تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قاسم سلیمانی کی ہلاکت: ایران آبنائے ہُرمز سے ماورا کیا کرسکتا ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 7 شعبان 1441هـ - 1 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 20 جمادی الاول 1441هـ - 16 جنوری 2020م KSA 15:00 - GMT 12:00
قاسم سلیمانی کی ہلاکت: ایران آبنائے ہُرمز سے ماورا کیا کرسکتا ہے؟

ایران قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد اپنے عرب ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں میں تیزی لاسکتا ہے لیکن دنیا کے تیل کی رسد کے لیے اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز کی بندش یا اس کو نشانہ بنائے جانے کا امکان نہیں۔

اگر آبنائے ہُرمز کو بند کیا جاتا ہے تو اس کا ردعمل بھی ہوگا اور ایران بین الاقوامی تجارت سے کٹ کر رہ جائے گا لیکن ایران کو تو خطے میں بہت سے اہداف دستیاب ہیں۔ان میں خطے میں تزویراتی اہمیت کے حامل قومی ڈھانچے بھی شامل ہے۔

تہران میں نظام اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہے کہ اگر خطے میں امریکا یا مغرب کی افواج پر براہِ راست کوئی حملہ کیا جاتا ہے تو اس کا جواب تباہ کن فوجی ردعمل کی صورت میں آئے گا اور ایرانی نظام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گا۔اس کے پیش نظرآیندہ ہفتوں کے دوران میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ایران اپنی آلہ کار تنظیموں حزب اللہ ، حماس یا عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کے ذریعے کوئی جواب دے گا۔ان تنظیموں کے حملوں میں تیل اور گیس کی پیداوار کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے،مغرب اور عرب قومی کمپنیوں کی معمول کی سرگرمیوں میں رخنہ ڈالا جاسکتا ہے۔یہ کام ایران ان آلہ کار گماشتہ تنظیموں کے ذریعے بہت کم لاگت سے کرسکتا ہے کیونکہ یہ اہداف بآسانی قابل رسائی ہیں اور ہیں بھی ہائی پروفائل۔

سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی براہ راست مداخلت کے بغیر بھی ایران اپنے عرب ہمسایوں پر نمایاں دباؤ ڈال سکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ مغربی اور ایشیائی معیشتوں کو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ذریعے بھی ہدف بنایا جاسکتا ہے۔

ایران کی حکمت عملی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ امریکا کے حامیوں کے لیے اقتصادی خطرات میں اضافہ کردے اور اس حربے کے ذریعے یورپیوں اور امریکیوں کے درمیان تقسیم پیدا کردے۔

اگر کوئی براہ راست جنگ متوقع نہیں بھی تو عرب ممالک میں توانائی اور پانی کے وسائل کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔جیسا کہ ایران کے گذشتہ سال ستمبر میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں سے ظاہر ہے۔ایسی کارروائیوں کا دفاع نہیں کیا جاسکتا اور ان میں ڈرونز یا ممکنہ طور پر سائبر حملے کیے جاسکتے ہیں۔ایران اور اس کی گماشتہ تنظیمیں اگر اہم انفرااسٹرکچر کو نشانہ بناتی ہیں تواس طرح وہ نہ صرف خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے خطے میں معیشتوں اور معاشرے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا سبب بنیں گی بلکہ اس سے عالمی معیشتوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔

ایران پہلے ہی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر حملے کی دھمکی دے چکا ہے۔اختتام ہفتہ پر ہم نے ایسا پہلا حملہ ملاحظہ کیا تھا۔اس حملے میں بحرین پیٹرولیم کمپنی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔سعودی عرب اور ابوظبی کی سرکاری تیل کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے لیکن قطرکو شاید ایسے حملوں سے معاف رکھا جائے کیونکہ اس کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہیں۔

سب سے زیادہ تشویش ناک توانائی اور پانی کے منصوبوں پر سائبرحملہ یا میزائل حملہ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ خلیجی ممالک کے لیے زندگی اور بقا کا مسئلہ ہیں۔سعودی عرب اورابوظبی پرکسی مکمل حملے یا عراق میں فوجی محاذآرائی کا جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی صورت میں دیں گے اور انھیں ان کے نیٹو اتحادی بھی ممکنہ مدد وحمایت مہیا کرسکتے ہیں لیکن اگرایران اپنی گماشتہ تنظیموں کو بروئے کار لاتا ہے یا غیرروایتی حکمت عملی اختیار کرتا ہے تو مغرب یا عرب ریاستوں کے لیے اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔

ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے درباریوں کو جلد (قاسم سلیمانی ہلاکت کا) بدلہ چکانے کی ضرورت ہے۔اگر وہ بہت زیادہ تاخیر کرتے ہیں تو اس کو ان کی کمزوری سمجھا جائے گا۔فی الوقت تیسری عالمی جنگ کوئی آپشن نہیں ہے کیونکہ ایران بہت کم زور ہے جبکہ مغرب اور عرب اتحاد کے برسرزمین فوجی موجود نہیں ہیں لیکن غیر روایتی تنازع میں شدت متوقع ہے۔ بالخصوص اگر ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے پیش رفت کرتا ہے تو اس غیر رسمی محاذ آرائی میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند