تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بورس جانسن کی حکومت خلیجی ممالک سے کیسے فائدہ اٹھا سکتی ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 23 ذیعقدہ 1440هـ - 26 جولائی 2019م KSA 03:05 - GMT 00:05
بورس جانسن کی حکومت خلیجی ممالک سے کیسے فائدہ اٹھا سکتی ہے؟

بورس جانسن دو ایک روز میں برطانیہ کی وزارت عظمیٰ سنبھال رہے ہیں۔ان کی کامیابی سے اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ بریگزٹ پر کوئی ڈیل نہیں ہوگی اور برطانیہ یورپی یونین سے رکنیت سے ماورا تعلقات استوار کرے گا۔اس صورت میں خلیجی ریاستوں کو برطانیہ کے ساتھ پہلے سے موجود اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے اقتصادی مواقع دستیاب ہوں گے۔

پہلی قابل ذکر بات تو یہ ہے کہ بورس جانسن نے31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن تک برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کا عزم کیا ہے اور وہ کسی نئی ڈیل کے بغیر بھی ایسا کرسکتے ہیں۔

ان کا یہ اقدام ان کی سبکدوش ہونے والی پیش رو تھریزا مے کے بالکل برعکس ہوگا۔انھوں نے کسی ڈیل کے بغیر بریگزٹ کے امکان کو مسترد کردیا تھا جبکہ بورس جانسن کے ساتھ وزارتِ عظمیٰ کی حتمی دوڑ میں شریک جیرمی ہنٹ نے کوئی ڈیل نہ کرنے کے بارے میں رواداری اور لچک دکھانے کا اظہار کیا تھا لیکن وہ اس کے بارے میں کوئی زیادہ پُرجوش نہیں تھے۔

واضح رہے کہ تھریزامے اور جیرمی ہنٹ نے تین سال قبل بریگزٹ پر ریفرینڈم کے وقت یورپی یونین میں موجود رہنے کے حق میں مہم چلائی تھی جبکہ بورس جانسن اس تمام عمل کے دوران میں بریگزٹ کے زبردست مؤید رہے تھے۔اس کے پیش نظر اس بات کا امکان کم ہی نظر آتا ہے کہ تمام واقعات سیدھے سبھاؤ رونما ہوجائیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ بورس جانسن یورپی یونین سے تھریزامے سے زیادہ بہتر ڈیل کے لیے مذاکرات کرتے ہیں یا وہ سرے سے کسی نئی عدم سمجھوتے کے لیے پیش رفت کرتے ہیں۔

تھریزامے کی وزارتِ عظمیٰ میں دارالعوام کے ارکان کی اکثریت نے کسی ڈیل کے بغیر بریگزٹ کو بڑی شدت سے مسترد کردیا تھا اور قدامت پسند جماعت کے ارکان کی بڑی اکثریت نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ چناں چہ اگر اب بورس جانسن برطانیہ کو ڈیل کے بغیر بریگزٹ کی جانب لے جاتے ہیں تو انھیں پارلیمان میں عدم اعتماد کے ووٹ کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔اس کا حتمی نتیجہ حکومت کی ناکامی کی صورت میں بھی برآمد ہوسکتا ہے اور بورس جانسن قبل ازوقت عام انتخابات کرانے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

برطانیہ میں آیندہ عام انتخابات میں بریگزٹ ہی یقینی طورپر ایک بنیادی مسئلہ ہوگا لیکن ان کا نتیجہ غیر یقینی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ قدامت پسند جماعت اور بریگزٹ پارٹی، دونوں’نو ڈیل بریگزٹ‘ کے نام پر اکثریت حاصل کرلیں لیکن یورپی یونین میں برطانیہ کی موجودگی کی حامی جماعتیں بھی اکثریت حاصل کرسکتی ہیں۔تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ان نئے انتخابات کا نتیجہ ایک اور معلق پارلیمان ہوگا اور طرفین کی کوئی بھی جماعت قابل ذکر اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی۔ یوں ایک مرتبہ پھر ڈیڈ لاک ہوگا اور نئے عام انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔

برطانیہ اگر موجودہ نظام ہی کا یرغمال بنا رہتا ہے اور بریگزٹ پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اسی طرح عدم اتفاق جاری رہتا ہے تو پھر بریگزٹ از خود ہی کسی سمجھوتے کے بغیررونما ہوجائے گا۔الّا یہ کہ یورپی یونین برطانیہ کو کسی سمجھوتے کے لیے مزید توسیع دے دے مگر یورپی سیاست دانوں کے اس معاملے پر بیانات کے پیش نظر اس بات کا بہت کم امکان نظر آتا ہے۔یورپی کمیشن کی نومنتخب صدر (جرمن سیاست دان) ارسولا وان دیر لیین نے بھی ایک حالیہ بیان میں اس توسیع کی تائید نہیں کی ہے۔

یورپی یونین کے بہت سے لیڈر جون 2016ء میں منعقدہ بریگزٹ ریفرینڈم کے نتائج پر ہکا بکا رہ گئے تھے اور انھوں نے برطانیہ پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔تاہم تب سے یورپی یونین کے بعض لیڈروں نے تو سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور اس موضوع پر مذاکرات بھی کھینچتے چلے جارہے ہیں۔

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں اور ایسی ہی دوسری مرکزی شخصیات کا یہ خیال ہے کہ یورپی یونین کے مسائل کا حل زیادہ مرکزیت میں پنہاں ہے۔بالخصوص مالیاتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ برطانیہ اس طرح کے منصوبوں کو تہس نہس کرسکتا ہے۔اس کا ایک ثبوت تو جولائی ہی میں یورپی پارلیمان کے ابتدائی اجلاس میں مل گیا تھا اور بریگزٹ پارٹی کے نمایندوں نے یورپ کا قومی ترانہ گائے جانے کے وقت اپنے مُنھ ہی پھیر لیے تھے۔اس صورت حال کے پیش نظر یورپ کے علاوہ برطانیہ میں بھی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فیصلہ کن طلاق کا عمل جلد سے جلد رونما ہوجانا چاہیے۔

جہاں تک خلیجی ممالک کا تعلق ہے تو بریگزٹ ان کے لیے ایک موقع ہے۔ برطانیہ کے تناظر میں بہت سے پہلووں سے خلیجی ممالک مثالی اقتصادی شراکت دار ثابت ہوسکتے ہیں۔ وہ برطانیہ کی ضروریات کی اشیاء توانائی ، پیٹرو کیمیکلز اور دھاتیں پیدا اور درآمد کرتے ہیں اورموسم گرما میں غیر ملکی سیاحوں کے لیے سیاحت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔وہ برطانیہ کی پیدا کردہ اشیاء کو درآمد کرتے ہیں۔ان میں مشینیں ، گاڑیاں ، ادویہ اور مالیاتی خدمات شامل ہیں۔

حال ہی میں ایک مشاورتی فرم کلٹنز نے خلیج سے تعلق رکھنے والے ڈھائی سو سرمایہ کاروں سے ایک سروے کیا تھا۔ان میں سے بائیس فی صد نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ برطانیہ سرمایہ کاری کے لیے ان کا پسندیدہ مقام ہے۔اس سے بھی برطانیہ اور خلیج کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی ہوتی ہے۔

ہیرٹیج کے معاشی آزادی کے اشاریے کے مطابق خلیجی ممالک دنیا کے سب سے زیادہ کھلے چند ایک ممالک میں سے ہیں اور یہ چیز برطانیہ کے ’تجارت سے خوش حالی‘ کے عقیدے کے عین مطابق ہے۔

مزید برآں خلیجی شہریوں میں برطانیہ سمیت بیرون ملک نقل مکانی کا رجحان بہت کم ہے۔ سنہ 2015ء میں خلیج میں پیدا ہونے والے قریباً 75 ہزارافراد برطانیہ میں رہ رہے تھے۔ یہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رکن ممالک کے خلیج ہی میں آباد شہریوں کی تعداد کا صرف 0.3 فی صد ہیں اور برطانیہ میں پیدا ہونے والے تمام غیر ملکیوں کی کل تعداد کا قریباً0.9 فی صد ہیں یعنی ایک فی صد سے بھی کم ہیں۔

برطانیہ میں غیرملکیوں کی نقل مکانی بریگزٹ کے حق میں ووٹ ڈالنے والے بہت سے برطانوی شہریوں کے لیے ایک مرکزی مسئلہ تھی۔اس لیے برطانوی حکومت ان ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ میں دلچسپی لے گی جو اشیاء اور خدمات کی نقل وحمل کے لیے شراکت داری پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں اور اپنے شہریوں کی مستقل بنیاد پر برطانیہ یا کسی دوسرے یورپی ملک میں منتقلی کے حق میں نہیں ہیں۔

خلیج کے نقطہ نظر سے برطانیہ کی منڈیوں میں۔۔۔کسی ڈیل کے بغیر بریگزٹ کے بعد آزاد تجارت کے ایک نئے سمجھوتے کے ذریعے۔۔۔رسائی ایک بڑا پُرکشش موقع ہوگی۔برطانیہ کا شمار دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے۔وہ ایلومینیم کا ایک بڑا درآمد کنندہ ملک ہے۔یہ خلیج کی ایک اہم برآمدی دھات ہے مگر یورپ کے مشترکہ کسٹم محصولات کی وجہ سے تاریخی طور پر اس کی ایلیومینیم کی برطانیہ کو برآمد کے لیے اس مسابقتی صلاحیت پر زد پڑی تھی۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر برطانیہ دولت مشترکہ کے ممالک پر مشتمل ایک نیا اقتصادی بلاک تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔آسٹریلیا نے بھی اس تجویز کی حمایت کا اظہار کیا ہے تو اس صورت میں نو ڈیل بریگزٹ کے بعد برطانیہ کے ساتھ تجارتی سمجھوتا تیزی سے طے کیا جا سکے گا۔خلیجی ممالک کے پاس اس سمجھوتے کا حصہ بننے کا موقع ہوگا اور پھر اس کے نتیجے میں اقتصادی ثمرات تو سب پر عیّاں ہیں۔

تاہم یہ خوش امیدی کسی ڈیل کے بغیر یورپی یونین سے انخلا کے برطانوی معیشت پر غیر یقینی اثرات کی وجہ سے متاثر ہوسکتی ہے اور ایسی ہی صورت حال میں تجارت پر مذاکرات بالعموم وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ نیز برطانوی معیشت کی کشش اس کے یورپی سنگل مارکیٹ کو رسائی دینے میں پنہاں ہے لیکن اس میں یقینی طور پر رکاوٹ ڈالی جائے گی اور ممکنہ طور پر اس کو مستقلاً ختم بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود برطانوی معیشت کی جانب سے خلیج کو پیش کردہ قابل ذکر فوائد وثمرات بدستور موجود رہیں گے۔

فطری طور پر کسی بھی تجزیے میں نو ڈیل بریگزٹ کو ایک امکان کے طور پر ملحوظ رکھا جانا چاہیے اور برطانوی سیاست میں آیندہ تین ماہ کے دوران میں بہت سے حیرت انگیز واقعات اور اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملیں گے۔حالات جیسے بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں ، خلیجی ممالک کو برطانیہ کے ساتھ اپنے پہلے سے موجود شاندار تعلقات کی بنیاد پر ہی مزید تعلق داری استوار کرنی چاہیے کیونکہ برطانیہ یورپی یونین کے بغیر ایک نئی زندگی آغاز کرنے جا رہا ہے۔

____________

عمرالعبیدلی دراسات، بحرین میں محقق کے طور پر کام کرتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند