تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ریلیف!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 21 ذوالحجہ 1441هـ - 11 اگست 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م KSA 15:28 - GMT 12:28
سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ریلیف!

اس وقت تقریباً اٹھاسی لاکھ پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں۔ یہ سمندر پار پاکستانی پاکستان کیلئے زرمبادلہ بھیجتے ہیں‘ یہ زلزلے‘ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات میں ملک کے کام آتے ہیں اور یہ اٹھاسی لاکھ پاکستانی اپنے اپنے ملک میں پاکستان کے سفیر بھی ہیں۔ ان کی ہر حرکت‘ ان کی ہر کاوش اور ان کی کامیابی اور ناکامی کو ان کے ملک سے جوڑا اور پرکھا جاتا ہے؛ چنانچہ یہ ملک میں رہنے والے عام پاکستانیوں سے زیادہ حساس بھی ہیں اور متحرک بھی‘ کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ ان کی چھوٹی سی غلطی ناصرف انہیں بیرون ملک معاشی اور سماجی طور پر مہنگی پڑ سکتی ہے‘ بلکہ اس طرح وہ اپنے ملک کیلئے بدنامی کا باعث بھی بن سکتے ہیں؛ تاہم یہ اوورسیز پاکستانی کن مسائل کا شکار ہیں‘ ہم ان کے مسائل کس حد تک سمجھ اور حل کر سکے ہیں‘ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کا سمندر پار پاکستانیوں کو شدت سے انتظار رہتا ہے۔ اگر وہ اپنے ملک کا نام روشن رکھنے‘ اسے زرمبادلہ بھیجنے اور اس کی عزت اور نیک نامی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں تو بدلے میں وہ ہم سے بھی کچھ امیدیں لگا لیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک انہیں اسی طرح عزت اور احترام دے جیسا انہیں بیرون ملک ملتا ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو بعض خدمات کا حصول بہت زیادہ درکار رہتا ہے۔ ان میں قومی شناخت کی تصدیق‘ کریکٹر سرٹیفکیٹ کا حصول‘ ایف آئی آر کی کاپی، کرایہ دار کی رجسٹریشن، جرائم کی رپورٹ اور ملازم کی رجسٹریشن شامل ہیں۔

چند دن قبل وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب پولیس خدمت مرکز کے گلوبل پورٹل کا افتتاح کیا۔ اس پورٹل کے تحت 32 ممالک میں مقیم اٹھاسی لاکھ پاکستانیوں کو یہ چھ سہولیات اپنے رہائشی ملک میں بیٹھے میسر آئیں گی۔ پرانے نظام میں لوگوں کو سفارت خانہ سے دستاویزات لینے کیلئے ایک طویل طریقہ کار سے گزرنا پڑتا تھا‘ جس میں شفافیت کا کوئی عمل دخل نہیں تھا اور دفاتر کے چکر لگاتے لگاتے 60 سے 90 دن ضائع ہو جاتے تھے اور ایک درخواست پر کارروائی میں چھ ماہ تک کا عرصہ لگ جاتا تھا‘ لیکن اب گلوبل پورٹل کے اجرا کی بدولت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سفارتخانے اور وزارت خارجہ کے ذریعے ون کلک آپشن سے بغیر کسی رکاوٹ کے زیادہ سے زیادہ چالیس دن میں متعدد سہولیات کی فراہمی ممکن ہو گی۔ اس نظام کے تحت درخواست دہندہ اپنے متعلقہ سفارتخانے میں موجود پولیس خدمت مرکز گلوبل کاؤنٹر میں جائے گا‘ جہاں آفیسر کی تصدیق کے بعد اس کی دستاویزات کو پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ اس کے بعد وزارت داخلہ پاکستان، وزارت خارجہ پاکستان اور سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے درخواست کی نگرانی‘ ٹریکنگ اور متعلقہ ایکشن لیا جائے گا۔ ضلعی پولیس/ سکیورٹی برانچ میں درخواست پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایک کیو آر کوڈ جاری کیا جائے گا جبکہ عالمی سطح پر قابل تصدیق سرٹیفکیٹ/ توثیقی دستاویزات کوریئر اور ای میل کے ذریعے بھیجے جائیں گے۔

یہ نیا ڈیجیٹل نظام بہت دلچسپ اور فول پروف ہے۔ پنجاب پولیس کیلئے پنجاب آئی ٹی بورڈ کے وضع کردہ اس گلوبل پورٹل کے ذریعے تمام پاکستانی سفارت خانوں کو پنجاب پولیس کے مربوط نظام تک رسائی دی جائے گی۔ متعلقہ سٹاف کو پولیس خدمت مرکز گلوبل پورٹل کے یوزر آئی ڈی اور پاس ورڈ دیئے جائیں گے‘ جن کی مدد سے وہ ڈیٹا کو ڈیجیٹل طریقے سے متعلقہ ضلعی خدمت مرکز میں بھیج سکیں گے۔ تصدیقی مقاصد کیلئے پولیس خدمت مرکز گلوبل میں آفیسر درخواست دہندہ کی دستاویزات کی تصدیق اور اپ لوڈ کرے گا۔ اب تک پنجاب کے 36 اضلاع میں 50 سے زائد خدمت مراکز، 36 موبائل خدمت مراکز اور 50 ہزار سے زائد خدمت کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں اور تقریباً 25 لاکھ سے زائد شہری اس سہولت سے مستفید ہو چکے ہیں۔ پولیس خدمت مراکز کو گلوبل یا عالمی ممالک سے جوڑنے کے بعد اٹھاسی لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کو ان کے اپنے ملک میں یہ سہولیات چھ ماہ کی بجائے صرف بیس سے چالیس دنوں میں دستیاب ہو جائیں گی۔ اس نظام سے قبل انہیں بہت سے مسائل کا سامنا تھا مثلاً یہ کہ اگر کسی اوورسیز پاکستانی نے کسی جگہ نوکری کیلئے اپلائی کیا ہے اور اسے اپنے ملک سے کریکٹر سرٹیفکیٹ درکار ہے تو ماضی کے روایتی طریقہ کار کی وجہ سے وہ سرٹیفکیٹ اسے ملنے میں چھ سات ماہ اور بعض کیسز میں اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا تھا۔ تمام دستاویزات ڈاک کے ذریعے آتی اور جاتی تھیں اور ان کی ٹریکنگ کا بھی کوئی نظام نہ تھا۔ جب تک کریکٹر سرٹیفکیٹ آتا تھا تب تک نوکری ویسے ہی ضائع ہو جاتی تھی یا کسی اور کو مل جاتی تھی۔

بیرون ملک پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے پاکستان میں اپنے گھر وغیرہ کرائے پر دے رکھے ہیں۔ انہیں کرایہ داری کے اندراج میں بہت مشکلات پیش آتی ہیں؛ تاہم اس نئے نظام سے یہ مشکل بھی حل ہو گئی ہے۔ اب اگر انہیں پاکستان میں اپنا گھر کرایہ پر دینا ہے تو انہیں بیرون ملک پاکستانی سفارت خانے میں جانا ہو گا اور وہاں جا کر کرایہ داری معاہدے کی ایک درخواست دینی ہو گی اور اس کے ساتھ پاکستان میں اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کو نامزد کرنا اور اس کا شناختی کارڈ و رابطہ نمبر دینا ہو گا‘ جس کے بعد پاکستان میں وہ شخص اوورسیز پاکستانی کی جگہ کرایہ داری معاہدے کا اندراج کرا سکے گا۔ اسی طرح اگر کسی اوورسیز پاکستانی کے ساتھ پاکستان میں کوئی جرم ہوتا ہے‘ کوئی اس کا زیور چھین لیتا ہے تو وہ بیرون ملک جا کر اس کا انشورنس کلیم کر سکتا ہے؛ تاہم انشورنس کمپنی اس سے پاکستان میں درج ایف آئی آر کی کاپی مانگے گی۔ نئے سسٹم کے تحت اوورسیز پاکستانی بیرون ملک پاکستانی سفارتخانے میں جائیں گے‘ اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر دیں گے اور سفارت خانہ اسی وقت انہیں ان کی ایف آئی آر کی کاپی دے دے گا۔ یہ وہ چند خدمات ہیں جن سے بیرون ملک پاکستانیوں کو بہت زیادہ واسطہ پڑتا ہے اور اب انہیں ان کے حصول میں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

ٹیکنالوجی کے حکومتی استعمال سے کروڑوں لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس کے باوجود ایجنٹوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں۔ وہ اتنا تردد کرنے کی کوشش نہیں کرتے کہ تھوڑی سی تحقیق کرکے یہ جان لیں کہ یہ سروس کیسے مل سکتی ہے۔ وہ سیدھا ایجنٹ کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں: میرا یہ کام ہے بتائو کتنے پیسے لگیں گے۔ لوگوں کو اپنی اس سوچ کو بھی بدلنا ہو گا۔ بہت سی سروسز جو پہلے قطاروں میں لگ کر ملتی تھیں آن لائن ہو چکی ہیں۔ سرکاری محکموں کے بہت سے فارم سرکاری اداروں کی ویب سائٹ پر مفت ڈائون لوڈ کئے جا سکتے ہیں لیکن لوگ پروا نہیں کرتے۔ چیزیں بہت تبدیل ہو چکی ہیں‘ مگر ہم اب بھی بیس تیس سال قبل کے دور میں رہ رہے ہیں۔ کوئی بھی سروس حاصل کرنے کیلئے اگر آپ گوگل پر دو چار الفاظ لکھ کر سرچ کر لیں یا کسی دوست یار سے پوچھ لیں کہ مثلاً میں گاڑی کا ٹوکن دینا چاہتا ہوں کیا یہ آن لائن دیا جا سکتا ہے یا مجھے ایکسائز کے آفس جانا پڑے گا تو آپ کو گوگل سے ہی معلوم ہو جائے گا کہ اب گاڑی کا ٹوکن ٹیکس ویب سائٹ اور موبائل ایپ سے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے لوگ محض پیسوں کی وجہ سے ٹیکسز کی ادائیگی نہیں کرتے بلکہ وہ قطار اور انتظار کی زحمت سے بچنے کیلئے ٹیکس دینے کی زحمت نہیں کرتے۔ اب تو ای پے پنجاب کی سرکاری ایپ بھی آ چکی ہے جس کے ذریعے پانچ محکموں کے تیرہ ٹیکس آن لائن ادا کئے جا سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے لوگ ٹک ٹاک بنا لیتے ہیں‘ رنگ برنگی ویب سائٹس کھولنے کیلئے پراکسی سرورز کا بھی استعمال جانتے ہیں اور روزمرہ کی زندگی میں طرح طرح کے جگاڑ بھی لگانا جانتے ہیں لیکن یوٹیلٹی بلز‘ ٹیکس اور سرکاری خدمات کے حصول کیلئے سرکاری ایپس اور پورٹل کا استعمال کرنے اور سمجھنے کو تیار نہیں۔ حکومت اب گھر گھر جا کر ہر بندے کو سمجھانے سے تو رہی۔ ہمیشہ پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے۔ اب ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے درجنوں سروسز آن لائن ہو چکی ہیں اور وہ دنیا بھر میں کہیں بھی بیٹھ کر ان کا باآسانی استعمال کر سکتے ہیں۔ اب بہت سے مسائل اور مشکلات بغیر پیسوں اور ایجنٹوں کے گھر بیٹھے آن لائن حل ہو سکتی ہیں‘ ضرورت صرف تھوڑا سا دماغ استعمال کرنے کی ہے!

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند