تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عدن میں چاند رات کا معرکہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 10 ذوالحجہ 1440هـ - 12 اگست 2019م KSA 17:39 - GMT 14:39
عدن میں چاند رات کا معرکہ

سب سے پہلے تو میں آپ لوگوں کو عید کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ وہ عید جو یمن میں جنوبی عبوری کونسل کے جذباتی تصرف کے سبب قریبا برباد ہو چکی تھی اور اس کے بعد ایک ایسے المیے کا آغاز ہوتا جو کئی برس کے طویل عرصے تک جاری رہتا۔ قریب تھا کہ وہ یمن میں یقینی بنائی گئی تمام کامیابی کو برباد کر ڈالتے۔ اس طرح مستقبل میں صنعاء کی آزادی حاصل نہیں ہو سکتی تھی کیوں کہ یہ چیلنجوں اور انارکی کے سائے میں یقینی نہیں بنائی جا سکے گی۔

عدن میں چاند رات کا معرکہ ،،، جمعرات کے روز ہونے والے دو حملوں کی چنگاری نے بھڑکایا۔ القاعدہ تنظیم نے ایک پولیس مرکز پر خود کش کار بم حملہ کیا تو 13 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی روز حوثیوں نے ایک تربیتی مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل یا ڈرون طیارے کا استعمال کیا۔ حملے میں 32 افراد جاں بحق ہوئے جن میں جنوب سے تعلق رکھنے والا ایک کمانڈر (میجر جنرل) بھی شامل ہے۔ عدن جنازوں سے بھر گیا اور انتقام کے مطالبات بلند ہونا شروع ہو گئے۔ تاہم سب سے زیادہ چراغ پا ہونے والی دراصل آئینی حکومت کی فورسز تھیں جنہوں نے عدن کو عبوری دارالحکومت اور حکومت کے صدر مقام کے طور پر چُنا تھا۔ یہ عبوری کونسل کی انتقامی کارروائی گمان کی جا رہی ہے ! یہ کونسل ایک سیاسی تحریک ہے جس کا مقصد یمن کے جنوب میں ایک خود مختار ریاست کا قیام ہے۔ یہ سیاسی تحریک سرد جنگ کے دوران موجود تھی ، اس کے بعد 1990 میں سوویت یونین کے سقوط کے ساتھ ہی ڈھیر ہو گئی۔

یمن کے جنوب میں بسنے والوں کا حق ہے کہ وہ اپنے لیے ریاست کے قیام کی راہ دیکھیں۔ تاہم اس روز عبوری کونسل نے جو کچھ کیا کیا اس سے حوثی بغاوت اور ایرانی مداخلت کے ہاتھ مضبوط ہوں گے .. خانہ جنگی کو دوام حاصل ہو گا اور قطر اور ترکی کی سپورٹ سے یمن کی جنگ کے نئے محاذ کھلنے کا خطرہ پیدا ہو گا۔ یہ ایک سنگین پیش رفت تھی جس سے خطے کے ممالک جن میں سعودی عرب سرفہرست ہے اُن کی سیکورٹی خطرے میں پڑ جائے گی !

شاید عبوری کونسل نے یہ خیال کیا ہو کہ وہ دو دہشت ناک حملوں کے ذریعے آئینی حکومت کی فورسز کو کمزور کر سکتا ہے، عرب اتحادی ممالک کو پریشان کر سکتا ہے اور عدن کے رہنے والوں کو چراغ پا کر سکتا ہے۔ اس طرح یہ عدن پر قبضہ جمانے کا بہانہ ہو گا اور پھر علاحدگی کا اعلان کر کے نئی ریاست قائم ہو جائے گی۔ تاہم شاید زیادہ پیچیدہ امور کے بارے میں نہیں سوچا گیا۔

دنیا بھر میں علاحدگی پسندی زیادہ نہیں پھیلی ہوئی اور شاذ و نادر ہی پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے۔ عبوری کونسل یمن سے قریب اور خلیج عدن کے مغرب میں (صومالی لینڈ) کا تجربہ ملاحظہ کر سکتی ہے۔ صومالیہ کا وہ ریجن جس نے 1991 میں ملک کے ڈھیر ہو جانے کے نتیجے میں خود کو ایک جمہوریہ کا نام دے دیا۔ درحقیقت اس کی خود مختاری کا اعلان بقیہ صومال میں جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کیا گیا تھا۔ جمہوریہ نے ایک مروط سیاسی نظام قائم کیا۔ ملک کا آئین، پارلیمنٹ کے دو ایوان ، کرنسی ، پرچم اور انتخابات ... آج تک یہ ایک مستحکم ملک کے نمونے کے طور پر ہمارے سامنے ،،، مگر درحقیقت یہ قانونی طور پر تسلیم شدہ ریاست نہیں۔

صومالی لینڈ کی تاریخ بڑی حد تک جنوبی یمن سے ملتی جلتی ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں یہ علاقہ صومالیہ کے ضمن میں نہیں تھا۔ بعد ازاں وہ رضاکارانہ طور پر یک جا ہونے پر آمادہ ہو گیا۔ جب صومالیہ میں خانہ جنگی بھڑکی تو یہ علاقہ علاحدہ ہو گیا۔ تاہم اقوام متحدہ نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ موگادیشو حکومت کے زیر انتظام لوٹا دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی علاحدگی قانونی طور پر مکمل اتفاق سے عمل میں نہ آئے۔ یہ یمنی علاحدگی پسندوں کے سامنے ایک زندہ مثال ہے۔ اسی طرح کی کئی دوسری مثالیں بھی ہیں جن میں نمایاں ترین عراق میں کردستان ریجن کی ہے۔ کُرد اپنے طور پر ایک قوم ہیں اور ان کی زبان مختلف ہے۔ تاریخی طور پر ان کے ریجن کو برطانوی حکومت کے دور میں زبردستی بغداد کی حکومت کے تحت لایا گیا۔ آج پچاس برس بعد بھی عالمی برادری نے ان کردوں کی خود مختاری حاصل کرنے کی کوشش ناکام بنا دیا۔ ان کی خود مختاری کے لیے لازم ہے کہ اس پر بغداد اور خطے کے ممالک راضی ہوں۔

میری ذاتی رائے کے مطابق خود مختاری یمن کے جنوبی باسیوں کے بس میں ہے مگر زبان اور عمل کے حوالے سے ان کا اسلوب غلط ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ صنعاء کی آزادی اور وہاں سیاسی زندگی کی واپسی کے بعد وہاں اپنے بھائیوں کو قائل کریں۔ ان کی آمادگی کے بغیر جنوب کے باسی نہ تو اقوام متحدہ کی موافقت حاصل کریں گے اور نہ علاقائی طور پر ان کے لیے اہم ممالک کی رضا انہں ملے گی۔

میں جنوبی یمن میں اپنے سیاست دان بھائیوں کو یہ یاد دلا کر غضب ناک نہیں کرنا چاہتا کہ جنوب نے اقتدار کے لالچی عناصر کے درمیان تنازع کے سبب طویل عرصے ت مشکل وقت دیکھا ہے۔ یہاں تک کہ انگریز بھی جنوب پر حکومت کے لیے 12 سلطانوں اور امیروں کا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے۔ اسی طرح سوویت یونین نے بھی عدن پر حکومت کے لیے تین کمیونسٹ شخصیات کے تکون کو سپورٹ کیا۔ اس وقت کے صدر علی سالم البیض صنعاء جانے اور اپنے دارالحکومت عدن کی چابیاں حوالے کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہ اقدام یمنی یک جہتی کی محبت میں نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ اپنے حریفوں کو جنوبی یمن میں اقتدار پر قبضے سے دور رکھنا چاہتے تھے ! اس واسطے آج ہمیں اندیشہ ہے کہ اقتدار کی پر امن منتقلی ، سیاسی موافقت اور بین الاقوامی توثیق کے بغیر جنوبی یمن چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹ جائے گا۔ یہاں آپس کی باہمی لڑائی ہو گی اور ایران جیسے شرپسند ممالک کو ایک نئی سرزمین مل جائے گی جہاں وہ دراندازی کر سکیں۔

جنوبی عبوری کونسل نے پرسوں یہ کیا ہے کہ خود اپنے وجود پر ہی گولی چلا دی اور اپنے منصوبے کا دل چیر کر رکھ دیا۔ اس عمل نے شک کو بھڑکا دیا اور علاقائی تعلقات کو مجروح کر ڈالا۔ اس عمل پر حوثیوں، ایرانیوں اور قطریوں کے سوا کسی نے تالی نہیں بجائی!

*بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند