.

فلسطینی اتھارٹی کے دن گِنے جا چکے ؟

یوسی میکل برگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے درمیان تعلقات مسلسل تضادات کا شکار ہیں۔اسرائیلی حکومت فلسطینی اتھارٹی اور اس کے صدر محمود عباس کو اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیزی اور جنگ پسندی میں عدم فعالیت اور کمزوری پر تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے مگر اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے ممکنہ دھڑن تختے پر بھی تشویش میں مبتلا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سفارتی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو نقل کی ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''ہمیں ہر ممکن طور پر فلسطینی اتھارٹی کے انہدام کو روکنا ہوگا،لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو پھر ہمیں اس کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا''۔انھوں نے ملک کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور وزیردفاع موشے یعلون کے خیالات کی ترجمان کی ہے۔

لیکن ان کی کابینہ کے سینیر ارکان اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے بغیر بدترین صورت حال سے دوچار ہوسکتا ہے۔یاہو حکومت میں شامل دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر فلسطینی قیادت کے ممکنہ طور پر منظر سے ہٹ جانے کو پورے غربِ اردن پر اسرائیل کے مکمل کنٹرول کے لیے ایک موقع غنیمت سمجھ رہے ہیں۔

تین منظرنامے

فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کی تین ممکنہ صورتیں ہوسکتی ہیں۔پہلی،فلسطینی قیادت ازخود ہی اس کو ختم کرنے کا ا علان کردے۔عمررسیدہ محمود عباس جلد ہی اپنی اکاسویں سالگرہ منانے والے ہیں،وہ اور ان کے دیرینہ ساتھی اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتے یا امن عمل کے بارے میں التباس کا شکار نظر آتے ہیں۔وہ شاید اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے یا اس اقدام کی دھمکی ہی سے اسرائیل حقیقی امن عمل کی تجدید کے بارے میں غور کرسکتا ہے۔فلسطینی اتھارٹی فلسطینیوں کے اس کی قیادت کے بارے میں منفی رائے سے بھی لاعلم نہیں ہے اور شاید وہ دھکا دینے سے قبل ہی کود پڑنے کو تیار ہوجائے۔

دوسرا منظرنامہ یہ ہوسکتا ہے کہ پی اے داخلی یا بیرونی دباؤ کے آگے جھک جائے اور وہ مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دے۔اگر اسرائیلیوں کو چاقو گھونپنے یا تشدد کے دوسرے واقعات میں اضافہ ہوجاتا ہے تو پھر اسرائیل اور حتیٰ کہ امریکا کی جانب سے بھی سیاسی ،اقتصادی اور فوجی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس سے فلسطینی اتھارٹی کی خدمات مہیا کرنے کے لیے صلاحیت متاثر ہوگی اور یوں اس طرح اس کی ساکھ اپنے ہی لوگوں میں مزید متاثر ہوگی۔

تیسرا ممکنہ منظرنامہ یہ ہوسکتا ہے کہ قیادت قانونی جواز ہی کھو بیٹھے اور وہ لوگوں کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔۔اس سے داخلی بدامنی پیدا ہوگی۔یہاں تک کہ متشدد انتفاضہ شروع ہوسکتی ہے اور اس سے موجودہ تمام صورت حال تہس نہس ہوسکتی ہے۔

اگر ان تینوں میں سے کوئی بھی منظرنامہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو فلسطینی اور اسرائیلی دونوں ہی خطرناک صورت حال سے دوچار ہوں گے۔اس کا مطلب امن وامان کا مکمل خاتمہ اور اقتدار کا خلا ہوگا۔اس سے فلسطینی معاشرے کے ناراض عناصر بشمول جنگجو بنیاد پرست کیمپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس صورت حال کی سب سے بڑی فاتح ممکنہ طور پر حماس ہوسکتی ہے اور وہ غزہ کی پٹی سے غربِ اردن تک اپنا اثرورسوخ بڑھا سکتی ہے۔

سلامتی

گذشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے فلسطینی اتھارٹی کے مکنہ انہدام کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے اسرائیلیوں کو یہ یاددہانی کرائی تھی کہ ان کے اپنے سکیورٹی حکام کے مطابق مغربی کنارے میں فلسطینی سکیورٹی فورسز کے تیس ہزار اہلکار کنٹرول سے باہر ہوتی ہوئی امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

گذشتہ سات سال کے دوران غزہ کے ساتھ اسرائیل کی تین جنگوں کے دوران بھی مغربی کنارے میں صورت حال قدرے پُرامن رہی تھی اور یہ سب کچھ فلسطین کی سیاسی قیادت اور اس کی سکیورٹی فورسز کی وجہ سے ہوا تھا۔

مزید برآں اگر فلسطینی اتھارٹی فعال نہیں رہتی ہے تو اس کے ڈیڑھ لاکھ ملازمین کو تن خواہیں بھی ادا نہیں کی جا سکیں گی اور جنھیں پی اے کی جانب سے خدمات اور فوائد مل رہے ہیں،وہ بھی ان سب سے محروم ہوجائیں گے۔اس سیاسی اور اقتصادی بریک ڈاؤن سے فلسطینیوں کے غم وغصے میں اضافہ ہی ہوگا،فلسطینی معاشرے میں تقسیم گہری ہوگی، وہ سخت گیری کی جانب راغب ہوں گے اور اس سب کا خمیازہ اسرائیل ہی کو بھگتنا پڑے گا۔

لیکن چونکہ وہ ایک قابض قوت ہے اور بیشتر فلسطینی اس کو ایسا ہی سمجھتے ہیں مگر اس نے امن عمل اور فلسطینیوں کو درپیش مشکلات میں اپنے حصے کی ذمے داری قبول کرنے سے ہمیشہ گریز ہی کیا ہے۔مزید برآں اسرائیل چونکہ ایک قابض قوت ہے تو بین الاقوامی برادری اس کو ہی صورت حال اور غربِ اردن میں اس کی حکمرانی کے تحت رہنے والوں کی فلاح وبہبود کی ذمے دار قرار دے گی۔

قانونی جواز

فلسطینی اتھارٹی کے مستقبل سے متعلق سوال نے اس کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی پیچیدگی کو بھی نمایاں کردیا ہے۔اس سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوگئی ہے کہ غربِ اردن بتدریج ایسی کسی قانونی حاکمیت یا مؤثر اقتدار سے محرومی کی جانب گامزن ہے جو استحکام کو یقینی بنا سکے۔اسرائیلی قبضے کا کبھی کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں رہا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کا قانونی جواز خاتمے کے قریب ہے۔یہ بیس سال سے زیادہ عرصے قبل ایک عبوری حکومت کے طور پر قائم کی گئی تھی تاکہ وہ حق خود ارادیت کی شاہراہ پر چلتے ہوئے اسرائیل کا فوجی قبضہ ختم کرائے لیکن وہ ان دونوں مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔گذشتہ ایک عشرے کے دوران فلسطینی علاقوں میں نہ تو صدارتی انتخابات ہوئے ہیں اور نہ پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا گیا ہے جس سے صورت حال اور بھی بدتر ہوئی ہے۔فلسطینی انتظامیہ بدعنوانیوں کے الزامات سے لتھڑی ہوئی ہے اور معیشت بہتر ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔

مشکل صورت حال میں اقتدار سے کچھ بھی منسوب کیا جاسکتا ہے جس سے مناسب انداز میں کام کرنے کی صلاحیت محدود تر ہوجاتی ہے۔اسرائیلی قبضے اور اس کے غزہ میں حماس سے گہرے اختلافات ہیں۔تاہم برے نظم ونسق سے بہت کچھ منسوب کیا جاسکتا ہے۔

عام فلسطینیوں میں مایوسی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق دوتہائی فلسطینیوں نے صدر محمود عباس کے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔انھوں نے تنازعے کے دو ریاستی حل کو بھی مسترد کردیا ہے۔اسرائیلیوں پر چاقو حملے اور مسلح انتفاضہ شروع کرنے کی بھی ایک بڑی اکثریت حامی ہے۔

یہ اعداد وشمار باعث تشویش ہیں۔یہ فلسطینی اتھارٹی کی ایک ایسے وقت میں کم زوری اور ناکامی ظاہر کرتے ہیں جب اسرائیل کو اس کے مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔فلسطینی قیادت کی غلطیاں خواہ کچھ ہی رہی ہوں،نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے فلسطینی اتھارٹی کو قدم بہ قدم نقصان پہنچانے میں جو کردار ادا کیا ہے،اس کو تسلیم کرنا چاہیے۔انھیں شاید ایک دن پچھتانا پڑے گا کہ انھوں نے موجودہ فلسطینی قیادت کو بااختیار بنانے کے لیے کیوں کچھ نہیں کیا تھا۔انھوں نے فلسطینی اتھارٹی کو امن کا برابر کا حصے دار سمجھنے کے بجائے اسرائیلی سکیورٹی کا ایک سب کنٹریکٹر ہی سمجھا ہے۔

--------------------
(العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا یوسی میکل برگ کے مضمون میں بیان کردہ نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.