تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مراکش: ناموافق حالات میں معاشی ترقی کا سفر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 15 ربیع الاول 1441هـ - 13 نومبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 20 ذیعقدہ 1440هـ - 23 جولائی 2019م KSA 18:06 - GMT 15:06
مراکش: ناموافق حالات میں معاشی ترقی کا سفر

مراکش کو گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں متعدد بیرونی چیلنجوں کا سامنا رہا ہے۔ ان میں تجارتی شراکت داری میں کم زورشرح نمو، تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ اور علاقائی جغرافیائی، سیاسی تناؤ اور تنازعات نمایاں ہیں۔ ان ناموافق حالات کے باوجود مراکشی حکومت نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا اور اس نے فوری استحکام پر توجہ دینے کے علاوہ قومی معیشت کی طویل المیعاد ضروریات پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔

اس اتھل پتھل کے دور میں حکومت کی متعیّنہ ترجیحات سے ملک اقتصادی استحکام کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔ مثال کے طور پر توانائی کے شعبے میں دیا جانے والا زر تلافی (سب سڈی) 2012ء میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا چھے فی صد تک ہو چکا تھا اور یہ قومی خزانے کے لیے ایک بوجھ اورخطرہ بن گیا تھا۔ اس زر تلافی کے خاتمے سے مراکش کو آبادی کے کمزور طبقات کے لیے وضع کردہ سماجی پروگراموں کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔ حکومت نے تعلیم، صحت اور عوامی خدمات کے دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے جس سے لوگوں کوغربت کے گھن چکر سے نکالنے میں بھی مدد ملی ہے۔ اس کا اندازہ ان اعداد وشمار سے کیا جا سکتا ہے کہ سنہ 2000ء میں غربت کے خطِ لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کرنے والے مراکشیوں کی شرح پندرہ فی صد تھی لیکن آج یہ شرح کم ہو کر صرف پانچ فی صد رہ گئی ہے۔

درحقیقت انتہائی غربت کا ملک سے قلع قمع کردیا گیا ہے۔ مزید برآں ایک نئے قانونی فریم ورک سے قومی مالیات پر نگرانی کے عمل کو مضبوط بنانے میں مددملی ہے اورقومی قرضوں کو درپیش خطرے کو بھی محدود کردیا گیا ہے۔حال ہی میں ایک قومی ٹیکس کانفرنس میں ایک شفاف ٹیکس نظام پراتفاق کیا گیا ہے۔

حکومت طویل المیعاد اقتصادی مقاصد کے حصول کے لیے اہم اصلاحات کو بروئے کار لائی ہے۔ جیسا کہ اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہو اہے، معیشت کو متنوع بنایا گیا ہے اور عالمی معیشت سے اس کو مربوط بنادیا گیا ہے۔ مراکش کے مرکزی بنک نے مالیاتی استحکام کا ہدف حاصل کیا ہے اور اس نے مراکشی بنکوں کے براعظم افریقا میں پھیلاؤ میں بھی مدد دی ہے جہاں وہ مالیات کے شعبے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں ایک نئی مالیاتی مشمولہ حکمت عملی اختیار کی گئی تھی۔ اس کا مقصد مراکشی افراد اور فرموں کو مالیاتی خدمات تک زیادہ سے زیادہ رسائی مہیا کرنا تھا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری نے نئی صنعتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بالخصوص آٹو موبیل اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے مراکش کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ جنوری 2018ء میں حکومت نے قومی کرنسی درہم کو زیادہ لچک دار بنانے کے لیے اقدام کا آغاز کیا تھا تاکہ قومی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچایا جا سکے اور کرنسی کی مسابقانہ صلاحیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

ان کامیابیوں کے باوجود زیادہ شرح نمو کے حصول کے لیے ابھی ایک لمبا راستہ طے ہونا باقی ہے۔ سماجی اور علاقائی ناہمواریوں میں کمی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر دیہی علاقوں میں بسنے والی ایک چوتھائی آبادی کو کسی سڑک تک براہ راست رسائی حاصل نہیں ہے۔ بنیادی مراکز صحت اس سے کم سے کم دس کلومیٹر دور واقع ہیں۔ مراکش کے نوجوانوں اور متوسط طبقے کو بہتر معیاری تعلیم اور ملازمتوں تک رسائی دینے کی ضرورت ہے۔ خواتین کو تعلیم اور ملازمتوں میں مساوی مواقع مہیا کیے جانے چاہییں۔

ان اہم مسائل کے حل کے لیے وسیع البنیاد اقدامات درکار ہیں۔ مثلاً اس کے لیے ایک زیادہ فعال اور عدم مرکزیت کے حامل سرکاری شعبے کو فروغ دیا جائے۔ سرکاری خدمات کا معیار بہتر بنایا جائے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو فروغ دیا جائے۔ یہ کاروباری شعبے مستقبل میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی انجن کا کام دیں گے۔

خوش قسمتی سے مراکش اصلاحات کے ایک نئے دور کے ذریعے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں آ گیا ہے۔اس وقت مراکش میں ترقی کے ایک نئے ماڈل کے بارے میں بحث جاری ہے اور حکام اصلاحات کے لیے ایک مشمولہ تدبیر پر عمل پیرا ہو رہے ہیں۔ اس کی وضاحت حالیہ ٹیکس کانفرنس میں بھی کی گئی ہے۔اس مشمولہ حکمتِ عملی کی ترجیحات میں بہتر تعلیم ، کرپشن کے خلاف مسلسل جنگ ،نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا، سرکاری سطح پر شفافیت میں اضافہ، اصلاح شدہ ٹیکس نظام، سول سروس اور لیبر مارکیٹ میں جدت اور کاروباری ماحول میں مسلسل بہتری شامل ہیں۔ ان اصلاحات سے مراکش کی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ اس سے مراکش کا خطے اور براعظم افریقا میں سرکردہ بین الاقوامی شراکت دار کی حیثیت سے کردار بھی مضبوط ہوگا۔

اس تمام سفر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) مراکش کا قریبی شراکت دار رہا ہے۔ اس نے حکومت کی ٹھوس پالیسیوں، اصلاحات اور طویل المیعاد ویژن کی حمایت کی ہے۔ دنیا کے ممالک عام طور پر بحران کے وقت ہی آئی ایم ایف سے رجوع کرتے ہیں لیکن مراکش کا معاملہ ذرا مختلف رہا ہے۔ اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر مشکلات سے بچنے کے لیے فنڈ سے رجوع کیا تھا۔ آئی ایم ایف مراکش کی اقتصادی استحکام، ترقی اور عالمی معیشت سے ملکی معیشت کو مربوط بنانے کے لیے کوششوں میں حکام کے دوش بدوش رہا ہے۔ ہم نے دنیا کے دوسرے ممالک میں تجربات سے بھی مراکش میں اصلاحات کے عمل میں استفادہ کیا ہے۔ سرکاری مالیات، کرنسی کی شرح تبادلہ اور شعبہ مالیات میں اصلاحات کے لیے مشورے دیے ہیں۔ مراکشی معیشت پر ممکنہ طور پر اثرانداز ہونے والےغیر ملکی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے بھی مشورے دیے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مراکشی حکام نے اپنے اصلاحات کے پروگرام کی مضبوط ملکیت کا ادراک کیا ہے اور اس کو تسلیم کیا ہے۔ان کا یہ کردار اس شراکت داری کا ایک بنیادی ستون رہا ہے۔

اس تجربے میں خطے کے دوسرے ممالک کے لیے بہت سے اسباق پنہاں ہیں۔ مراکش کی طرح آئی ایم ایف اپنے رکن ممالک کی صرف بحران کے دور ہی میں نہیں، بلکہ ان کی زیادہ اور مشمولہ معیشی ترقی کے ہدف کے حصول میں بھی مدد دینے کو تیار ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند