.

عرب اسرائیلی شہری ہیں، تختۂ مشق نہیں!

یوسی میکل برگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی سیاست دان سے یہ توقع رکھنا عبث ہوگا کہ وہ سیاسی پوائنٹس اسکور کرنے سے باز رہے گا۔سیاست دان معمولی معمولی باتوں میں بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہتے ہیں۔جب معاملہ عرب ،اسرائیلی فلسطینی شہریوں کا ہو تو وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو عرب اقلیت کو دیوار سے لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے کیوں جانے دیں گے؟

حال ہی میں انھیں ایک عرب اسرائیلی شخص نشاط ملحم نے یہ موقع فراہم کیا ہے۔ملحم نے ایک حملے میں تین اسرائیلیوں کی جان لے لی تھی۔اس نے دو افراد کو تل ابیب میں ایک بار میں قتل کیا اور بھاگتے ہوئے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو بھی ہلاک کردیا۔وہ ابھی تک مفرور ہے۔اس واقعے کے موقع پر وقت کی ضرورت قومی اتحاد کا پیغام دینا تھا۔اس کے بجائے نیتن یاہو نے ایسا زہر آلود پیغام دیا کہ جس سے فاصلے بڑھیں اور خلیج پیدا ہو۔انھوں نے اپنی تقریر میں اسرائیل کی آبادی کے پانچویں حصے کی جانب انگلی اٹھائی۔یہ اور بات ہے کہ ان کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ عرب ہیں۔

نیتن یاہو نے اپنے پیغام کو موثر بنانے کے لیے تل ابیب میں حملے والی جگہ کا انتخاب کیا اور عرب اسرائیلیوں کی وفاداری پر اپنے شک کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اپنے روایتی بھاشن دینے کے انداز میں کہا کہ ''جو کوئی بھی اسرائیلی بننا چاہتا ہے تواس کو اول وآخر سرتاپا اسرائیلی بننا ہوگا''۔یہ الفاظ دنیا میں کسی بھی شہری کے بارے میں کہیں بھی کہے جاسکتے ہیں۔تاہم ابھی یہ آغاز ہے۔ان کی تقریر اس وقت مزید زہرناک بن گئی جب انھوں نے کہا کہ اسرائیل میں عربوں نے ریاست کے اندر اپنی ریاست بنا رکھی ہے۔یہ غیر قانونی ہے اور اسلام پسندوں کے پروپیگنڈے ،ہتھیاروں اور جرائم پیشہ عناصر سے آلودہ ہے۔

قریباً اٹھارہ لاکھ افراد کے بارے میں یہ بات بے تکی ہی نہیں ،نادرست، غیرمنطقی اور ظالمانہ بھی ہے۔کیا وہ ان کے بھی وزیراعظم نہیں ہیں۔اگر اس طرح کے سنجیدہ معاملات ہیں تو پھر کیا یہ ان کی ذمے داری نہیں بنتی ہے کہ وہ ان عرب اسرائیلیوں کی اکثریت کا تحفظ کریں جو مجرمانہ یا انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوّث نہیں ہیں۔بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ اپنے حامیوں کی مزید حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی ناکام وزارتِ عظمیٰ کی پردہ پوشی چاہتے ہیں۔

ذمے داری قبول کریں

مسٹر نیتن یاہو اس حقیقت سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتے ہیں کہ اگر انھوں نے اسرائیل کی عرب کمیونٹی کے بارے میں جو کچھ کہا ہے،وہ درست تھا تو انھیں اس کی کم سے کم تھوڑی بہت ذمے داری ضرور قبول کرنی چاہیے۔وہ دس سال تک اسرائیل کے وزیراعظم رہے ہیں اور 2009ء سے مسلسل وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز چلے آرہے ہیں۔

ان پر اب ہی کیوں یہ بات منکشف ہوئی ہے اور وہ ایک عرب اسرائیل کے جرم کی بنا پر تمام آبادی کے خلاف اس طرح کے بیانات جاری کررہے ہیں حالانکہ ابھی تک تو وجہ بھی معلوم نہیں ہوسکی ہے کہ اس عرب نے اسرائیلیوں کو کیوں ہلاک کیا تھا جبکہ بیشتر عرب باشندوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور پھر ملزم کے حملے کا نشانہ بننے والوں میں تو ایک عرب بھی تھا۔
میں نیتن یاہو یا ان کی حکومت کے کسی اور رکن سے یہ مطالبہ نہیں کرسکتا کہ وہ کسی ایک فرد یا ایک چھوٹے گروپ کی جانب سے پورے خاندان کو زندہ جلانے کے جرم کی پاداش میں دریائے اردن کے مغربی کنارے میں آباد تمام پانچ لاکھ غیر قانونی آبادکاروں کے خلاف مقدمہ چلائیں۔

اتفاقاً یہ واقعہ عین اسی ہفتے رونما ہوا تھا جب اسرائیلی حکومت نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اسرائیل میں عرب آبادیوں کو درپیش بہت سے ایشوز انھیں عشروں سے نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے ہیں۔اسرائیلی حکومتوں اور معاشرے کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے ان میں جرائم اور راسخ العقیدہ بننے کی شرح زیادہ ہے۔نیتن یاہو کی عرب اسرائیلیوں کے خلاف تندوتیز تقریر اور انھیں دیوار سے لگانے کے لیے بھاشن سے تین روز قبل ہی ان کی حکومت نے عرب آبادیوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے پندرہ ارب شکلز (3.86 ارب ڈالرز) کی منظوری دی تھی۔یہ رقم بجٹ میں ان کے لیے مختص کردہ رقم کے علاوہ ہے۔

یہود کی آبادیوں اور عربوں کی آبادیوں کے درمیان ترقی کے فرق کو دور کرنے کے لیے مکانات کی تعمیر ،ٹرانسپورٹیشن ،صنعت ،تعلیم اور صحت عامہ کے شعبوں میں مزید رقوم صرف کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نیتن یاہو ،وزیرخزانہ موشے کہلان ،وزیر برائے سماجی مساوات گیلا گملیل ایک طویل عرصے سے واجب اس منصوبے پر پیش رفت پر کریڈٹ کے حق دار ہیں۔اس طرح انھوں نے یہ بات بھی تسلیم کی ہے کہ اسرائیل میں آباد عربوں کو درپیش بہت سے مسائل انھیں مسلسل نظرانداز کیے جانے کا نتیجہ ہیں۔انھوں نے حکومتی حلقوں کی جانب سے مخالفت کے باوجود اس منصوبے کو آگے بڑھایا ہے۔

یہ دراصل دو نیتن یاہووں کی کہانی تھی جو چند روز ہی میں عوام کے سامنے آئے ہیں۔پہلے نیتن یاہو کو اس بات کا پتا ہے کہ ملک کی بہتری کے لیے کیا درکار ہے۔انھوں نے ملک کے سب سے بڑے سیاسی عہدے پر برسوں سے براجمان ہونے کے بعد یہ سب کچھ سیکھا ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ نیتن یاہو کا تاریک پہلو وہی ہے جو عوام میں مقبولیت کے خواہاں ایک سیاست دان کا ہوتا ہے اور ان کے اس تاریک پہلو کی آئے دن چہرہ نمائی ہوتی رہتی ہے۔وہ کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں خواہ یہ الم ناک ہی کیوں نہ ہو۔وہ اسرائیل کے یہودی ووٹروں کے ایک حلقے کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اعداد وشمار اس دعوے کی تائید کرتے ہیں کہ اسرائیل کی عرب آبادی میں یہود کے مقابلے میں جرائم کی شرح بلند ہے۔تاہم نسل پرستانہ نقطہ نظر سے اس کے پرچار سے حقیقت مسخ ہو کررہ جاتی ہے۔ایک زیادہ تجرباتی اپروچ یہ ہوگی کہ جرائم اور سیاسی مذہبی بنیاد پر انتہا پسندی کی جانب رجحان دراصل برسوں سے نظرانداز کیے جانے،امتیازی سلوک اور ادارہ جاتی نسل پرستی سے جڑے ہوئے ہیں۔

تل ابیب کے بار میں ہلاکتوں جیسے واقعے کی شدید مذمت کی جانی چاہیے مگر اس کے اسباب کو نظرانداز کرنا ایک بدترین مجرمانہ چشم پوشی ہوگا۔اسرائیل کے فلسطینی شہریوں سے ناانصافی اور عدم مساوات پر مبنی سلوک ایک طے شدہ حقیقت ہے ،اس کے نتیجے میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے،معیار زندگی بہت پست ہے اور لوگوں کی اوسط عمر بھی کم ہوچکی ہے۔

عرب کمیونٹی کے اپنے اندر سے بھی بعض تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔سخت گیر عناصر موجود ہیں اور ان کا تعلق اسرائیل اور فسلطینیوں کے درمیان تنازعے کے پُرامن حل کے لیے عزم کی کمی سے ہے۔اس معاملے میں خطے میں رونما ہونے والی سیاسی ،سماجی اور نظریاتی تبدیلیوں کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔اسرائیل میں آباد فلسطینیوں کے عدم اطمینان کو یہودی اسٹیبلشمنٹ اور سوسائٹی کی حکمت عملی میں تبدیلی سے دور کیا جاسکتا ہے۔

عرب اسرائیلیوں کو برابر کا شہری تسلم کیا جانا چاہیے۔ان کی فلاح وبہبود کے لیے برابری کی بنیاد پر اقدامات کیے جانے چاہییں اور ان کے تحفظات اور احساسات کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔اس سے پورے ملک ہی کو فائدہ ہوگا۔نیتن یاہو کی خونریزی کے کسی واقعے پر مقبول عام موقع پرستی سے تقسیم پیدا ہوگی اور نفرت کے بیج بوئے جائیں گے،اس لیے اس رویے کی مذمت کی جانی چاہیے۔

----------------------
یوسی میکل برگ ، برطانیہ کے شاہی ادارہ برائے بین الاقوامی تعلقات چیتم ہاؤس میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا پروگرام کے ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔وہ ٹریک ٹو مذاکرات سمیت تنازعات کے مختلف حل کے لیے مشاورتی منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔وہ ریجنٹ یونیورسٹی لندن کے بین الاقوامی تعلقات اور سماجی علوم پروگرام کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔وہ اس جامعہ میں 1996ء سے پڑھا رہے ہیں۔اس سے پہلے وہ کنگز کالج لندن اور تل ابیب یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے تھے۔ان سے ٹویٹر پر اس پتے پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:
Twitter @YMekelberg

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.