تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب کے عدالتی نظام میں اصلاحات،مگر فیصلے منصفانہ ہوں!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م KSA 15:23 - GMT 12:23
سعودی عرب کے عدالتی نظام میں اصلاحات،مگر فیصلے منصفانہ ہوں!

فرانسیسی مفکر مونٹیسکیو نے ایک مرتبہ کہا تھا:’’قانون کی چھتری تلے انصاف کے نام پر ہونے والے جبرواستبداد سے بڑھ کر کوئی سفاکیت نہیں ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں عدالتی انصاف اور بالخصوص قانونی عمل کو ڈیجیٹل بنانے کا عمل سعودی عرب کے ویژن 2030ء کااہم حصہ ہے۔ البتہ کارکردگی کے کلیدی اشاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے ویژن کے نگرانوں کو ایک ایسے نظام میں تبدیلی کے وقت محتاط ہونا چاہیے،جو پہلے سست روی سے مقدمات فیصل کرتا ہے مگر پھر وہ تیز رفتار انداز میں فیصلے کرتے وقت ناانصافی نہ کر گزرے۔

سعودی وزارت انصاف کی ویب گاہ پر کارکردگی کے بہت سے اشاریے دیے گئے ہیں اور یہ مقدمات کے زیادہ تیزی سے فیصل ہونے کی غمازی کرتے ہیں۔

سعودی عرب کی تجارتی عدالتوں نے ابتدائی پانچ ماہ میں گیارہ ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا ہے،اسی عرصے میں گذشتہ سال کے مقابلے میں جائیدادوں کے اندراج میں چالیس فی صد اضافہ ہوا ہے اور یہ سب ای خدمات میں اضافے کا نتیجہ ہے۔مزید برآں تنفیذی عدالتوں نے 116 بیرونی احکامات پر عمل درآمد کیا ہے۔ان تمام کی مجموعی مالیت دس کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی۔یہ ایک ایسے ملک میں نمایاں پیش رفت ہے جو عالمی معیشت کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ اور مربوط ہونا چاہتا ہے۔

ایک جج کا کام محض فیصلہ سنانا ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک منصفانہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔یہ انصاف کے ویژن کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کو معاشیات کے نوبل انعام یافتہ پروفیسر بنگٹ ہولمسٹروم اور ان کے شریک لکھاری پال مِگلروم نے ’’کثیر الجہت مسئلہ‘‘ قراردیا ہے۔ایک ماہر جج کو ایک مقدمے کے جائزے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔چناں چہ ایک چاکلیٹ بار اور ٹیکسی کے سفر کے معیارکا جائزہ تو فوری اور ارزاں انداز میں لیا جاسکتا ہے لیکن کسی عدالتی فیصلے کے معیار کا جائزہ لینا دقت طلب اور مہنگا سودا ہوتا ہے۔

پروفیسر ہولمسٹروم اور ملگروم نے اس طرح کے کثیر نوعیت کے کاموں کے ماحول میں سازگار مراعاتی ڈیزائن کا مطالعہ کیا ہے۔اس کا اہم نکتہ یہ تھا کہ کارکنوں کو ان کی پیداوار کی بنیاد پر بآسانی قابل پیمائش اجرت اور مراعات دی جائیں تو پھر وہ اپنی کاوشوں کو ان پہلوؤں اورسمتوں پر مرکوز کردیتے ہیں جو قابل پیمائش ہوتے ہیں اور ان اہم پہلوؤں کو غیر ذمے دارانہ طریقے سے نظر انداز کردیتے ہیں جن کی پیمائش مشکل ہوتی ہےاوراس کو انتظامیہ بھی نظرانداز کردیتی ہے۔

اس کی مشہور مثال امریکا میں تعلیم کا نظام ہے۔وہاں اساتذہ کی کارکردگی کی جانچ ان کے طلبہ کی کارکردگی اور معیاری ٹیسٹوں سے کی جاتی ہے۔چناں چہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ’’استاد وہی ہے جو ٹیسٹ سکھاتا ہے۔‘‘پھر ایسے طلبہ کی لہر سامنے آئی جن میں غیر آزمائشی خصائص مثلاً سماجی مہارتوں ،تخلیقیت اور ذمے داری ایسی خوبیوں کا فقدان پایا جاتا تھا۔

سعودی عرب کے عدالتی نظام میں اگر کارکردگی پر مبنی اشاریوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے تو اس سے معیار کی قیمت پر مقدمات کو جلد نمٹایا جاسکتا ہے۔ایسی ہی ایک مثال چلّی میں سامنے آئی تھی۔وہاں حکام نے بس ڈرائیوروں کو مسافر ڈھونے کی بنیاد پرمعاوضہ دینے کا آغاز کیا اور ان کے کام کے گھنٹوں کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا تھا۔اس کے بعد ڈرائیورمسافر اٹھانے کی مسابقتی دوڑ میں لگ گئے۔انھوں نے جارحانہ انداز میں بسیں چلانا شروع کردیں اور یوں ٹریفک حادثات کی شرح میں اضافہ شروع ہوگیا۔

برطانیہ میں قومی صحت سروس نے بستر کو کارکردگی کی جانچ کے پیمانہ کے طور پر متعارف کرایا تھا۔یعنی فی بستراوسطاً کتنے مریضوں کا علاج کیا گیا۔اس سے یہ خدشہ پیدا یوگیا کہ ڈاکٹرحضرات مریضوں کو علاج مکمل ہوئے بغیر ہی ڈسچارج کرنا شروع کردیں گے۔بالکل اسی طرح ایک جج کیس کےمواد یاتفصیل کو ملاحظہ کرکے مختصر وقت میں حل کرسکتا ہے۔مقدمات کو اس طرح تیز رفتاری سے فیصل کرنے کا ممکنہ نتیجہ غیرمنصفانہ حکم ہوسکتا ہے۔

کیا سعودی عرب میں تیز رفتارعدالتی احکامات معیار کی قیمت پر جاری کیے گئے ہیں؟ اس سے متعلق دستیاب معلومات غیر مفید ہیں اور چلّی کے بس ڈرائیوروں کے برعکس یہ بہت مہنگا سودا ہے کہ ٹھیک ٹھیک معیاری ڈیٹا اکٹھا کیا جائے کیونکہ اس کے لیے اتنے ہی اخراجات کی ضرورت ہوگی جتنے اصل فیصلہ میں اٹھیں گے۔

تمام قانونی نظام عدالتی فیصلوں کے معیار سے متعلق ڈیٹا کو جمع کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں لیکن سعودی عرب کے برعکس بیشتر ممالک میں حکام تمام اشاریوں کی نگرانی کرتے ہیں۔مثلاً عدالت میں فیصلے کس رفتار سے کیے جاتے ہیں اور متعلقہ ڈیٹا میں عدالتی حکام کی پریس ریلیزوں کو کوئی نمایاں جگہ نہیں دی جاتی ہے۔

سعودی عرب میں ایسے اشاریوں پر زور ویژن 2030ء کا نتیجہ ہے مگر دوررس اصلاحات کے اس جامع پروگرام کی معمول سے کہیں بڑھ کر نگرانی کی جانا چاہیے۔ کیا ایسے اضافی معیار مرتکز اشاریے موجود ہیں جو کیفیتی مرتکز انتخاب کو مہمیز دے سکیں؟

اس پہلو کا یورپی کمیشن برائے مسابقتی انصاف نے اپنے 2016ء کے ایک پیپر میں احاطہ کیا ہے۔اس کا عنوان ’’انصاف کے معیار کی پیمائش‘‘ ہے۔اس پیپر کی تیاری میں جس مہارت کاثبوت فراہم کیا گیا ہے،اس سے قطع نظر پیمائش کا مجوزہ معیار سعودی عرب میں استعمال کی جانے والی بالواسطہ پیمائشوں کے مقابلے میں کوئی کوئی زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔

تاہم یہ پیپرصارفین کے اطمینان کی جانچ کے لیے سروے کو لازمی قراردیتا ہے۔سعودی عرب کے حکام کو معیار کی جانچ کے لیے آزمائشوں کے عمل میں اس کو نمایاں اہمیت دینی چاہیے۔

مزید برآں حکام کو عدالتی احکامات میں بروئے کار افسر شاہی کی تربیت کرنی چاہیے تاکہ تیز رفتار عدالتی فیصلوں کی وجہ کا تعیّن کیا جاسکے۔ کیا یہ اس بات کا نتیجہ ہیں کہ جج حضرات ناقابل پیشین گوئی ہیں یا یہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ قانونی منتظمین کی ڈیسک میں کاغذات ان کی نظرکرم کے منتظر رہتے تھے اوراب اس طرزعمل کو محدود کردیا گیا ہے یا شاید جج صاحبان کو زیادہ معاونین مہیا کردیے گئے ہیں یا کاغذی کام کو مختصر کردیا گیا ہے اور اس کے لیے عدالتی امور نمٹانے کی کوئی زیادہ مہارت درکار نہیں ہے۔

اگر عدالتی احکامات کے اجرا کی رفتار میں بہتری آتی ہے تواس طرح کی تحقیقات کے حاصلات کا نمایاں انداز میں اعلان کیا جانا چاہیے کیونکہ عوام کا انصاف کے بارے میں ادراک اتنا ہی اہمیت کا حامل ہے جتنی کہ خود ایک حقیقت۔

یہاں پر مارکوس اورلیئس کا ایک قول نقل کیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا:’’ اپنی زخمی ہونے کی حس کو نظرانداز کر دیجیے۔پھر زخم خود ہی ناپید ہوجائے گا۔‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند