.

داعش:بائیڈن کے مُنہ سے ایرانی الفاظ کی جگالی

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن ایک جہاں دیدہ سیاست دان ہیں اور وہ وائٹ ہاؤس میں موجود بہت سے سینیر سیاست دانوں سے خارجہ تعلقات میں کہیں زیادہ تجربے کے حامل ہیں۔وہ ماضی میں امریکی کانگریس کی خارجہ تعلقات کمیٹی ،نیٹو مبصر گروپ اور واشنگٹن حکومت کے دوسرے اداروں کے رکن رہ چکے ہیں۔حتیٰ کہ وہ صدر براک اوباما سے بھی زیادہ جغرافیائی سیاست میں تجربے کے حامل ہیں۔

اس تناظر میں جوبائیڈن نے جب یہ بیان داغا کہ ترکی ،قطر ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کی مالی مدد کی تھی اور اس دہشت گرد گروپ کی پشتی بانی کرتے رہے ہیں تو اس پر ہرکسی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا،ہرکوئی غصے میں آیا ہے۔

یہ ایک غیر ذمے دارانہ بیان تو ہے ہی لیکن اس سے داعش سے نمٹنے کے لیے امریکا کی قیادت میں اتحاد کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔بائیڈن کے اس بیان کے ذریعے ذمے داری قبول کرنے سے احتراز کی بھی کوشش کی گئی ہے۔خلیجی ممالک ،فرانس اور برطانیہ نے ایک سال قبل خبردار کیا تھا کہ شام میں تنازعے کو دہشت گرد تنظیموں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے لیکن وائٹ ہاؤس مداخلت سے گریزپا رہا تھا۔اس نے ہرشکل میں مداخلت سے گریز کیا تھا اور شام کے باغی فوجیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحُر کو جدید ہتھیار مہیا کرنے سے گریز کیا تھا۔

اس سے جنگ نے طول پکڑا ہے اور شامی اور ایرانی حکومتوں نے تنازعے کے پُرامن حل کے لیے جنیوا اول کانفرنس کے اعلامیے کو مسترد کردیا جس میں بشارالاسد کے بغیر ایک عبوری حکومت کے قیام پر زوردیا گیا تھا۔امریکا کی جانب سے شام میں عدم مداخلت کے فیصلے کے نتیجے میں داعش ایسے انتہا پسند گروپوں کی شامی خانہ جنگی میں شرکت کی راہ ہموار ہوئی تھی۔خاص طور پر جب بشارالاسد کے تشدد آمیز جرائم بڑھ گئے اور انھوں نے اپنے ہی شہریوں کے خلاف بیرل بموں اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو داعش کو دراندازی کا موقع ملا جبکہ واشنگٹن کے منفی مؤقف سے اعتدال پسند شامی حزب اختلاف اور جیش الحر ایسے گروپ کمزور ہوئے اور اس سے دہشت گرد گروپوں کی میدان جنگ میں داخل ہونے کے لیے حوصلہ افزائی ہوئی تھی۔

براہ راست امداد نہیں

شاید ترکی پر یہ الزام عاید کیا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنی سرحدوں کو انتہا پسندوں کو کسی امتیاز کے بغیر بلا روک ٹوک آنے جانے کے لیے کھلا چھوڑ دیا ہے لیکن میں اس بات میں یقین نہیں رکھتا کہ ترکی براہ راست داعش کی حمایت کرتا رہا ہے۔تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دو ایسے ممالک ہیں جنھوں نے داعش سے لڑنے کے لیے اس وقت سب سے زیادہ کام کیا تھا جب جوبائیڈن اپنے نرم وگداز بستر پر خواب غلفت کی نیند سو رہے تھے۔اس طرح انھوں نے داعش کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع دیا اور خطے کی جانب سے ملنے والے تمام انتباہوں کو نظر انداز کردیا۔

مذکورہ ممالک پر محض اس بنا پر سنی انتہا پسند گروپ داعش کی حمایت کا الزام عاید کرنا کہ وہ بھی سنی ہیں تو یہ امر خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تاریخ سے عدم واقفیت کا آئینہ دار ہے۔داعش تو ماضی کی القاعدہ ہی کا نیا روپ ہے اور یہ دونوں تنظیمیں مشترکہ مقاصد رکھتی ہیں۔جب مشرق وسطیٰ میں تنازعات کو زیادہ آسان کرکے پیش کیا جاتا ہے تو بعض تجزیہ کار ان تنازعات کو فرقہ وارانہ یا نسلی قرار دے دیتے ہیں اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان سے لڑنے کے لیے یہی وجوہ کافی ہیں۔

اس طرح کی سادہ کاری غیرملکی تجزیہ کاروں کو گم راہ کرسکتی ہے۔جنگیں مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان لڑی جاتی ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر ایک فرقے کے لوگوں کے درمیان میں لڑی گئی ہیں اور سُنیوں کی سُنیوں سے ،شیعوں کی شیعوں سے ،عیسائیوں کی عیسائیوں سے اور کردوں کی کردوں سے لڑائیاں ہوتی رہی ہیں۔

جب القاعدہ طرز کی تنظیموں اور داعش ایسی اس کی شاخوں سے نمٹنے کی بات کی جاتی ہے تو صورت حال کوئی مختلف نہیں ہوتی ہے۔داعش سُنی انتہا پسندوں کی تنظیم ہے لیکن اس نے اہل تشیع یا یزیدیوں سے زیادہ سُنیوں ہی کو قتل کیا ہے۔مثال کے طور پر اس نے عراق کے سُنی قبیلے الشعيطات سے تعلق رکھنے والے پانچ سو افراد کو محض اس بنا پر قتل کردیا تھا کہ انھوں نے اس کے ساتھ تعاون سے انکار کردیا تھا۔

داعش نے ابتدائی طور پر سنی عرب حکومتوں کو نشانہ بنایا تھا جبکہ شیعہ ایران القاعدہ کے بعض لیڈروں کے لیے ایک محفوظ جنت بنا ہوا تھا۔خاص طور پر افغانستان اور پاکستان سے گذشتہ ڈیڑھ ایک عشرے کے دوران بھاگ کر آنے والوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن گیا تھا۔

غلط تفہیم

چنانچہ اگر تنازعات کو فرقہ وارانہ اور نسلی خانوں میں بانٹ دیا جائے تو اس سےلامحالہ صورت حال کی غلط تفہیم ہی ہوگی۔ ایران اور اسد رجیم سنی سیاسی تنظیموں اور انتہا پسند مسلح تنظیموں کے سب سے بڑے حامی ومؤید ہیں۔ان میں حماس ،اخوان المسلمون ،فتح الاسلام اور دوسرے گروپ شامل ہیں۔

جو بائیڈن کو دوسروں پر الزام عاید کرنے کے بجائے خود الزام قبول کرنا چاہیے۔وہ عراقی امور سے وابستہ رہے ہیں لیکن عراق کے سابق وزیراعظم نوری المالکی کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہے ہیں۔وہی نوری المالکی جو عراق کے مغربی صوبے الانبار میں داعش کے ظہور کے ذمے دار تھے۔

عراق کے ہزاروں سُنی نوجوانو ں نے اپنے خلاف حکومت معاندانہ اور نسلی تطہیر کی پالیسی کے ردعمل میں داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔بائیڈن اور باقی واشنگٹن کو بہت بعد میں جاکر نوری المالکی کے جھوٹ اور ان کی فوج کی کمزوریوں کا ادراک ہوا تھا۔

نوری المالکی ،بشارالاسد اور ایرانی حکومت پر کوئی الزام عاید کرنے کے بجائے جوبائیڈن ان ممالک کو مورد الزام ٹھہرا رہے جو دراصل خود بلا تعطل القاعدہ کے خلاف لڑرہے ہیں حالانکہ اس سہ فریقی اتحاد نے ہی پورے خطے میں طوائف الملوکی کو مہمیز دی اور انتہا پسندی کی لعنت کا احیاء کیا تھا۔

جو بائیڈن نے متعلقہ ممالک ترکی ،سعودی عرب ،قطر اور متحدہ عرب امارات سے براہ راست اپنی تشویش اور شُبے کے ازالے کے لیے رجوع کرنے کے بجائے ایران اور اسد رجیم کے بیانات ہی کا اعادہ کیا ہے اور انھی کے الفاظ کی جگالی کی ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.