.

داعش سعودی نوجوانوں کی بھرتی میں کیونکر کامیاب ہوئی؟

سمر فتانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ بدھ کو مسلم دنیا میں نئے ہجری سال کا آغاز داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے اور انتہا پسند جنگجو نظریے کے پھیلاؤ کے تناظر میں ہوا ہے۔اس انتہا پسندانہ جنگجو نظریے نے مسلم دنیا کے بہت سے حصوں میں امن وآشتی کو تہ وبالا کردیا ہے۔داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیمیں اسلام کی بدترین دشمن بنی رہیں گی، وہی جو بے گناہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کو قتل کررہی ہیں اور سفاکیت کا مظاہرہ کررہی ہیں۔

داعش کی دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی رپورٹس مغربی پریس میں نمایاں جگہ لی رہی ہیں اور ہمارے مقامی پریس میں بھی داعش کے ان نوجوان ریکروٹس سے متعلق خوف ناک کہانیاں اشاعت پذیر ہورہی ہیں جنھوں نے اپنے ہی خاندانوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔حال ہی میں ایک بیٹے نے اپنے باپ کو قتل کردیا ہے اور ایک خاندان کے دو نوجوانوں نے اپنے ہی سگے چچازاد کو سفاکانہ انداز میں قتل کردیا۔انھوں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کیونکہ مقتولین دہشت گردی سے متعلق ان کے نقطہ نظر کے حامی نہیں تھے۔

ان والدین کی بھی ایسی بہت سی کہانیاں شائع ہورہی ہیں جنھیں بہت تاخیر سے یہ پتا چلا تھا کہ ان کے بیٹوں کو تو عراق اور شام میں موجود دہشت گرد گروپ اپنی صفوں میں بھرتی کرچکے ہیں۔یہ اس بات کی شہادت ہے کہ دہشت گرد گروپ ہمارے نوجوانوں کو ہدف بنانے کے لیے پُرعزم ہیں اور انھیں اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ وہ بہت فعال ہیں لیکن ہمارے بہت سے ائمہ اور والدین اس خطرے کا ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس دوران میں منحرف نظریے کے مقابلے کے لیے قومی مہم بھی فعال اور مؤثر ثابت نہیں ہوئی ہے۔اس مرحلے پر یہ بہت ضروری ہے کہ ترقی پسند اصلاح کاروں کا مضبوط اور متحدہ محاذ تشکیل دیا جائے اور اس کو انتہا پسندوں سے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے فعال بنایا جائے کیونکہ انتہا پسند ہماری سلامتی اور سماجی استحکام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔عوام کو خبردار کیا جانا چاہیے اور انھیں انتہاپسندانہ خیالات کے حامل ائمہ کی راہ روکنی چاہیے کیونکہ وہی زہریلی ذہنیت کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ہمارے درمیان موجود انتہا پسندوں اور داعش کے ہمدردوں کا ان لوگوں کو مقابلہ کرنا چاہیے جو حب الوطنی اور بہتر شہریت کے مضبوط احساس کے حامل ہیں۔

گم راہ کن نظریے

نوجوانوں کی نشوونما اور ان کی رہ نمائی معاشرے کے تمام ارکان کی قومی اور مذہبی ذمے داری ہے۔اصلاح پسندوں اور سخت گیروں کی ناکامی کی وجہ سے بہت سے نوجوان گم راہ ہوچکے ہیں اور انھوں نے اپنے ملک کی اقدار اور روایات سے متعلق انتہائی منفی طرزعمل اپنا لیا ہے۔ ثقافتی ،اقتصادی اور سیاسی زندگی میں شرکت کے محدود مواقع نے بھی خطرناک صورت حال پیدا کردی ہے اور اس کی وجہ سے بہتر مستقبل سے مایوس نوجوانوں کے متشدد کردار کے حامل بننے کے خطرات موجود ہیں۔اس صورت حال سے سماجی افراتفری اور سیاسی بدامنی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

انتہا پسندی سے نمٹنے اور معاشرے میں اعتدال پسندی اور رواداری کے فروغ کے لیے ایک ملک گیر مہم شروع کی جانی چاہیے اور اس میں تمام سرکاری ایجنسیوں اور شہری اداروں کو شریک کیا جانا چاہیے۔کمیونٹی لیڈروں کو ان سماجی برائیوں کے خلاف بولنا چاہیے،جن کے نتیجے میں انتہا پسندی کو فروغ مل رہا ہے اور ایک مخالفانہ ماحول پیدا ہوا ہے۔

تحکم پسندی پر مبنی موجودہ روایتی پالیسی سے ان لچک دار پروگراموں پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا ہے جن کے نتیجے میں تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔تحکمانہ حاکمیت سے منفی اور غیر ترقی پسند رویّوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے اور یوں بہت سے افراد اظہار رائے کی آزادی سے محروم ہوجاتے ہیں اور وہ انتہاپسندانہ نقطہ نظر کو بھی مسترد کرنے کی صلاحیت کے حامل نہیں ہو سکتے ہیں۔

انتہا پسندی سے نمٹنے کا عزم

بہت سے لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ داخلی اصلاحات کی فوری ضرورت نہیں ہے اوران کا یہ سماجی رویّہ بھی معاشرے کو مزید خوش حال بنانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔بہت سے لوگ اس بات کے بھی قائل نظر آتے ہیں کہ ہمیں معاشرے میں جدّت پسند اور ترقی پسند رویّوں کو اختیار کرنے کی آہستہ روی سے اجازت دینی چاہیے۔

مگر اس پالیسی سے مزید رکاوٹیں ہی حائل ہوں گی اور مسلسل تاخیر سے ہمیں درپیش چیلنجز اور پیچیدہ ہوجائیں گے اور ہم تیز رفتار عالمی ترقی کا مقابلہ کرنے میں پیچھے رہ جائیں گے۔

مرکزی نظام کے پرانے مکتب فکر کو بہتر بنایا جانا چاہیے اورایسا انتظام کیا جانا چاہیے کہ ایسے تعلیم یافتہ اوراہل نوجوان مردوں اور خواتین کو امورِ مملکت میں شریک کیا جائے جو کسی تاخیر کے بغیر کام کرسکتے ہیں۔بہت سے سرکاری اداروں کی امتیازات اور مراعات کے فقدان کی وجہ سے ناقص کارکردگی ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم دنیا میں ہونے والی ترقی کے ساتھ چلیں،ایک فعال سول سوسائٹی کی زیادہ حمایت کریں،اس سے سرکاری پالیسیوں کو مہمیز مل سکتی ہے۔اصلاحات پر عمل درآمد کیا جائے اور شہریت کے لیے ایسی مہارتوں کو فروغ دیا جائے جو ایک روادار اور ترقی پسند ماحول کے لیے ناگزیر ہیں۔

آئیے اس نئے سال کو انتہا پسندوں سے نمٹنے کے عزم کی تجدید کے ساتھ منائیں جو ہمارے معاشرے اور سماجی استحکام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔آئیے ہم اپنی کامیابیوں کی عکاسی اور اپنے نوجوانوں کے لیے جدت پسندی پر مبنی اصلاحات کریں تاکہ جدید دور کے چیلنجز سے نمٹا جاسکے۔

-----------------------------------------
(ثمر فتانی جدہ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کے شعبہ انگریزی میں چیف براڈ کاسٹر کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔وہ نشریاتی صحافت سے گذشتہ اٹھائیس سالہ سے وابستہ ہیں اور سعودی سیاست ومعاشرت سے متعلق موضوعات پر ان کے قلم سے تحریریں نکلتی رہتی ہیں۔ان کے خیالات سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.