تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے معدنی وسائل کی ترقی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 18 ربیع الاول 1441هـ - 16 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 7 صفر 1441هـ - 7 اکتوبر 2019م KSA 08:39 - GMT 05:39
سعودی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے معدنی وسائل کی ترقی

گذشتہ اتوار (انتیس ستمبر) کو سعودی عرب کی کان کنی کی کمپنی (معادن) نے اپنے نئے چیئرمین یاسرالرمیان کے تقرر کا اعلان کیا تھا۔ان کا تقرر سعودی عرب کے معدنی وسائل کی ترقی کے لیے حال ہی میں کیے گئے سلسلہ وار اقدامات کی ایک کڑی ہے۔سعودی معیشت کو متنوع بنانے کے منصوبے 2030ء کے مطابق وزارتِ توانائی کی تنظیمِ نو کی گئی ہے۔

مملکت میں حال ہی میں مختلف عہدوں پر کی گئی تبدیلیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں مگر بہت سے تبصرہ نگاروں نے اس کے مساوی اہمیت کی حامل ادارہ جاتی اصلاحات کو نظرانداز کیا ہے۔وزارتِ صنعت اور قدرتی وسائل کا قیام سعودی عرب میں معدنی وسائل کو ترقی دینے کے ارادے کا مظہر ہے۔پہلے یہ دونوں قلم دان وزارتِ توانائی کے تحت تھے اور اس وزارت میں پیٹرولیم کو زیادہ اہمیت حاصل تھی۔

سعودی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے حالیہ اقدامات تک معدنی وسائل کی ممکنہ پیداوار کے لیے محدود کوششیں کی گئی تھیں۔معدنی وسائل کی پیداوار کا معاملہ تو ایک طرف رہا،سعودی عرب کے معدنی وسائل کی ترقی معادن کی ذمے داری ہے۔یہ خود کو مشرقِ اوسط میں کان کنی اور دھاتوں کی سب سے بڑی کمپنی قرار دیتی ہے۔یہ کمپنی 1997ء میں قائم کی گئی تھی جبکہ سعودی عرب میں اس سے ساٹھ سال پہلے تیل نکالا جارہا تھا۔

سعودی عرب میں معدنیات کا شعبہ پُرکشش امکانات کا حامل ہے جبکہ سعودی عرب تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور وہ ارضیاتی اعتبار سے بھی متنوع وسائل کا حامل ہے۔وہ ایلمونیم ، فاسفیٹس اور سونے سمیت معدنیات کی بھاری مقدار پیدا کرسکتا ہے۔2018ء میں معادن کی آمدن چار ارب ڈالرز سے بڑھ گئی تھی۔اس سے بھی سعودی عرب کے معدنی وسائل کے حجم اور ان کے تنوع کی عکاسی ہوتی ہے۔

معادن کی 2017ء کی رپورٹ کے مطابق اس کے فاسفیٹ کے ذخائر 1,400میٹرک ٹن تھے (یہ پوری دنیا کے ذخائر کا ایک فی صد ہیں)۔ سونے کے ذخائر 1,40 میٹرک ٹن تھے(یہ بھی پوری دنیا کے ذخائر کا ایک فی صد ہیں)۔ صنعتی بایوایکسائٹ کے ذخائر بیس میٹرک ٹن سے کچھ زیادہ تھے۔کاؤلین کے ذخائر تین میٹرک ٹن ،میگنزائٹ کے ذخائر تین میٹرک ٹن اور کاپر کے ذخائر چوبیس میٹرک ٹن کے برابر تھے۔ان تمام کی مالیت کا تخمینہ دس کھرب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔

سعودی عرب کے معدنی وسائل کے شعبے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے فیصلے کی اشیاء کی قیمتوں کے تاریخی ڈیٹا سے بھی تائید ہوتی ہے۔اوّل تیل کی قیمت کے مقابلے میں سعودی عرب جن اشیاء کو برآمد کرنا چاہتا ہے ،مثال کے طور پر سونے کی قیمت کم زور ہے۔بہ الفاظ دیگر ان معدنیات کی قیمت کو تیل کی قیمت سے نہیں جوڑا جاسکتا اور یوں انھیں اتار چڑھاؤ کا شکار تیل کی مارکیٹ میں ایک موثر حد فاصل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔دوم ، سعودی عرب میں بیشتر معدنیات کی قیمتیں بہ ذات خود کم زور ہیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ سعودی عرب سرمایہ کاری کی ایک طویل المیعاد پالیسی کے تحت مختلف معدنیات کی پیداوار اور ان کے ثمرات حاصل کرسکتا ہے اور اپنی آمدن میں ایک ایسے ملک کے مقابلے میں زیادہ استحکام حاصل کرسکتا ہے جس نے چند ایک اشیاء ہی پر بھاری سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

معدنی وسائل کی وزارت کے علاحدہ قیام کے بعد توانائی کی وزارت صرف توانائی کے شعبے کی ترقی پر اپنی توجہ مرکوز کرسکے گی۔شمسی اور ہوا سمیت توانائی کے قابل تجدید ذرائع سعودی عرب کے لیے بہت سے امکانات اور فوائد کے حامل ہیں۔ان سے پائیدار اہداف کے حصول میں مدد لی جاسکتی ہے اور انھیں بھی کاربن کی بنیاد پر صنعتوں کے مقابلے میں ترقی دی جاسکتی ہے۔ وزارت توانائی ان منصوبوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے تو اس سے سعودی عرب کو گذشتہ دو سال کے دوران میں شمسی توانائی کے جن بڑے منصوبوں پر عمل درآمد میں مشکلات کا سامنا ہوا ہے، ان پر قابو پایا جاسکے گا۔

اس وزارت کو صرف توانائی سے متعلق امور کے لیے مختص کرنے سے سعودی عرب کے جوہری پروگرام پر پیش رفت کی جاسکے گی۔اس وقت وہ زیادہ ترتیل اور قدرتی گیس سے توانائی پیداکرنے پر انحصار کررہا ہے لیکن ان دونوں وسائل کی پیٹرو کیمیکلز کی اعلیٰ ویلیو ایڈڈ صنعتوں کے لیے بڑی اہمیت ہے۔ توانائی کے حصول کے لیے جوہری پروگرام کی ترقی سے سعودی عرب کو تیل اور گیس کے ایندھن کے طور پر استعمال میں انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی اور انھیں زیادہ اہمیت کی حامل ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں استعمال کیا جاسکے گا۔یوں ان سے زیادہ فوائد حاصل ہوں گے اور ملکی معیشت پر مجموعی طور پر زیادہ بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔

سعودی عرب قابل تجدید اور جوہری توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی کو برآمد کرنے کی بھی منصوبہ بندی کررہا ہے۔وہ عراق میں ایران کی جگہ لینا چاہتا ہے اور اس کے مقابلے میں خود عراق کو بجلی مہیا کرنا چاہتا ہے۔اس ضمن میں خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کی انٹر کونیکشن اتھارٹی اس کے گرڈ کو عراق سے جوڑنے کے منصوبے پر کام کررہی ہے۔اسی طرح مشرقِ اوسط کے ممالک کے گرڈ اسٹیشنوں کو باہم مربوط بنانے پر کام جاری ہے۔اس کا طویل المیعاد مقصد جی سی سی کو یورپی گرڈ سے مربوط بنانا ہے۔اس طرح موسمیاتی تغیّرات کی بنیاد پر بجلی کا منافع بخش تبادلہ کیا جاسکے گا کیونکہ خلیج میں بجلی کی کھپت موسم گرما میں زوروں پر ہوتی ہے جبکہ یورپ میں موسم سرما میں بجلی کی زیادہ تر کھپت ہوتی ہے۔اس تمام صورت حال میں خود مختار وزارت توانائی طویل المیعاد تزویراتی اہداف کو حاصل کرسکے گی۔

ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت کی اعلیٰ سطح پر باہم مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔الگ الگ وزارتوں کے قیام سے ہر شعبے کے انتظام وانصرام کو زیادہ موثر بنایا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ اس سے مختلف شعبوں کے درمیان رابطہ کاری زیادہ مشکل بھی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایلمونیم کی پیداوار معادن کی بنیادی سرگرمیوں میں سے ایک ہے اور توانائی کے عمل کا حصہ ہے۔ چناں چہ معدنیات اور توانائی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے پالیسی سازوں کو باہم مل کر طویل المیعاد تزویراتی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔اس سب کے باوجود ان تبدیلیوں کو سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنانے کے عمل میں ایک نیک شگون اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند