تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایمان کی سلامتی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 7 ربیع الاول 1442هـ - 24 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 24 ذوالحجہ 1441هـ - 14 اگست 2020م KSA 15:20 - GMT 12:20
ایمان کی سلامتی

بہت بابرکت ہے وہ ذات جس کی تدبیر کامل، حکمت بے عیب اور قدرت بے پایاں ہے۔ وہ حکم دے تو سر بہ فلک پہاڑ ملیامیٹ ہو جائیں، جاہ و حشم کے پیکر گدا بن جائیں اور سمندر میں موجوں کا زور دہکتے ہوئے ریگستان میں بدل جائے۔ اللہ جل شأنه صرف ایک دفعہ حکم دیتے ہیں اور وہ یوں نافذ ہوتا ہے جیسے پلک جھپکنا۔ بلند درجات اور عرش والے رب پر اس حقیر فقیر کی جان قربان۔!

میں نے غور و فکر کیا تو بھید کھلا کہ انسان کا ارادہ کمزور اور عزم ناپختہ ہے۔ بدی سے نفرت اور نیکی پر استقامت ہو تو کیا خوب ہے لیکن گناہوں کی لذّتیں دل فریب اور ان کے راستے خوش نما ہیں۔ پھر نفس کی چال یہ ہے کہ ہر وقت شکار کی تاک میں ہے۔ جس کا ایمان واجبی اور دل خالق کی یاد سے غافل ہو، ابلیس کے لیے اسے زیر کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ نفس کا حقیقی معرکہ اس شخص سے پڑتا ہے جس کا باطن پاکیزہ اور ضمیر خدا شناس ہو۔ ابلیس جانتا ہے کہ ایسے شخص کو سیدھے سبھاؤ گناہ کی ترغیب دے کر پھنسانا آسان نہیں۔ چناں چہ وہ عیاری کے ساتھ دام بچھاتا ہے۔

کبھی وہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی امید دلاتے ہوئے گناہ کرنے پر اکساتا ہے اور اس کے عذاب سے بے خوف کر دیتا ہے۔

کبھی وہ انسان کو گناہ کے بظاہر اچھے نتائج اور بہتر ثمرات کا جھانسا دیتا ہے۔ جس طرح کہ شیطان نے آدم علیہ السلام سے کہا تھا:’’کیا میں تمھاری راہ نمائی کروں کہ ابدی زندگی والے درخت اور غیر فانی سلطنت کو حاصل کرنے کا گُر کیا ہے؟‘‘(طه)

کبھی وہ انسان کو حالات و ضروریات کی باطل تاویلات و توجیہات کرنے پر مجبور کرتا ہے اور اس سے کہتا ہے: ’’مصلحت اسی میں ہے کہ تم گناہ کرو!‘‘

کبھی وہ انسان کو جلال و اکرام والے رب کی محبت و معرفت سے بے پروا کر دیتا ہے اور اس سے بڑی کون سی حرماں نصیبی اور محرومی ہو گی کہ انسان اپنے پالن ہار کی پہچان اور اس کے قرب سے بے نیاز ہو جائے۔

میرا خیال تھا ہدایت پانے کے لیے کسی صالح اور نیکوکار شخص کی رفاقت و قربت ضروری ہے لیکن میں نے دیکھا کہ نوح علیہ السلام کا بیٹا، ابراہیم علیہ السلام کا باپ، لوط علیہ السلام کی بیوی اور ہادی عالم محمد صلى الله عليه وسلم کا سگا چچا ابو لہب الحاد و کفر پر کاربند اور بتوں کے پجاری تھے حالانکہ یہ سب جلیل القدر انبیاء و رسل کے قرابت دار تھے۔

پھر میں نے سوچا جس شخص کے دل و دماغ میں بچپن سے شرک کی غلاظتیں انڈیلی گئی ہوں اس کا حق کی طرف مائل ہونا محال ہے لیکن میں نے دیکھا کہ خالد بن ولید، عکرمہ بن ابی جہل اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم نے اسلام قبول کیا اور بعد میں ان کی تلواریں اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطر مستقل بے نیام رہیں حالانکہ ان سب کے باپ عہدِ رسالت کے نامی گرامی مشرک تھے۔

میرے دل میں آیا کہ جن لوگوں نے نبی کریم علیہ الصلاة والسلام کے دور مبارک میں آنکھ کھولی اور اسلام قبول کیا ان کا تو نصیب کھل گیا لیکن میں نے دیکھا کہ ابن خطل اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا۔ فتح مکہ کے موقع پر وہ غلافِ کعبہ کے ساتھ لپٹا ہوا تھا مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم سے اسے قتل کر دیا گیا۔

میں نے ذہن لڑایا کہ حکمت و دانش، علم و فہم اور عبادت و ریاضت رب تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں۔ جو شخص ان سے بہرہ مند ہوا، اس کے لیے دینی احکام کو سمجھنا، نیکی پر ثابت قدم رہنا اور باری تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا کتنا سہل ہو گا لیکن میں نے دیکھا کہ بنی اسرائیل کے عالم بلعم بن باعوراء نے چند ٹکوں کے عوض اپنا دین و ایمان بیچ دیا۔ میں نے فلاسفہ کی کتابوں میں پڑھا کہ عالم قدیم ہے، خالق کائنات کا علم محدود ہے اور قیامت کے روز صرف روحوں کا حشر ہو گا، جسموں کا نہیں۔

خوارج نے کثرت عبادت کے باوجود تقدیر کا انکار کیا۔ معتزلہ کے متکلمین نے رائے دی کہ رب العالمین (معاذ اللہ) جھوٹ بھی بول سکتے ہیں اور قرآن حکیم مخلوق ہے۔ کلام اللہ کو مخلوق ٹھہرانے والی ایک جماعت تو معاذاللہ اس کی ہر طرح کی بے توقیری کو روا سمجھتی ہے۔ میں نے وحدة الوجود کے علم برداروں کے عقائد پر نظر دوڑائی تو معلوم ہوا ان کے نزدیک حق تعالیٰ کی ذات تو کسی بے زبان جانور میں بھی موجود ہے۔ الامان۔!

ہر طرح کی حمد و ثنائے سرمدی اللہ عزوجل کو زیبا ہے جس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے حقائق کا پردہ چاک کیا اور صراطِ مستقیم کی طرف راہبری کی۔ میں نے حضور اقدس علیہ الصلاة والسلام کی ایک حدیث پڑھی جس نے تمام افکار و خیالات اور سوالات و وساوس کی تشفی کر دی۔ آپ نے ارشاد فرمایا:’’بنی آدم کے دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ وہ انھیں جس طرح چاہتا ہے (ہدایت یا ضلالت کی طرف) پھیر دیتا ہے۔‘‘

غور کریں کس قدر عظیم حقیقت اور لطیف نکتہ ہے کہ ایمان کی سلامتی اور ہدایت پر استقامت کا انحصار اولیاء کی معیت، معاشرے کی سلامت روی اور عقل و زہد کی کثرت پر نہیں بلکہ ان کا دارومدار پروردگار عالم کے فضل و کرم پر ہے۔ وہ جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دے۔ جنت کے خازن کا نام ’’رضوان‘‘اور جہنم کے داروغہ کا نام "مالک" ہے۔ اس حقیقت سے اپنی طبیعت کو یکسو اور مزاج کو پختہ کر لیں کہ ہمارے دلوں کا محافظ و نگہبان کوئی فرشتہ نہیں بلکہ خود رحمٰن کی ذات ہے۔

عبادت کے کمال، عقل کے عروج اور علم کی گہرائی سے مستغنی ہو کر حق تعالیٰ کی چوکھٹ پہ عجز و ندامت کے ساتھ اپنا ماتھا ٹیک دیں۔ وہ عزت و جبروت کا مالک ہے جب چاہے کسی متصل کا رابطہ منقطع کر دے اور جب چاہے کسی بچھڑے ہوئے کو اپنا بنا لے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند