاد میں ہے۔اگر ہم اس کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس سے ہماری ساکھ اور اعتباریت بحال ہوگی اور اس سے ہر کوئی فائدہ اٹھائے گا۔ہمیں ایک کھلی ناانصافی اور غلط رویے کا سامنا ہے ،ہمیں اس کو حقیقت کا روپ اختیار کرنے سے قبل درست کرنا ہوگا۔ہمیں اٹھ کھڑے ہونا ہوگا ،ورنہ ہمیں پچھتانا پڑے گا اور اس کی قیمت بھی چکانا پڑے گی۔محض مذمتی بیانات یا جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد کی منظوری کو عرب رائے عامہ اور سیاسی حلقے کوئی قابلِ اعتبار مؤقف نہیں گردانیں گے بلکہ اس پر تو وہ ٹھٹھا اڑائیں گے اور ایسا مؤقف عرب دنیا پر دھول اڑانے کا ایک ذریعہ بن جائے گا۔

آخر میں ، میں روس اور صدر ولادی میر پوتین سے ، جنھیں عرب دنیا میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس خطرناک پیش رفت کے حوالے سے ایک پختہ مؤقف اختیار کریں۔اگر شام میں روس کے موجود ہوتے ہوئے گولان کی چوٹیوں کی قانونی حیثیت کو تبدیل کیا جاتا ہے اور اس علاقے کو اس عرب ملک سے الگ کردیا جاتا ہے تو اس سے مشرقِ اوسط میں روس کی پالیسیوں کی اعتباریت کے حوالے سے سوال اٹھائے جائیں گے اور عرب دنیا میں اس ملک کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچے گا۔میں روس سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ شام کے سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کے حق کے حوالےسے ایک مثبت مؤقف اختیار کرے اور وہ اس معاملے میں امریکا سے براہ راست ایک سپر پاور کی حیثیت سے معاملہ کرے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند