تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ٹیپو سلطان شہید کے متعصّب ناقدین
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 19 محرم 1441هـ - 19 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 3 رجب 1440هـ - 10 مارچ 2019م KSA 17:33 - GMT 14:33
ٹیپو سلطان شہید کے متعصّب ناقدین

اگر علم کی کوئی سرحد نہیں تو جہالت کی بھی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔کوئی بڑی سے بڑی ڈگری بھی اس بات کی علامت نہیں کہ صاحبِ سند صاحب ِکمال بھی ہے اور اس کو ہرفن پر عبور حاصل ہوگیاہے۔آج کی دنیا میں تو علوم کی سرحدیں پھیلتی چلی جارہی ہیں مگرعلم کا سمندر ایک انگلی کے اشارے پر ہے۔اس کے باوجود کوئی بھی ہر فن مولا ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا لیکن پھر بھی ایک صاحبِ علم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ جو بات کہے گا،اس میں کچھ نہ کچھ وزن ہوگا اور خدا لگتی بات کہے گا۔

پاکستان کے کثیر الاشاعت روزنامہ جنگ میں 9 مارچ کو فتح علی خان ٹیپو سلطان شہید اور آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے ۔اس رپورٹ کے لکھاری نے گوگل اور انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات پر انحصار کیا ہے اور لگتا ہے کہ انھیں ٹیپو سلطان شہید کے بارے میں بنیادی کتب تک رسائی نہیں تھی ،وگرنہ وہ بہت سی اوٹ پٹانگ اور خلافِ واقعہ باتیں نہ لکھتے ہیں۔ مثلاً اس رپورٹ میں:

(1)ٹیپو سلطان کی شہادت کے واقعے کی تفصیل درست نہیں۔ وہ قلعہ کے اندر ہی تھے اور وہیں شہید ہوئے تھے۔

(2)میر صادق کو شہید کی فوج کا دو جگہ جنرل لکھا ہے۔ میر صادق ریاست میسور کی مجلسِ شوریٰ کا صدر تھا اورایک طرح سے ٹیپو شہید کی حکومت میں وہ وزیراعظم تھا۔اس کی شروع سے انگریزوں سے ساز باز تھی ۔وہ ، میر غلام علی لنگڑا اور نظام دکن انگریز سے ملے ہوئے تھے۔میر صادق نے قلعہ سے ایک سازش کے تحت فوج کو تن خواہ دینے کے بہانے ہٹوایا تھا۔بہ قول حضرت علامہ اقبال اس کی غداری اور ملت فروشی اب ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے ۔

(3) حضرت ٹیپو شہید کی فوج میں ہندوؤں کی کثیر تعداد تھی ۔کئی ہندو اہم حکومتی عہدوں پر فائز تھے۔وہ ایک راسخ العقیدہ، بیدار مغز اور روادار حکمراں تھا۔انھوں نے کبھی کسی سے ظلم وزیادتی والا معاملہ نہیں کیا۔جہاں کسی ہندو گروہ کے ساتھ انھوں نے کوئی جنگ لڑی یا کارروائی کی تو وہ اس گروہ کی اپنی کارستانیوں کا نتیجہ تھی۔مرہٹوں سے جنگیں اس کی مثال ہیں۔ وہی مرہٹے جنھیں اس رپورٹ میں مراٹھا لکھا ہے۔ ٹیپو شہید ایک صاف اور نیک دل شخصیت کے مالک تھے۔مذہب کی بنیاد پر آپ نے کبھی کسی سے تفریق نہیں کی۔اگر وہ متعصب ہوتے تو چار ہزار کے لگ بھگ ہندو عورتیں کیوں اپنی جانیں اس عظیم حکمراں پر نچھاور کردیتیں۔جی ہاں! قلعہ سرنگا پٹم کی محافظ فوج میں ہندوعورتیں بھی شامل تھیں۔شہیدسلطان نے ہندوؤں کو اپنی حکومت میں  اہم عہدے دے رکھےتھے۔اس کی بڑی مثال پورنیا ہے جو ان کی حکومت میں وزیر خزانہ تھا مگر اس نے بھی بے پایاں احسانات کے باوجود ان سے غداری کی تھی۔

ڈاکٹر مہدی حسن صاحب کو ان حقائق کا علم ہوتا تو یقینی طور پر وہ لاعلمی اور فکری تعصب پر مبنی اپنے ’’ افکار ِعالیہ‘‘ کا یوں اظہار نہ فرماتے:’’لیکن یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ ہندو اس کے غیظ و غضب کا شکار ہوئے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ایک انتہا پسند مسلمان تھا ۔اسی لیے برصغیر کے مسلمان اس کے مداح ہیں‘‘۔اب یہ معلوم نہیں کہ ہمارے ممدوح پروفیسر صاحب نے کون سی تاریخ پڑھ رکھی ہے۔اس تاریخ کے بنیادی اور ثانوی ماخذ کیا ہیں؟ ساکھ  اور اعتباریت کیا ہے؟ مذکورہ رپورٹ میں درج اس سے پہلے جملے میں وہ تاریخ سے اپنی لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں اور پھر ٹیپو شہید پر اتنا بڑا بہتان بھی باندھ رہے ہیں۔ادب کا دامن چھوٹا جاتا ہے لیکن صاحب کیا کریں جس شخصیت کا معاملہ ہے، یوں جانیں ہمیں بہ طور قوم ان کے فضائل وکمالات اور نظریات کا کما حقہ ہی علم نہیں۔یہ صحافی اور ڈاکٹر صاحبان بھی تو اسی قوم میں اپنا چورن بیچتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اخبارات دن اور موضوع کی مناسب سے صفحات کا پیٹ بھرنے کے لیے ایسی رپورٹس شائع کرتے ہیں اور  ٹیلی ویژن چینلز انھیں نشر کرتے ہیں لیکن متعلقہ صحافی حضرات کے پاس گوگل کا ہتھیار ہے، وہ اسی سے کام چلا لیتا ہے۔ ظاہر ہے گوگل سے انگریزی میں مواد ملے گا ۔ اگر ہندوستان کی تاریخ کا معاملہ ہے تو بیشتر تحریریں انگریز کی لکھی ہوں گی یا ہندو لکھاریوں کی۔پھر جب ہمارے صحافی انھیں من وعن چھاپیں گے توزیب داستان کے لیے اس طرح کی ’’وارداتیں‘‘ بھی ہوں گی اور وہ لکھاریوں کی علمیت کا بھرم آشکارا کر دیں گی۔اس پر مستزاد ایک قباحت یہ ہے کہ وہ ایسے ہر ایک موضوع پر ان حضرات سے رابطہ کرتے ہیں جن کی واحد صفت شہرت چرب زبان اور بڑبولا ہونے کی ہے۔آج کل انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کا پھر چورن بکنا شروع ہوا ہے اور ڈاکٹر مہدی حسن صاحب نے سوچا چلو ٹیپو سلطان شہید پر بھی انتہا پسند ہونے کی تہمت لگاتے چلیں ۔شاید ایسے ہی واہ واہ کے ڈونگرے برسنا شروع ہوجائیں کیو نکہ ہمارے ہاں کے دیسی ساختہ ’’لبرل‘‘ ایسے ہر موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔جی ہاں! وہی انجمن ستائش باہمی کے کارندے ۔ بزرگوار پروفیسر صاحب کو علم ہونا چاہیے تھا کہ بھارت میں ہندوحضرات مسلمانوں سے زیادہ ٹیپو شہید کی منتا کرتے ہیں۔

ٹیپو سلطان شہید پر اردو زبان میں ویسے تو بہت کام ہوا ہے اور کئی ایک کتب موجود ہیں لیکن تین اچھی کتب کا مطالعہ ہر صاحبِ ذوق کو ضرور کرنا چاہیے۔ایک تاریخ سلطنت خداداد میسور ہے۔یہ 1930ء کے لگ بھگ پہلی مرتبہ شائع ہوئی تھی۔اس کے مصنف محمود خان بنگلوری ہیں۔ ان کے دادا جان سید غفار صاحب ٹیپو شہید کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور ان کے ساتھ ہی شہید ہوئے تھے۔دوسری کتاب مولوی عبدالرحیم کی حملاتِ حیدری ہے۔اس کا اردو ترجمہ مولوی شیخ احمد علی نےکیا تھا اور اس کو سنگِ میل لاہور نے شائع کیا تھا۔تیسری کتاب ہمارے استاد محترم اور مشفق مہربان عطش درانی صاحب مرحوم کی ’میسور کا شیر ‘ہے۔اسے نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے۔

ڈاکٹر عطش درّانی مرحوم ان دو شخصیات میں سے ایک تھے جو ٹیپو سلطان شہید پر پاکستان میں اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔دوسری شخصیت ارشاد احمد کلیمی صاحب ہیں۔ وہ سارک کے گورنر کی حیثیت سے میسور ( اب ریاست کرناٹک) کا تمام علاقہ پھر آئے تھے۔اس کے چپّے چپّے سے واقف ہیں۔ان کے پاس ٹیپو شہید کے بارے میں وافر علمی ذخیرہ موجود ہے۔ اتنی معلومات ہیں کہ کوئی لکھنے والا بیٹھے تو پورا انسائیکلو پیڈیا مرتب ہوجائے لیکن وہی بات ’ افسوس کہ تم کو میر سے صحبت نہیں رہی‘ ۔اگر ان کے پاس بیٹھیں تو پتا چلے گا کہ ٹیپو سلطان کی شہادت اور میسور کی سلطنت گرانے میں نظام آف دکن ، میر قاسم اور میر غلام علی لنگڑا کا کیا کردار تھا؟ میر قاسم کی قبر پر جانے والے لوگ وہاں کیا کرتے ہیں؟

انگریز ایک وقت میں جب ٹیپو شہید کے بیٹوں کو حکومت واپس کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا تو نظام دکن اور میر غلام علی لنگڑے نے کیا کہا تھا:’’جب سانپ مار دیا ہے تو سنپولیے پالنے کا فائدہ‘‘۔ پھر انگریزوں نے ٹیپو شہید کی اولاد کو میسور سے جبراً بے دخل کرکے ٹاہلی گنج ،کلکتہ میں منتقل کردیا تھا اور ان کی تمام جائیداد بہ حق سرکار ضبط کر لی تھی۔یہ بھی جانیے گا کہ شہید کا نام امریکی ریاست ورجینیا میں ناسا کے راکٹ پروگرام کی عمارت میں راکٹ کے موجد کے طور پر لکھا ہے اورکیوں لکھا ہے؟وہاں ان کی فوج کی تصاویر کیوں آویزاں کی گئی ہیں؟

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند