تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حزب اللہ ،اسرائیل کا لبنان میں ٹاکرا اور شام کا محاذِ جنگ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 16 صفر 1441هـ - 16 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 10 محرم 1441هـ - 10 ستمبر 2019م KSA 15:27 - GMT 12:27
حزب اللہ ،اسرائیل کا لبنان میں ٹاکرا اور شام کا محاذِ جنگ

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گذشتہ اتوار کو فوجی محاذ آرائی دراصل محدود پیمانے پر ایک سائیڈ شو تھا۔حقیقی تنازع تو سرحد پار شام میں جاری ہے۔

اگرچہ اس محدود محاذ آرائی کی بین الاقوامی میڈیا میں شہ سرخیاں بنی تھیں لیکن یہ اپنے وقت اور اسکوپ کے اعتبار سے محدود تھی۔ حزب اللہ نے مبیّنہ طورپر اسرائیل کی ایک بکتر بند فوجی گاڑی کو ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا تھا اوراس حملے میں اس گاڑی میں سوار فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے مگر اسرائیل نے اپنے کسی فوجی کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی تردید کی تھی۔اسرائیلی فوج نے لبنان پر توپ خانے سے گولہ باری کی تھی اور کوئی ایک سو کے لگ بھگ گولے داغے تھے۔ اس مختصر جھڑپ کا دورانیہ دو گھنٹے رہا تھا۔ یہ جھڑپ قواعد وضوابط کے مطابق ہی ہوئی تھی اور بظاہر طرفین کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

حزب اللہ کا یہ حملہ متوقع تھا۔اس نے یہ کارروائی اسرائیل کے ایک فضائی حملے کے جواب میں کی تھی۔اس میں شام کے قصبے اقربا میں شیعہ تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس میں ایران نواز ملیشیا کے متعدد ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں حزب اللہ کے ڈرون ٹیکنالوجی کے دو تربیت یافتہ ماہرین بھی شامل تھے۔

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ نے خبردار کیا تھا کہ ان کی تنظیم اس کا جواب دے گی۔ البتہ انھوں نے یہ کہا تھا کہ وہ جواب میں درست وقت پر درست جگہ کو ہدف بنائے گی۔ ان کے اس جارحانہ بیانیے کے باوجود کہ تنازع ایک ’’نئے مرحلے‘‘ میں داخل ہوگیا ہے،انھوں نے واضح کیا تھا کہ حزب اللہ اس ٹاکرے کو ایک مکمل جنگ میں تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ان کے نائب نعیم قاسم نے بعد میں کہا تھا کہ ’’میں اس بات کو مسترد کرتا ہوں کہ ماحول ایک جنگ کا سا ہے۔ یہ تو صرف ایک حملے کا ردعمل تھا۔‘‘

حزب اللہ کے علاوہ اسرائیل بھی مکمل پیمانے پر جنگ نہیں چاہتا ہے۔حزب اللہ کے حملے کے جواب میں اسرائیل کا محدود ردعمل اوربالاصرار یہ کہنا کہ اس میں کوئی ہلاکتیں نہیں ہوئی ہیں،اس بات کا مظہر ہے کہ لبنان میں وہ حزب اللہ سے جنگ چاہتا ہے اور نہ یہ اس کی ترجیح ہے۔

مزید برآں، یہ بھی غیر مصدقہ رپورٹس منظرعام پر آئی ہیں کہ اسرائیل نے حزب اللہ کو دھوکا دینے کے لیے پتلوں اور ڈمی فوجیوں کو استعمال کیا ہے اور حزب اللہ کے حملے کا ہدف بننے والی بکتربند گاڑی میں یہی پتلے اور ڈمی فوجی موجود تھے۔شاید اس تنظیم کو عوامی سطح پر اپنا رکھ رکھاؤ برقرار رکھنے کے لیے ایسا موقع فراہم کیا گیا تھا کیونکہ وہ تو اسرائیلی حملے کا انتقام لینا چاہتی تھی۔

حسن نصراللہ کی طرح نیتن یاہونے بھی جنگ کی زبان بولی اور غوغا آرائی کی ہے۔انھوں نے ایک حالیہ بیان میں اس کا خلاصہ یوں بیان کیا:’’اگر کوئی تمھیں قتل کرنے کے لیے اٹھے تو اس کو اس سے پہلے ہی مار دو۔‘‘لیکن حزب اللہ کی طرح اسرائیل کی کارروائیوں سے بھی یہ لگتا ہے کہ وہ لبنان میں جنگ نہیں چاہتا ہے۔دونوں فریق ہی لبنان میں ایک دوسرے کے مدمقابل آنے میں متردد ہیں کیونکہ حقیقی لڑائی تو شام میں جاری ہے۔

داخلی عوامل بھی حزب اللہ پر اثر انداز ہوئے ہیں اور وہ یہ کہ اس تنظیم کو مقامی حمایت حاصل نہیں اور لبنان کی زبوں حال اقتصادی حالت بھی حزب اللہ کی کسی نئی فوجی مہم جوئی شروع کرنے کی صلاحیت میں آڑے آئی ہے۔

حزب اللہ کو اب اس کے مختلف مالیاتی اداروں پر پابندیوں کی وجہ سے زیادہ اقتصادی جدوجہد کرنا پڑرہی ہے۔اس کے لیے سماجی خدمات کے اپنے نیٹ ورک کو فنڈز منتقل کرنا بھی مشکل ہوچکا ہے اور وہ کسی کھلے اور غیر مختتم تنازع کی صورت میں صرف نظریے ہی پر انحصار نہیں کرسکتی ہے۔

ان داخلی عوامل کو اس حقیقت سے بھی مہمیز ملی ہے کہ حزب اللہ خطے بھر اور بالخصوص شام میں موجود ہے۔ حزب اللہ کے ہزاروں پُرعزم فوجی موجود ہیں جو بشارالاسد رجیم کے شانہ بشانہ باغی گروپوں سے لڑرہے ہیں۔شام میں ان جنگی مصروفیات کے علاوہ حزب اللہ عراق میں بھی ایران کی حمایت یافتہ دوسری ملیشیا کے ساتھ فعال ہے۔یمن میں اس نے حوثی ملیشیا کو لاجسٹیکل ، فنی اور علمی معاونت مہیا کی ہے۔ حزب اللہ کی علاقائی مصروفیات اور بالخصوص شام میں جاری جنگ میں الجھ کر رہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لبنان میں اسرائیل کے ساتھ فیصلہ کن تصادم کے لیے تیارنہیں ہے۔

اسرائیل کے محدود ردعمل کو سرحدپارشام میں دیکھا جاسکتا ہے اوراس کو دونوں فریق اور حزب اللہ کا سرپرست ایران بخوبی جانتے ہیں جہاں حقیقی جنگ جاری ہے۔

شامی جنگ کے ابتدائی برسوں کے دوران میں اسرائیل شام بھر میں ایران کے اثاثوں کو نشانہ بنانے کی مسلسل تردید کرتا رہا تھا لیکن ایک سال قبل ہی اس کے اس محتاط رویے میں اچانک تبدیلی رونما ہوگئی تھی اور ایران کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل گادی ایزینکو نے کھلے عام یہ تسلیم کیا تھا کہ ان کی فضائیہ نے شام میں ہزاروں اہداف پر حملے کیے تھے۔

یہ تبدیلی شام میں ایران کے بڑھتے ہوئے رسوخ کے بارے میں اسرائیل کے خوف وخدشات کی عکاس تھی۔

ایران کے اتحادی روس نے اسرائیل کے فضائی حملوں کو روکنے کے لیے اپنے فضائی دفاعی نظام کو ابھی تک استعمال نہیں کیا۔اس سے یہ لگتا ہے کہ شاید اس نے خود ہی ان حملوں کی منظوری دی ہے تاکہ شام میں ایرانی اثرات کا خاتمہ کیا جاسکے۔

سرحد پار حالیہ جھڑپ کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔حزب اللہ کے سرکاری بیانیے کے برعکس اس کا حملہ اسرائیل کو شام پر حملوں سے روکنے کی کوشش تھا اور لبنان میں اس کے ڈرون حملوں کا انتقام بھی تھا۔حزب اللہ نے حملہ آور پارٹی کا نام اقربا میں مارے گئے اپنے دو جنگجوؤں کے نام پر رکھا تھا۔اس کی اس حکمت عملی سے بھی لگتا ہے کہ یہ شام میں رونما ہونے والے واقعات کا محدود ردعمل تھا اوریہ لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ نہیں تھا۔

اسرائیل کی شام میں مداخلت اس کی علاقائی حکمت عملی کا حصہ ہے۔وہ حزب اللہ کے ایران سے بذریعہ شام اور عراق بلا تعطل روابط کے مضمرات کو بھی تسلیم کرتا ہے۔اس ہائی وے رابطے سے حزب اللہ کو ہتھیار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا انبار لگانے کا موقع ملا ہے۔ چناں چہ اسرائیل اپنے ہمسایہ ممالک پر فضائی حملوں کو محدود نہیں کررہا ہے بلکہ حال ہی میں عراق میں ان میزائل حملوں کابھی اس کو ذمے دار قراردیا جارہا ہے جن کا کسی اورنے دعویٰ نہیں کیا ہے۔ان میزائل حملوں میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا الحشد الشعبی کے کمانڈروں اور اس کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ دونوں فریق اب ایک علاقائی جدوجہد میں شریک ہیں جس سے لبنان کی سرحد پر جھڑپوں کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی ہے لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ لبنان میں کوئی تنازع نہیں ہوگا۔ لبنان اگرچہ اس وقت ایک بڑے تنازع کا ایک سائیڈ شو ہے لیکن یہ ملک مرکزی اسٹیج میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
____________

مکرم رباح امریکی یونیورسٹی بیروت کے شعبہ تاریخ میں لیکچرر ہیں۔وہ کتاب ’’کیمپیس حالتِ جنگ میں:امریکی یونیورسٹی بیروت میں طلبہ سیاست 1967-1975ء ‘‘کے مصنف ہیں۔ان کا ٹویٹر پتا یہ ہے:@makramrabah.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند