تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ثانوی پابندیوں سے ایران اور حزب اللہ کاشِکنجہ مزید کھینچا جا سکتا ہے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 28 رمضان 1440هـ - 2 جون 2019م KSA 16:14 - GMT 13:14
ثانوی پابندیوں سے ایران اور حزب اللہ کاشِکنجہ مزید کھینچا جا سکتا ہے!

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ایران پر بحال کردہ پابندیوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا ہے اور مستقبل قریب یہ اپنے زیادہ مُضر اثرات مرتب کریں گی۔امریکی محکمہ خزانہ نے حال ہی میں ایران سے تیل کے خریدار بعض ممالک کو پابندیوں سے حاصل استثنا ختم کرنے کا ا علان کردیا تھا۔اس کے تحت بعض ممالک ایران سے محدود مقدار میں تیل خرید کر سکتے تھے۔محکمہ خزانہ نے ان ممالک کو مئی کے بعد مزید استثنا نہ دینے کا فیصلہ کیا ۔یہ ایک بڑی اور اہم پیش رفت تھی(اس فیصلے کے تحت اب ایران سے تیل کے خریدار ممالک بھی پابندیوں کی زد میں آئیں گے)۔

امریکا نے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ایرانی پاسداران اپنی عسکری سرگرمیوں کے علاوہ ایرانی معیشت کے اہم اداروں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔امریکا کا یہ ایک اور اہم خیر مقدمی فیصلہ تھا ۔امریکی پابندیوں کے مجموعی طور پر مؤثر اثرات مرتب ہورہے ہیں اور ایرانی نظام ( رجیم ) کو ان کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔

امریکا اگر مزید پابندیاں عاید کرتا ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ یہ بھی بہت موثر رہیں گی اور یہ عاید کی جانی چاہییں۔اس ضمن میں ایران کے بعض بنکوں کو انفرادی طور پر بلیک لسٹ قراردینا کافی نہیں ہوگا بلکہ ایران کے پورے بنک کاری نظام کو بلیک لسٹ کی لپیٹ میں لیا جانا چاہیے اور یہ سب سے اہم اقدام ہوگا۔امریکا کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ایران کے جہاز رانی کے شعبے پر عاید کردہ پابندیوں کو مزید وسعت دے دے اور اس کا اطلاق ایران سے آنے اور وہاں سے باہر جانے والے تمام مال بردار جہازوں پر کردے۔ امریکا مستقبل میں ایسے اقدامات کرسکتا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ایران کی تخریبی سرگرمیوں سے نالاں دوسرے ممالک امریکا کی ان پابندیوں کی اپنے طور پر ٹھوس اور مضبوط اقدامات کی صورت میں حمایت کریں ۔

اس ضمن میں مشرقِ اوسط میں امریکا کے اتحادیوں اور بالخصوص خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کو پہل کرنی چاہیے اور ایران اور حزب اللہ پر ثانوی پابندیاں عاید کرنی چاہییں۔اس حکمت عملی کے متعدد اہم فوائد ہوں گے۔اوّل تو یہ کہ اس سے ایران اورایرانی معیشت کو دباؤ میں لانے میں مددملے گی۔ اگر خالصتاً اقتصادی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جی سی سی کی پابندیاں ان یورپی اور ایشیائی کمپنیوں پر کارگر ہتھیار ثابت ہوں گی، جو خلیج اور مشرقِ اوسط میں بہت زیادہ کاروبار کررہی ہیں۔ان کمپنیوں کے امریکا میں کاروبار نہیں یا اس کے ساتھ کوئی خاص لین دین نہیں ،اس لیے انھیں امریکا کی ثانوی پابندیوں پر کوئی زیادہ تشویش لاحق نہیں ہے لیکن اگر انھیں ایران اور جی سی سی کے ساتھ کاروبار میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کیا جائے تو وہ مؤخر الذکر کا انتخاب کریں گی۔

اگر ایسی ثانوی پابندیوں کے نفاذ کا عمل شروع کیا جاتا ہے ، تواس سے حزب اللہ کا بنک دِوالا نکالنے کا موقع بھی پید ا ہو گا۔یہ ایران کے لیے ایک علامتی اور عملی دھچکا ہوگا کیونکہ حزب اللہ ایک ایسا نمونہ ہے جس کو ایران خارجہ پالیسی اور طاقت کے اظہار کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔حزب اللہ جب ایک اثاثے سے مسئلہ بنے گی تو پھر اس کی کوئی قدر واہمیت نہیں رہے گی۔حزب اللہ کے خلاف ثانوی پابندیوں کے نفاذ کے ضمن میں اس کی اتحادی جماعت امل تحریک کو بھی ہدف بنایا جانا چاہیے۔

جی سی سی کی سرکردگی میں پابندیوں کا ایک اہم علامتی اثر بھی ہوگا اور اس سے ایران کے کاروباری طبقے اور نظام میں حدِّفاصل قائم کرنے میں مدد ملے گی۔اب تک امریکا کی ایران پر عاید کردہ یک طرفہ پابندیوں کی ایک حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کثیر الجہت ہیں اور آیندہ اگر اس عمل میں مشرقِ اوسط کی اہم طاقتیں بھی شامل ہوجاتی ہیں تو اس سے ایرانی رجیم کو مزید تنہائی کاشکار کیا جاسکے گا۔

جی سی سی کو ایران اور حزب اللہ کے خلاف ثانوی پابندیوں کے نفاذ کے علاوہ پابندیوں کے عملی اطلاق کے عمل میں بھی شامل ہونا چاہیے۔ان کمپنیوں اور اداروں پر قدغنیں عاید کی جانی چاہییں جو ایران پر عاید کردہ (امریکی) پابندیوں کے توڑ کے لیے سرگرم ہیں۔ایران پر عاید پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والی ترک اور قطری کمپنیا ں اب تک محفوظ چلی آرہی ہیں،انھیں اب پابندیوں کا ہدف بنایا جانا چاہیے۔

جی سی سی کے رکن ممالک کو اپنے طور پر ثانوی پابندیوں کے نفاذ میں قائدانہ کردار اداکرنا چاہیے۔نیز پابندیوں کے اطلاق کے عمل میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اس کے بہت زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔اس سے ایک تو موجودہ پابندیوں کے ضمن میں کوششوں کو موثر بنانے میں مدد ملے گی اور یہ ایران کے خلاف ایک متحدہ محاذ کی بھی مظہر ہوں گی۔مجموعی طور پر اس حکمت عملی سے جی سی سی کے ممالک اور امریکا کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی ۔نیز اس سے ایران کی طرف داری کا انتخاب کرنے والے یورپی ممالک کے اقدامات کا بھی توڑ کیا جاسکے گا۔اس سے یہ بھی پتا چلے گا کہ جی سی سی کے ممالک اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق کس طرح بڑے نپے تلے انداز میں سفارتی اور اقتصادی تدبر کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند