تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عراق میں ایران کا نیا علاقائی محاذ، امریکا کو کیا کرنا چاہیے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 22 صفر 1441هـ - 22 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 1 ذیعقدہ 1440هـ - 4 جولائی 2019م KSA 17:00 - GMT 14:00
عراق میں ایران کا نیا علاقائی محاذ، امریکا کو کیا کرنا چاہیے؟

ایران نے اپنی علاقائی جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے،اس پر امریکا کو ضرور کارروائی کرنی چاہیے۔ایران عراق میں امریکا کی کم زوریوں سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے ۔وہ اس ملک کو مملکت سعودی عرب کو ہدف بنانے کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے اور خطے میں امریکا کے مفادات کو بھی ڈرا دھمکا رہا ہے۔

امریکی حکومت کے عہدے دار تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سعودی عرب کی شرقاً غرباً پائپ لائن پر 14 مئی کو جنوبی عراق سے ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔اس سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ یہ ڈرون حملہ یمن سے کیا گیا تھا۔

عراقی حکومت جنوبی عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی تحلیل پر زور دے رہی ہے لیکن یہ اس کے باوجود منظم اور فعال ہیں۔ایران نے ان ملیشیاؤں کو بغیر پائیلٹ طیارے ( ڈرون) کے ہتھیار سے ایسے ہی لیس کیا ہے جس طرح اس نے یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں کو لیس کیا تھا۔

امریکی حکومت کے مطابق 14 مئی کا حملہ عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ نے کیا تھا ۔اس گروپ کو امریکا نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ اس کو ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس نے تشکیل دیا تھا ،تربیت دی تھی اور مسلح کیا تھا۔اس حملے کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی گماشتہ تنظیمیں اب امریکا کے ایک اہم اتحادی ملک سعودی عرب پر دو مختلف محاذوں سے حملہ آور ہیں۔

سپاہِ پاسداران انقلاب کے امریکا کے ایک اتحادی ملک عراق سے دوسرے اتحادی ملک سعودی عرب پر گماشتہ حملے بغداد میں امریکا کی ناکام حکمت ِ عملی کے بھی مظہر ہیں۔امریکا اور سعودی عرب کے دباؤ کے بعد عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے یکم جولائی کو ملک بھر میں سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس کی پروردہ ملیشیاؤں کے دفاتر کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے حکم کے باوجود عراقی حکومت ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو اپنی سرزمین سے ختم کرنے یا انھیں دیس نکالا دینے میں ناکام رہے گی۔وہ انھیں امریکا کے اتحادیوں پر حملوں سے روکنے میں بھی ناکام رہے گی۔

عراق کے سینیر سیاست دان ملیشیا کے لیڈروں اور بالخصوص سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو چیلنج کرنے کا حوصلہ نہیں کریں گے۔عراقی صدر برہم صالح ، وزیراعظم عادل عبدالمہدی ،نمایندگان کونسل ( قومی اسمبلی) کے اسپیکر محمد الحلبوسی ، سب اچھے لوگ ہیں لیکن وہ ایران کے تخریبی اثرورسوخ کی مخالفت کے لیے کوئی موثر گروپ نہیں ہیں۔

عراقی حکومت نے ایرانی اثرورسوخ کا راستہ روکنے کے بجائے ایران کی سینیر شخصیات کو اپنی سرزمین پر آزادانہ گھومنے پھرنے اور کام کی ا جازت دے رکھی ہے۔قاسم سلیمانی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی بار بار خلاف ورزی کے مرتکب ہو کر عراق جاتے رہے ہیں جبکہ امریکا کے محکمہ خزانہ نے 2007 میں دہشت گردی کی مدد وحمایت کے الزام میں ان پر پابندی عاید کردی تھی اور انھیں تخریبی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کا ذمے دار قرار دیا تھا۔قاسم سلیمانی یہ پیغام دےرہے ہیں: عراق میں ایران کی موجودگی طویل المیعاد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں امریکی اور سعودی تو گاہے گاہے ہی عراق جاتے ہیں۔

قاسم سلیمانی کے نائب جمال جعفر الابراہیمی المعروف ابو مہدی المہندس ایرانیوں کے ضرررساں اثر کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے نائب کمان دار کی حیثیت سے انھیں عراقی حکومت میں بھی سرکاری عہدہ حاصل ہے۔ یہی ابو مہدی المہندس کتائب حزب اللہ کے لیڈر ہیں اور اسی گروپ پر 14 مئی کے ڈرون حملے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

مہندس اور کتائب حزب اللہ ، دونوں ہی کو امریکا کے محکمہ خزانہ نے 2009ء میں تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ ان پر عراق میں اتحادی اور مقامی سکیورٹی فورسز کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کے مرتکب ہونے کا الزام تھا۔

مہندس عراق میں امریکا کی ناکامی کی ایک واضح مثال ہیں۔حکومت کے ایک رکن کی حیثیت سے انھیں امریکا کی انٹیلی جنس ، تربیت اور آلات تک رسائی حاصل ہے۔قومی خزانے سے تن خواہ وصول کرنے کی حیثیت سے انھیں اتحادی ملیشیاؤں میں فنڈ تقسیم کرنے اور ان کی نگرانی کا اختیار حاصل ہے۔

وہ اپنے اسی اثرورسوخ کو امریکی مفادات کی مخالفت میں استعمال کررہے ہیں۔انھوں نے اپنے اثرورسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے بغداد پر دباؤ ڈالا کہ وہ حالیہ ڈرون حملے سے انکار کردیں۔ وہ پہلے بھی امریکیوں کو ہلاک کرچکے ہیں اور ایک مرتبہ پھر انھیں قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ کتائب حزب اللہ کو ایرانی القدس فورس اور لبنانی حزب اللہ نے شام کے جنوبی علاقے سے امریکا کے ایک اہم اتحادی اسرائیل کی جانب جدید گائیڈڈ میزائل چلانے کی تربیت دی تھی۔

سپاہِ پاسداران انقلاب پہلے ہی امریکا کے مفادات کو براہ راست نشانہ بنانے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرچکی ہے۔20 جون کو آئی آر جی سی نے خلیج میں امریکا کا ایک ڈرون مار گرایا تھا۔امریکا کو اب اس خطرے سے نمٹنے کے لیے عملی اقدام کرنا چاہیے۔

امریکا کی بے عملی کے یہ اثرات مرتب ہوں گے کہ اس سے خود اس کی اپنی ساکھ متاثر ہوگی اور عراقی حکومت کی عدم صلاحیت کا بھی اظہار ہوگا کہ وہ ایران اور اس کی گماشتہ تنظیموں کو کچھ کہہ نہیں سکتی ہے۔

امریکا کے پاس ابو مہدی المہندس کو عراقی حکومت میں ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے بہت سے جواز موجود ہیں۔وہ دہشت گرد قرار پا چکے ہیں اور ایرانی سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کو جواب دہ ہیں جو خود ایک غیرملکی دہشت گرد تنظیم ( ایف ٹی او) ہے۔چناں چہ عراقی حکومت ایک طے شدہ دہشت گرد اور ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کو مادی معاونت مہیا کرنے والی ہے۔اس کے پیش نظر تو امریکا کو بغداد کی مالی اور فوجی امداد بند کر دینی چاہیے۔اس کا ایک اور مطلب یہ ہے کہ عراق کی حکومت اور اس کے جن معاشی شعبوں میں سپاہِ پاسداران انقلاب ایران نے دراندازی کررکھی ہے ،ان پر امریکا کی ثانوی پابندیاں عاید کی جانی چاہییں۔

عراق میں امریکا کی اس سے بڑی اور کوئی توہین نہیں ہوسکتی کہ اس نے جس شخص کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے اور جس نے امریکیوں کو قتل کیا اور انھیں ڈرا دھمکا رہا ہے ، وہی شخص امریکا کی خارجہ پالیسی کے عاملین کی وضع کردہ ناقص حکمت عملی سے فائدہ بھی اٹھا رہا ہے۔

وزیراعظم عادل عبدالمہدی کو یا تو اندھیرے میں رکھا جارہا ہے یا کمانڈر ان چیف ملیشیاؤں کے بارے میں کوئی اقدام کرنے سے قاصر ہیں، صورت حال خواہ کچھ ہی ہو، اس کے تمام نتائج بغداد اور امریکا کےلیے ضرررساں ہیں۔

اب ہم یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ آیا ابو مہدی المہندس اور ملیشیائیں وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے عراق بھر میں دفاتر کو بند کرنے کے حکم کی پاسداری کریں گی اور القدس فورس کے تحت ملیشیاؤں کتائب حزب اللہ ، حرکت نجبہ اور عصائب اہل الحق کو مکمل یونٹ کے طورپر عراقی فوج میں ضم کردیں گی۔اس کا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ قاسم سلیمانی کی ملیشیائیں عراقی فوج کی وردی پہن لیں گی۔

یہ ملیشیائیں تو ہمیشہ سے عراقی فوج کی کوئی بھی وردی پہننے کو تیار رہی ہیں کیونکہ اس طرح انھیں امریکا کے فنڈز ، آلات اور انٹیلی جنس تک رسائی حاصل ہوجائے گی ۔اس اقدام سے القدس فورس کی پروردہ ملیشیائیں عراقی سکیورٹی فورسز کا قانونی حصہ قرار پائیں گی ۔ اس سے انھیں پہلے سے کہیں زیادہ اثرورسوخ حاصل ہوجائے گا۔

وہ امریکاکے ایف 16 لڑاکا جیٹ کو اڑا سکیں گی ،وہ امریکا کے ایم1اے1 ابراہام ٹینکوں اور حال ہی میں عراق کے حوالے کیے گئے روسی ساختہ ٹی 80 ٹینکوں کو چلا سکیں گی۔وہ بدستور قاسم سلیمانی کو جواب دہ رہیں گی، ان کی کمان بدر کور کے ہادی العامری اور ان کے نائب مہدی المہندس ہی کے ہاتھ میں رہے گی۔یہ تو قاسم سلیمانی کی جیت ہے ۔وہ شاید اس تجربے سے متاثر ہوکر لبنان کی حزب اللہ ملیشیا کو لبنانی مسلح افواج میں ضم کرنے کی کوشش کریں جبکہ امریکا بالاصرار یہ کہتا رہے گا کہ وہ قاسم سلیمانی کو دیوار سے لگا رہا ہے۔

امریکا کو عراق میں اپنا لائحہ عمل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ملیشیاؤں کی مخالفت اور ابو مہدی المہندس کو کسی نہ کسی طریقے سے ہٹانےکی ضرورت ہے۔
_____________________

مائیکل پریجنٹ عراق میں امریکا کے سابق انٹیلی جنس افسر رہے ہیں۔اس وقت وہ ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں سینیر فیلو کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند