.

اگر حزبِ اختلاف التباس ہے تو شامی فوج افسانہ !

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی عرب فوج کے بارے میں بیانات ایک مرتبہ پھر منظرعام پرآرہے ہیں اور شام میں اسدی فوج کی حزب اختلاف کے خلاف حالیہ لڑائیوں سے متعلق روسی اور شامی رپورٹس منظرعام پر آئی ہیں۔درحقیقت ان رپورٹس میں جس مسلح گروپ کا حوالہ دیا گیا ہے،وہ غیرملکی جنگجوؤں (فورسز) کا ملغوبہ ہے اور وہ شام میں شامی رجیم کی جانب سے زیادہ تر لڑائیاں لڑرہا ہے۔

ان غیرملکی جماعتوں میں لبنان کی حزب اللہ کے ارکان ،عراقی راست بازوں کی لیگ اور ایران کی القدس بریگیڈ شامل ہیں۔ان میں افغانستان کی شیعہ فاطمید ملیشیا کے ارکان بھی شامل ہیں جنھیں ایرانی رجیم نے بھرتی کرکے تربیت دی ہے اور انھیں شام اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے دوسرے علاقوں میں ایرانی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ان ہی گروپوں پر شامی عرب فوج مشتمل ہے۔شامی حکام نے اپنے حالیہ بیانات میں اسی فوج کا حوالہ دیا ہے۔روسی اسی کی حمایت میں شام میں مداخلت کا دعویٰ کررہے ہیں۔

شامی عرب فوج کہاں ہے؟

روسی وزیرخارجہ نے ایک مرتبہ شامی جیش الحر (شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل فوج) کا مضحکہ اڑایا تھا۔انھوں نے اس کی موجودگی کے بارے میں اپنے شک کا اظہار کیا تھا اور بشارالاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ جو کوئی بھی حزب اختلاف سے تعلق رکھتا ہے،وہ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) اور القاعدہ سے وابستہ ہے۔دو روز قبل سعودی عرب میں متعیّن روسی سفیر نے شامی حزبِ اختلاف کو کمزور اور قابل تغیّر قرار دیا تھا۔سعودیوں نے اس کا بڑے اعتماد کے ساتھ ماسکو کو یہ جواب دیا تھا کہ وہ جس شامی عرب فوج کی حمایت کا دعویٰ کررہے ہیں،وہ برسرزمین کہاں ہے؟

کوئی ڈیڑھ سال ہونے کو آیا ہے۔عسکری ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اس فوج کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔اس کی ایک بڑی تعداد شام میں انقلاب کے آغاز کے بعد یا تو منحرف ہوکر باغیوں سے جاملی تھی یا پھر جنگ کے دوران ہلاک ہوچکی ہے۔

مزید برآں فوج میں اب تک خدمات انجام دینے والے بہت سے افسروں کا دائرہ کار محدود کردیا گیا ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر سُنی ہیں،ان کی شامی حکومت سے وفاداری مشکوک ہے اور انھیں ایندھن ، اسلحہ اور گولہ بارود کم مقدار میں دیا جارہا ہے کیونکہ اسد رجیم کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ وہ منحرف ہو کر اپوزیشن کیمپ میں شامل ہوسکتے ہیں۔

شامی عرب فوج میں اب کون کون شامل ہے؟

شامی رجیم نے عراق کے طرز پر دفاع کے لیے عوامی فورسز کو متحرک کرکے خلا پُر کرنے کی کوشش کی ہے مگر اس سے کوئی مفید نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں کیونکہ ان میں شامل زیادہ تر نوجوان جنگجو تربیت یافتہ نہیں ہیں اور وہ اقلیتوں مثلاً بشارالاسد کے علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں سے بیشتر نے فوجی خدمات سے راہ افرار اختیار کو ترجیح دی ہے اور ان میں سے بہت سے شام سے بھاگ کر دوسرے ممالک کو جاچکے ہیں۔

آج کی شامی عرب فوج یا اسدی فوج زیادہ تر ان فورسز پر مشتمل ہے جن کو ایران کی سپاہ پاسداران کے ایک کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے مجتمع کیا ہے اور وہی ان کو کنٹرول کررہے ہیں۔ان کے بہ قول ایک لاکھ جنگجوؤں کو اسد رجیم کے دفاع کے لیے شام لایا گیا تھا۔

اپوزیشن شامی جیش الحُر مختلف جماعتوں اور دھڑوں پر مشتمل ہے۔ان میں زیادہ تر اعتدال پسند اور محبِّ وطن ہیں۔ ان میں بعض مذہبی انتہا پسند جماعتیں بھی شامل ہیں مگر ان میں داعش یا النصرۃ محاذ کی طرح غیرملکی جنگجو شامل نہیں ہیں۔

جیش الحُر کا جنم شامی حزب اختلاف کے منصوبے کے حصے کے طور پر ہوا تھا۔اس کو شامی قومی اتحاد کی کونسل کی چھتری تلے معرض وجود میں لایا گیا تھا اور اس میں شام کے تمام مذہبی اور نسلی عناصر شامل تھے۔سنی ،کرد اور عیسائی اس کے سربراہان رہ چکے ہیں۔اس کے قائدین میں علوی ،دروز ،ترکمن اور دوسرے مذہبی گروپوں سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں۔

تاہم روسی اور ایرانی جس بشارالاسد کا دفاع کررہے ہیں،وہ کسی کی بھی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔حتیٰ کہ اپنے علوی فرقے کی بھی نہیں کیونکہ انھوں نے اپنے ہی بیٹوں کا قتلِ عام کیا ہے اور اس فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تباہ کن گذشتہ چار سال کے دوران زبردستی جنگ میں گھسیٹا ہے۔

دمشق میں درحقیقت شامی ٹریفک پولیس موجود ہے مگر شامی فوج نام کی کوئی چیز نہیں ہے جس کا روسی حوالہ دے رہے ہیں۔حتیٰ کہ ان کے ایرانی اتحادی ''شامی فوج'' کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ وہ خود کو ہی شام کی مسلح افواج قرار دیتے ہیں۔

جب مختلف فریق؛خلیجی ،ترک ،روسی ،امریکی اور یورپی حکومتیں شامی فوج اور سکیورٹی فورسز کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو وہ دراصل ریاست کے سرکاری اداروں کے علامتی تصورات کی بات کررہے ہوتے ہیں۔شامی فوج میں اس وقت چند سو افسر اور جرنیل اور چند ہزار فوجی رہ گئے ہیں جبکہ ایک وقت تھا کہ شامی فوجیوں کی تعداد ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

شامی سکیورٹی ڈھانچے کی تباہی

گذشتہ چار سالہ جنگ کے دوران شامی فوج ہی کا صفایا نہیں ہوا ہے بلکہ سکیورٹی فورسز اور سراغرساں اداروں کا ڈھانچا بھی تباہ ہوچکا ہے حالانکہ ایک وقت تھا کہ شامی فوج اور سراغرساں اداروں کو دنیا کے مضبوط ترین اداروں میں شمار کیا جاتا تھا۔اس لیے روسیوں اور ایرانیوں کو شام میں رونما ہونے والے واقعات کی جھوٹی تصویر پیش کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ان متعدد فریقوں کے شام میں برسرجنگ ہونے کی وجہ سے سچ زیادہ دیر تک سربستہ راز نہیں رہتا ہے۔اس وقت شام میں نہ تو کوئی ریاست ہے،کوئی نظام ہے،کوئی قانونی صدر ہے،سکیورٹی فورسز ہیں اور نہ کوئی فوج ہے۔

ہم اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ شام میں روس کی فوجی مداخلت سے روسی نہیں بلکہ ایرانی سب سے بڑے فاتح بن کر ابھرے ہیں کیونکہ روس کے لڑاکا طیارے داعش کے دہشت گردوں کو نہیں بلکہ شامی حزبِ اختلاف کی فورسز کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

روسی شامی قومی حزب اختلاف کی بیخ کنی کرکے ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ترکی اور خلیجی ممالک سمیت دنیا کو دمشق میں اسد رجیم کی حمایت پر مجبور کیا جاسکے اور داعش اور دوسرے دہشت گرد گروپوں میں موجود غیرملکی جنگجوؤں سے جنگ لڑی جاسکے۔نتیجۃً اس سب کا فائدہ ایران ہی کو ہوگا اور اس کے مفاد ہی کا تحفظ ہوگا کیونکہ وہ اس وقت تک عراق ،شام اور لبنان میں اپنا تسلط جما چکا ہوگا اور اس کے خلیج کے خطے پر خطرناک اثرات ہوں گے۔

----------------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.