.

کیا ایران پر بھروسا کیا جاسکتا ہے؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ بالعموم جو کچھ کہتے ہیں،وہ زیادہ تر اہمیت کا حامل نہیں ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ تو انھوں نے سر میں کیل ٹھونک دی ہے۔انھوں نے ایران میں دس امریکی میرینز کی گرفتاری پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جہاز روسی ہوتے تو کیا ایران یہی کچھ کرتا؟

یہ واضح ہے کہ ایرانی حکام نے جان بوجھ کر امریکی فوجیوں کو گرفتار کیا،ان کی تحقیر کی اور پھر انھیں رہا کردیا تھا۔تہران کو اس بات کا اعتماد تھا کہ اس مہم جوئی کے مضمرات اس کے حق ہی میں ہوں گے۔یہ ایک معمول ہے کہ بحری جہاز غلطی سے بین الاقوامی پانیوں سے دوسرے ممالک کی بحری حدود میں داخل ہوجاتے ہیں تو پھر ان کی رہ نمائی کی جاتی ہے اور انھیں واپس کردیا جاتا ہے۔

ایران نے جہازوں پر سوار اہلکاروں کو گرفتار کرنے پر ہی بس نہیں کی بلکہ دس فوجیوں کے خود کو حکام کے حوالے کرنے اور ہاتھ بلند کرنے کی تصاویر ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسیوں سے جاری کی گئی تھیں۔ان امریکی فوجیوں سے دوران حراست ایران کے سرکاری میڈیا نے تفتیش کی تھی اور ان پر زور دیا تھا کہ وہ اس بات کا اعتراف کریں کہ وہ ایرانی پانیوں میں غلطی سے داخل ہوئے تھے اور وہ اس اقدام پر معاف مانگتے ہیں۔یہ سب کچھ دراصل ان کی تحقیر کے لیے کیا گیا تھا۔

یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ایرانی قیادت نے اس واقعے سے کچھ نہیں سیکھا تھا اور پھر کہیں ان کی رہائی کے لیے مداخلت کی تھی۔تین ہفتے قبل امریکا کے طیارہ بردار جہاز کے نزدیک ایران کی جانب سے میزائل چلائے جانے کی صدائے بازگشت ابھی تک کانگریس اور امریکی میڈیا میں سنی جارہی ہے۔

یہ بھی ایک معمول ہے کہ ایرانی بحریہ کے فیصلوں سے اعلیٰ سطح پر سیاسی کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔جیسے جہازوں کو پکڑنے اور امریکی اہل کاروں کے اغوا کا واقعہ رونما ہوا ہے،اس سے خلیجی پانیوں میں کشیدگی کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔یہ بہت اہم ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران ہم ایران کے اقدامات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان میں تبدیلی کا کوئی اشارہ نظر نہیں آتا ہے۔یہ سب کچھ ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کے خاتمے سے چند روز قبل ہوا تھا۔جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے بعد ایران کے قریباً پچاس ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے غیر منجمد کرنے اس کو لوٹائے جارہے ہیں۔

ایران نے حال ہی میں ایک میزائل کا تجربہ کرکے بھی دنیا کو حیران و پریشان کردیا تھا۔یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اقوام متحدہ نے اس کے تجربے کو جوہری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

تہران میں سعودی سفارت خانے کو نذرآتش کیا جانا اور مشہد میں سعودی قونصل خانے پر حملہ عالمی برادری کی نظروں میں ایک اور سنگین واقعہ تھا۔امریکی سیلروں کی گرفتاری اور تین ہفتے قبل میزائل تجربے کے بعد سامنے آنے والا پورا منظرنامہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی رجیم نے خود کو کوئی زیادہ تبدیل نہیں کیا ہے۔یہ اور بات ہے کہ جب صدر حسن روحانی اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ دنیا سے معاملے کے لیے تیار ہیں تو وہ بظاہر دیانت دار نظر آتے ہیں۔

ایرانی رجیم دنیا کے دوسرے زیادہ ترملکوں کی طرح کا نہیں ہے۔جمہوریہ کے صدر درحقیقت حکمرانی نہیں کررہے ہیں۔یہ بھی ضروری نہیں کی کہ وزیرخارجہ بھی خارجہ پالیسی پر مؤقف کے حقیقی عکاس ہوں۔سپریم لیڈر خواہ غلط ہی کیوں نہ ہوں ،انھیں ہی سب سے اکمل مانا جاتا ہے۔عالمی سطح پر کہیں بھی اور کسی بھی جگہ اور اس طرح کی مثال نہیں دی جاسکتی ہے۔شاید جاپان کے شہنشاہ کو بھی دوسری عالمی جنگ میں شکست اور اقتدار سے دستبردار ہونے سے قبل اس طرح کے اختیارات حاصل نہیں تھے۔

ایرانی صدر کا فوج اور بااثر پاسداران انقلاب پر کوئی اختیار نہیں ہے۔فوج کا سیاسی کردار ہے اور وہ سپریم لیڈر سے احکامات لیتی ہے،صدر یا حکومت سے نہیں۔چنانچہ وہ حکومت کے نمائندوں کی جانب سے کیے گئے کسی بھی سمجھوتے کو مسترد کردیتے ہیں، خواہ ان پر دستخط بھی ہوچکے ہیں۔سپریم لیڈر کے مطلق العنان اختیارات سے ماضی کے تمام ایرانی صدور کے لیے بہت سے مسائل اور مشکلات پیدا ہوچکی ہیں۔

ایران میں انقلاب کے بعد اقتدار سنبھالنے والے پہلے وزیراعظم مہدی بزرگان نے 1979ء میں امریکی سفارت خانے کے یرغمالیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ آیت اللہ خمینی کے امریکی یرغمالیوں کے بارے میں فیصلے کی وجہ سے مستعفی ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔انقلاب کے بعد ایران کے پہلے صدر حسنی بنی صدر کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا تھا اور وہ آیت اللہ خمینی کے غیظ وغضب کا نشانہ بننے کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ہاشمی رفسنجانی اگرچہ 1997ء تک ایران کے صدر رہے تھے اور وہ سپریم لیڈر خمینی کے بھی قریب سمجھے جاتے تھے لیکن وہ سعودی عرب اور دوسرے ممالک کے ساتھ طے پائے سمجھوتوں پر عمل درآمد میں ناکام رہے تھے۔

شاید صدر محمد خاتمی کو سب سے زیادہ سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔وہ عوامی ووٹوں سے ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔انھوں نے دنیا کے ساتھ روابط بڑھانے کے لیے ایک پروگرام کا اعلان کیا تھا لیکن سپریم لیڈر نے انھیں ان کے وعدوں اور ذمے داریوں کو پورا کرنے سے روک دیا تھا جس سے وہ اپنے ہی لوگوں اور حکومت کے درمیان ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہوگئے تھے۔سپریم لیڈر نے انھیں اور ان کے آدمیوں کو پاسداران انقلاب اور بسیج ملیشیا کی بالادستی سے بچانے میں بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا۔صدر کے قریب سمجھے جانے والے اخبارات اور تنظیموں کو بند کردیا گیا تھا۔

صدر محمود احمدی نژاد کو اگرچہ سپریم لیڈر کا ترجیحی صدر سمجھا جاتا تھا مگر انھیں نے بھی سپریم لیڈر کے دفتر کے ساتھ اقتدار کے آخری دو برسوں کے درمیان بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اب ہم نے تہران میں مظاہرین کے سعودی سفارت خانے پر حملے اور اس کے ردعمل میں ایرانی صدر کے مذمتی بیان کو ملاحظہ کیا ہے۔انھوں نے سفارت خانے کو آگ لگانے والوں کو مجرم قرار دیا ہے۔اس سے تہران کی صورت حال کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

ہمیں یہ بات نوٹ کرنی چاہیے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے نزدیک میزائل کا چھوڑا جانا ،دو بحری جہازوں کو پکڑنا اور امریکی سیلروں کی گرفتاری سے سپریم لیڈر کے زیر نگرانی اقتدار کے لیے کشمکش اور رسہ کشی کی عکاسی ہوتی ہے۔

ان پیش رفتوں سے سب سے اہم یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایرانی حکومت کے قول اور اس نے جن سمجھوتوں پر دستخط کیے ہیں،ان پر اعتماد کرسکتے ہیں۔اگر سپریم لیڈر خود کو زمین پر اللہ کا نمائندہ سمجھتے ہیں تو پھر ہمیں ان کے الفاظ اور وعدوں پر بھروسا کرنا چاہیے۔اس طرح پھر ایران کے باقی سیاسی حلقے محض افسر شاہی بن کر رہ جاتے ہیں۔

ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ صرف ایک شخص نے ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سالہ جنگ کا خاتمہ کیا تھا اور وہ آیت اللہ خمینی تھے،حرف آخر کہنے کا اختیار ان ہی کے پاس تھا۔انھوں نے قُم شہر سے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی سے متفق ہیں،اگرچہ وہ اس پر کوئی خوش نہیں تھے مگر ان کے الفاظ سے جنگ کا خاتمہ ہوگیا تھا حالانکہ عالمی ثالث کار اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پانچ سال تک کوششیں کرتے اور قراردادوں پر کام کرتے رہے تھے۔

--------------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.