تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایک آزاد ایران کی خارجہ پالیسی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 19 محرم 1441هـ - 19 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 26 جمادی الثانی 1440هـ - 4 مارچ 2019م KSA 17:58 - GMT 14:58
ایک آزاد ایران کی خارجہ پالیسی

1979ء کے انقلاب کے بعد سے اسلامی جمہوریہ کی خارجہ پالیسی ایک نظریے کے تحت وضع کی گئی ہے جس کا مقصد انقلاب کو فروغ دینا اور مشرقِ اوسط کو تبدیل کرنا ہے۔اسلامی رجیم کے تحت ایران امریکا سے جنگ آزما ہے، اس نے اسرائیل اور عرب دنیا سے محاذ آرائی کی ہے ۔اس نظام نے ایران کے قومی مفاد اور ایرانی عوام کے عمومی مفادات کی مخالفت کی ہے۔اسلامی جمہوریہ ممکن ہے عراق ، شام اور لبنان میں ایک بالادست قوت بن چکا ہو لیکن ایران خود عشروں سے جاری ان پالیسیوں کی وجہ سے تباہ حال ہوچکا ہے۔ان پالیسیوں کے نتیجے میں اس کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے اور وہ اقتصادی اور ماحولیاتی طور پر زبوں حال ہوچکا ہے۔

رجیم کے کردار کے ردعمل میں عاید ہونے والی پابندیوں کے نتیجے میں ایران اپنی توانائی کی صنعت کو جدید نہیں بنا سکتا ہے اور وہ اپنا تیل بھی فروخت نہیں کرسکتا۔ ایران کرہ ارض پر امیر ترین ملک بن سکتا ہے مگر اس صلاحیت کے باوجود اس کو پانی اور خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ایرانی بھوکے پیاسے مررہے ہیں اور آیت اللہ علی خامنہ ای کا نظام شام ، عراق اور یمن میں جنگوں پر اربوں ڈالرز لٹا رہا ہے مگر ان سے ایرانی عوام کے مفادات کا کوئی تحفظ بھی نہیں ہو رہا ہے۔

تاہم ایرانی توسیع پسندانہ عزائم کے حامل اس انقلابی نظام کے تحت نہیں رہنا چاہتے ہیں۔ایک سال سے زیادہ عرصے سے ایرانی شہری شاہراہوں پر نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور وہ شام ، لبنان اور غزہ اور اس سے ماورا علاقوں میں اسلامی جمہوریہ کی مہنگی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔وہ یہ نعرے بلند کرتے سنائی دیتے ہیں:’’ میری زندگی ایران کے لیے ہے ،شام اور لبنان کے لیے نہیں ‘‘۔ ان کا ایک اور مقبول نعرہ یہ ہے :’’ حقیقی دشمن تو یہاں ایران میں ہے،وہ جھوٹ بولتے ہیں جب یہ کہتے ہیں کہ یہ امریکا ہے‘‘۔

ملک گیر سول نافرمانی کی اس تحریک کو اگر عالمی حمایت حاصل ہوجاتی تو اس کے زیادہ بہتر نتائج برآمد ہوسکتے تھے ۔بالکل اسی طرح جس طرح وینزویلا میں صدر مادورو کے خلاف تحریک کو امریکا اور دوسرے ممالک کی حمایت حاصل ہوئی ہے ۔ایسی حمایت ایرانیوں کو بھی حاصل ہونی چاہیے تھی۔

ایرانی اب زیادہ دیر تک جعلی قسم کی اصلاحات قبول کرنے کو تیا ر نہیں ۔وہ مصنوعی قسم کی سفارتی سرگرمیوں کو بھی نہیں چاہتے جن کی بدولت رجیم کو اپنے اقتدار کو طول دینے کا جواز ملتا ہے۔وہ اپنے مفادات کے منافی کام کرنے والے سیاسی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ایرانی عوام نظام پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور یہ اقتصادی طور پر نڈھال ہوچکا ہے ۔ایسے میں ملک کی اشرافیہ بشمول خمینی اور رفسنجانی قبائل کے ارکان رجیم کے دھڑن تختے کی باتیں کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ دھڑن تختہ ایرانی عوام کے ہاتھوں ہی ہوگا۔اس ایرانی اشرافیہ کی اکثریت نے پیش بندی کے طور پر اپنی دولت اور خاندانوں کو بیرون ملک منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایران کو اگراسلامی جمہوری رجیم کی گرفت سے آزاد کرا لیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف اس کی ایک کامیاب قوم کے طور پر نشاۃ ثانیہ ہوسکتی ہے بلکہ اس کے امریکا ، اسرائیل اور بیشتر عرب ممالک کےساتھ تعلقات میں بھی ڈرامائی تبدیلی رونما ہوسکتا ہے۔

ایران کو کامیابی کے لیے اپنے انقلابی نظریے کو دفن کرنا ہوگا اور اس کے بجائے ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا جن میں اقتصادی ترقی ، غیر ملکی سرمایہ کاری ، ماحول کے تحفظ، ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن پر توجہ مرکوز کی گئی ہو اور ایک حقیقی دفاعی خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہوگا۔

ایک آزاد اور جمہوری ایران اسرائیل سمیت متعدد اقوام کے ساتھ خطرناک دشمنی جاری رکھ کر کوئی مفاد حاصل نہیں کرسکے گا۔ایران اور دوسرے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ باہمی مفاد کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کرسکتے ہیں۔مثال کے طور پر وہ ایران کے ساتھ پانی کے بحران اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے تعاون کرسکتے ہیں۔

پہلی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کو فرقہ وار بنیاد پر قائم حزب اللہ ایسے انقلابی گروپوں کی حمایت سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔دراصل یہ لبنانی گروپ شام اور لبنان (لیوانٹ) میں اسلامی جمہوریہ ہی کی توسیع ہے۔اگرا یرانی اپنے وطن کو خامنہ ای سے آزاد کراتے ہیں تو انھیں خطے میں رجیم کے آلہ کاروں سے بھی خود کو آزاد کرانا ہوگا ۔

ایک آزاد ایران کو اسد رجیم یا عراق میں بالادست قوت کی حیثیت کی حامل شیعہ ملیشیاؤں یا متشدد فلسطینی گروپوں سے کچھ سروکار نہیں ہوگا۔ایران اگر انقلابی نظریے اور اپنی علاقائی گماشتہ تنظیموں سے دستبردار ہوجاتا ہے تو اس کے سعودی عرب اور دوسری عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں ڈرامائی انداز میں بہتری آسکتی ہے۔

ایرانیوں اور عربوں کے درمیان کوئی ایک ہزاریے سے مخاصمت چلی آرہی ہے لیکن موجودہ خطرناک مخاصمت کو اسلامی جمہوریہ کے انقلابی ایجنڈے سے مہمیز ملی تھی۔ایران ،عرب تعلقات کھلی مارکیٹوں ، تجارت ، سرمایہ کاری اور تعاون پر مبنی ہونے چاہییں اور انھیں خطے کو اقتصادی بحران سے بچانے کے لیے باہمی تعاون کرنا چاہیے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران اس سے کمزور ہوجائے گا یا وہ اپنا دفاع نہیں کرسکے گا۔ایران جب اقتصادی طور پر مضبوط ہوگا تو وہ اپنی تباہ شدہ روایتی فوجی قوت کی تعمیر نو کرسکے گا اور وہ 1960 اور 1970ء کے عشروں میں امریکا سے خرید کردہ اپنے فوجی آلات کو بھی تبدیل کرسکے گا۔

تاہم اس بات کا تو کوئی جواز نہیں کہ ایران کسی قابل اعتبار خطرے کی عدم موجودگی کےباوجود وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہو۔ایرانیوں کو ملک کے جوہری پروگرام کی اربوں ڈالرز کی صورت میں قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔انھیں پابندیوں اور ایران کی بین الاقوامی تنہائی کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔

ایران مشرقِ اوسط میں ہمیشہ ایک بڑی قوت رہے گا۔اس کی تاریخ ،حجم اور اقتصادی صلاحیت اس کو ایک اہم علاقائی اور شاید عالمی کھلاڑی بناتے ہیں۔ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کا ہر بات پر اتفاق نہیں ہوسکتا لیکن ان میں باہمی تعاون اور مسابقت کو پُرامن انداز میں اور ایرانی عوام کی فلاح وبہبود کے لیے فروغ دیا جاسکتا ہے۔ صرف اسلامی جمہوریہ سے آزادی کی صورت ہی میں ایک پُرامن اور خوش حال ایران کو حقیقت کا روپ دیا جاسکتا ہے۔
___________________________________

علی رضا نادر واشنگٹن میں قائم غیر منافع بخش ایڈووکیسی تنظیم نیا ایران کے بانی اور چیف ایگزیکٹو افسر ہیں۔ ان کی ٹویٹر شناخت یہ ہے:@AlirezaNader

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند