.

جوہری معاہدہ اور ایران کے ضائع شدہ مواقع

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغرب اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کو کسی معاہدے کی جانب گامزن ہونے کے وقت سے بہت سے لوگ تہران اور اس کے صبر واستقلال کی فتح قرار دے رہے تھے مگر یہ ایران کی فتح نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کی فوجی نوعیت سے دستبردار ہوگیا ہے اور اس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ کم سے کم آیندہ پندرہ سال تک فوجی جوہری پروگرام کو شروع نہیں کرے گا۔اس عرصے کے دوران میں بین الاقوامی ادارے اس کی تنصیبات کا معائنہ کرسکیں گے۔ان میں سے بعض تنصیبات کی چوبیس گھنٹے کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔

ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر عمل پیرا ہوکر بیس سال کا قیمتی وقت ،اربوں ڈالرز اور بہت سے اقتصادی مواقع ضائع کردیے ہیں اور بالآخر اس نے اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے محدود کرنے سے اتفاق کرلیا ہے۔یہ سب کچھ تو جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں تمام مسائل ،مشکلات اور نقصان کے بغیر بھی حاصل کیا جاسکتا تھا۔ایران اب 2030ء میں اپنے اصل منصوبے کے مطابق جوہری پروگرام کی فوجی صلاحیت پر کام بحال کرسکے گا۔کیا ایرانی رجیم کا یہ خیال ہے کہ وہ بآسانی یہ سب کچھ کرسکے گا اور کیا وہ اس وقت تک اقتدار میں رہے گا۔

ایران کا منصوبہ جدید تاریخ میں سب سے بڑی سیاسی اور قومی ناکامی ہے۔رجیم کو صنعتی اور پیٹرولیم صلاحیتوں کو ترقی دینے میں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ہے۔اس دوران اس نے اپنے شہریوں کو بھی ایک بہتر اور شائستہ زندگی سے محروم رکھا ہے حالانکہ ایران کے پاس اپنے ہمسایہ امیر خلیجی عرب ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ وسائل تھے۔

یہ تو دراصل صدام حسین کا ورثہ تھا جب انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ عراق کے تحفظ کے لیے بڑی فوج چاہتے ہیں لیکن دراصل وہ توسیع اور بالادستی چاہتے تھے۔اس کا انھیں بہر صورت خمیازہ بھگتنا پڑا۔انھیں صدارت کے منصب سے محروم ہونا پڑا اور ان کی زندگی بھی جاتی رہی تھی۔ایران نے بھی 1980ء کے عشرے میں عراق کے ساتھ خونیں جنگ کے دوران اسی طرح کے غیر لچک دار رویّے کا مظاہرہ کیا تھا۔انجام کار دونوں کو پسپائی اور جنگ اور خونریزی کے خاتمے پر متفق ہونا پڑا تھا۔

علاقائی اثر و رسوخ

بدقسمتی سے ایران کو ابھی حقیقت کا سامنا کرنا ہے۔اس کے سخت گیر اب بھی 1979ء والی سوچ کے حامل ہیں اور وہ اسی طرح سوچتے ہیں۔ایران آٹھ کروڑ کی آبادی کے ساتھ ایک بڑا ملک ہے۔وہ بہت زیادہ اقتصادی صلاحیتوں کا مالک ہے۔اس لیے اس کو اپنا درجہ بڑھانے کے لیے ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہنے کا انتخاب کرلیتا اور وہ سائنس اور اقتصادیات کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتا تو وہ ان شعبوں میں خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے قابل ہوجاتا۔دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے یہی تو کیا ہے۔ایران اب جوہری معاہدے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بے پایاں اقتصادی مواقع کی بات کررہا ہے لیکن اس نے قریباً ربع صدی تک داخلی اور علاقائی سطح پر ان مواقع سے آنکھیں بند رکھی ہیں۔

----------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.