تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کتبہ: صحافت کا ایک گم نام سپاہی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 25 رمضان 1440هـ - 30 مئی 2019م KSA 17:42 - GMT 14:42
کتبہ: صحافت کا ایک گم نام سپاہی

کارزارِ صحافت کا ایک اور سپہ سالار دنیا سے پردہ کر گیا۔ ادریس بختیار صاحب کی سوانح نہیں بتاؤں گا کہ کتاب کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ اسے جتنی بار پڑھا جائے، ہر مرتبہ نئے معنی اور مفہوم کے ساتھ اپنا آپ منوا لیتی ہے۔ بس دنیائے صحافت کی ان چند شخصیات میں سے ایک ادریس بختیار صاحب انتہائی شریف النفس، دین دار، نیکوکار اور ’عامل بہ عمل‘ صحافی تھے جو اب ہم میں نہیں رہے۔ ادریس بختیار صاحب سے دوستانہ تکلف کا دعویٰ تو نہیں کر سکتا، البتہ نیاز مندی کا طلب گار ضرور رہا اور انھوں نے کمال مہربانی سے ہر گام شفقت فرمائی۔

جیو نیوز کراچی میں تعیناتی کے دنوں میں لاہور سے ایک نئے روزنامے کی اشاعت ہوئی تو پیش کش میرے پاس بھی آ ئی۔ استاد الاساتید ڈاکٹر مغیث الدین شیخ صاحب، جناب عطاءالرحمان صاحب اور ادریس بختیار صاحب بھی ملاقات میں موجود تھے۔ بھاؤ تاؤ ہونے لگا تو اخبار کے مدیر اعلیٰ نے ترپ کا پتا پھینکتے ہوئے مجھ سے کہا: آپ گھر اور گھر والوں سے دور سونے کے پنجرے میں قید تنہائی کا شکار ہیں جہاں کھانے پینے تک کی محتاجی ہے۔ اچھا نہیں ہو گا کہ آپ اپنے شہر میں واپس ٹھکانا کر لیں؟ میں نے عرض گزاری۔ کراچی کے ہوٹل میں رہتے آپ کو کتنے دن ہو گئے؟ پینے کو منرل واٹر ہی ملتا ہو گا؟ مدیر اعلیٰ صاحب نے اقرار میں سر ہلایا تو میں نے کہا میرے فلیٹ میں چلیے۔ آپ کو لاہور کا پانی پلاتا ہوں کیونکہ میری بیگم صاحبہ ہر ماہ کی ملاقات میں راشن کیساتھ پانی سے بھرا کولر بھی اپنے ساتھ کراچی لاتی ہیں۔ اس لیے آپ کی عنایت کا شکریہ۔ ادریس بختیار صاحب نے سنا تو بولے آپ کے لیے جیو میں رہنا زیادہ مناسب ہے۔ اللہ تعالی آپ کو سرخرو کرے۔ مرحوم کی اسوقت کی حوصلہ افزائی میرے کام آ گئی۔

ادریس بختیار صاحب کی خوبی یہ رہی کہ صحافت کے سفر پر پا پیادہ نکلے اور آخر دم تک پیدل سوار ہی رہے۔ مانگے تانگے کی گاڑی پکڑی نہ رشوت کے اڑن کھٹولے پر سوار ہونے کو عزت افزائی جانا۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی لمبا چوڑا بینک بیلنس چھوڑا نہ عالی شان بنگلہ۔ ہاں مجھ ناچیز ایسے سینکڑوں کے دلوں میں گھر بنا گئے۔ علم وادب کے راج سنگھاسن پر کچھ اس طرح جلوہ افروز ہوئے کہ کیا انگریزی کیا اور کیا اردو، صحافت کے دونوں پیرائے انھیں اپنا گرو مانتے۔ وہ عمر بھر طالب علموں کے لیے ایک شجر سایہ دار رہے۔

بر حق ہے کہ برگد کی چھاؤں میں پھول بوٹے تو کیا گھاس تک نہیں ٹھہرتی لیکن جناب ایسے گھنے درخت تھے جس کے نیچے جہالت کا اندھیرا نہیں تھا، خرد و آگہی کی روشنی تھی۔ آپ کے علم وہنر کے فن نے اہل صحافت کی تین نسلوں کی آبیاری کی۔ ان کے بامراد شاگرد انگریزی اور اردو صحافت میں نابغۂ روزگار ہیں۔ قسمت دیکھیے کہ ان کا ہر شاگرد اپنے کام کا دھنی نکلا اور پیشہ صحافت کے اوج ثریا تک جا پہنچا۔ آج عالی عہدوں پر براجمان بڑے بڑے ناموں کے پیچھے جناب ادریس بختیار صاحب کی پیشہ ورانہ شفقت کی جھلک نمایاں ہے۔

نصیبا دیکھیے کہ تنگیِ داماں اور معاشی تنگ دستی کے وقت کوئی ان کے کام نہ آیا افسوس صد افسوس۔ زندگی بھر دوسروں کا بوجھ اٹھانے والے نے رخت سفر باندھا تو اپنے دکھوں کی گٹھڑی خود اپنے سر پر رکھ لی۔ اپنے پیاروں کو بھی تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔ ہفتے کی افطار کراچی پریس کلب میں تھی وہیں طبیعت ناساز ہوئی اور ٹھیک چار روز بعد منگل کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ میرا دوست میرا بھائی ارسلان بہادر اور گبھرو نوجوان سہی مگر باپ کو کندھا دیتے وقت نجانے کہاں سے حوصلہ لائے گا ۔۔۔ اسے لفظوں کا پرسہ بھی نہیں دے سکتا کہ خود باپ کی شفقت سے محروم ہو چکا ہوں۔ جانتا ہوں کہ لفظ رشتوں کے بچھڑنے پر بننے والے زخموں پر کسی طور پھاہا نہیں رکھتے۔ بس رشتوں کی یادیں رہ جاتی ہیں جن کی پرورش کرتے رہنا ہی کمال فن ہے۔

ابھی پچھلے جمعہ اپنے ایک واقف ِحال سے بات کرتے ہوئے بھلے چنگے ادریس بختیار صاحب نے شعبہ صحافت کا مرثیہ پڑھا۔ کہنے لگے ملازمت سے فارغ ہوئے کئی ماہ ہو گئے۔ بیگم صاحبہ کے ساتھ بیٹی سے ملنے اسلام آباد گیا تھا۔ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ وہیں گزارا۔ بہت خوشگوار موسم تھا ۔۔ بیگم صاحبہ کی طبیعت بھی اچھی رہی ۔۔ اس دوران میں دو ایک محفلوں میں جانا ہوا ۔۔ بڑے بڑے لوگوں سے علیک سلیک بھی ہوئی جس میں ملازمت پر ہونے نہ ہونے کا فرق محسوس ہوا۔ کہاں تو لوگ مجھ سے ملنے آگے بڑھتے تھے کجا یہ کہ مجھے ایڑیاں اٹھانا پڑیں۔ کسی کے ساتھ بھی بات مصافحے سے آگے نہ بڑھ پائی۔ ایک وقت تھا لوگ میری چشم ابرو کے منتظر رہتے۔ اب یہ نوبت کہ کسی نے میری آنکھوں میں لکھے سوال پڑھنا بھی گوارہ نہ کیے۔ تو ایسے میں کوئی سوال بنتا نہیں۔ مناسب نہیں لگتا۔ اللہ مالک ہے ۔۔ بس بیگم صاحبہ کے ہر ہفتے گردوں کی صفائی (ڈائیلیسز) کی فکر ہے۔

سکے میں کھنک ۔ نوٹ میں کڑک تو ہوتی ہے مگر سینے میں دھڑکتے دل کی دھک دھک نہیں ہوتی اور پھر کاروبار میں جذباتیت کا کیا کام؟ اسی لیے سرمایادار دماغ کا سودا کرتے ہیں دلوں کا نہیں۔ صحافت کے پیشے میں ملازمت خطی کے بعد سینے پر سجے تمام تمغے بھی اتار لیے جاتے ہیں۔ بندہ بے شناخت ہو جاتا ہے تو ارسلان ۔ میرے دوست، میرے بھائی القابات کے جھنجھٹ میں نہ پڑنا اور پیارے ادریس بختیار کی قبر کے کتبے پر صحافت کا ایک گم نام سپاہی لکھوا دینا۔ رہے نام اللہ کا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند